ایڈیٹر ماہنامہ انوار القرآن کراچی لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دفعہ بنگلہ دیش کا سفر کیا۔ اس سفر میں حضرت مولانا مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اجمل خان بھی ساتھ تھے۔
حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جس کو آقا سرور کونین صلا لا السلام کی شان میں جو جو اشعار آتے ہیں ، وہ سنائے ، سب نے مختلف اشعار سنائے ۔ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی باری آئی تو انہوں نے مولانا عبد الرحمان جامی رحمتہ اللہ علیہ کا وہ قصیدہ سنایا ، جسے انہوں نے کشتی میں سفر کرتے ہوئے پڑھا تھا اور پڑھنے کے دوران ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اُچھل اچھل کر کشتی میں آئے تڑپنا شروع ہو گئیں حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قصیدہ سب کے سامنے سنانا شروع کیا تو دریا کی مچھلیاں پانی کی سطح پر آکر کشتی کے ارد گرد جھومنا شروع ہو گئیں۔ پھر بے خود ہو کر کشتی کے اندرا چھل کر آئیں اور وہاں آ کر تڑپنا شروع ہوگئیں ۔ کشتی میں موموجود بڑے بڑے علماء پر سناٹا طاری ہو گیا ، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ حبیب کبر یا علی ما از پیہم کی شان میں قصیدہ پڑھتے رہے۔،،
حلال حرام، جائز ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!
