حضرت علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمتہ للہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل اللہ حضرات پر مختلف اوقات میں پرندوں اور جانوروں کی یہ بولیاں منکشف ہوئیں۔
(1) تيتر الرحمن على العرش استویٰ ” پڑھتا رہتا ہے۔
(2) باز” في البعد من الناس انس“ پڑھتا رہتا ہے۔
(3) گدھ اس انداز میں ہمیں درس عبرت دیتا ہے یا ابن آدم عش ما عشت فان اخرك الموت
(4) فاخته “ کہتی ہے يليت الخلق لم يخلق “
(5) مور ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے” كما تدين تدان
(6) مینڈک یہ پچ پڑھتا ہے سبحان ربی القدوس
(7) طوطا‘ دنیا سے آخرت کی طرف اس انداز میں رہنمائی کرتا ہے” ویل لمن الدنيا همه "
(8) سنگ خورہ زبان کے بے جا استعمال کرنے والے لوگوں کو ان الفاظ میں درس دیتا ہے ۔ من سکت سلم
( بحوالہ کتاب: تفسیر روح المعانی صفحہ 512 ناشر : مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے.
