علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بار ہا یہ تذکرہ ملتا ہے کہ انہیں حالت بیداری میں حضور صلى الله عليه وآله وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی عقل میں یہ بات بھی نہیں سماتی اور وہ فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں کہ ایسا کس طرح ممکن ہے؟ حالانکہ یہ کون سی نئی بات ہے؟
ہمارے اکابر مشائخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ حضور صلى الله عليه وآله وسلم کے ساتھ اکثر ملاقات کیا کرتے تھے۔ مثلاً : علامہ جلال الدین سیوطی ی علیہ کو ایک فریادی نے درخواست کی کہ وہ بادشاہ قیتبائی کے پاس جاکر اس کی سفارش کر دیں ۔ انہوں نے اس کو جواب دیا : میرے بھائی میں 75 مرتبہ حضرت سلطان الانبیاء صلى الله عليه وآله وسلم کی زیارت بابرکت سے مشرف ہو چکا ہوں ۔ سوتے اور جاگتے میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم سے بعض احادیث کی صحت کے بارے میں دریافت کر چکا ہوں ۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر میں سفارشی بن کر آپ کے ساتھ بادشاہ کے پاس گیا تو پھر مجھے زیارت نصیب نہ ہوگی۔ اس لیے میری طرف سے معذرت قبول فرمائیں کیونکہ میں شرف زیارت کو شرف بادشاہی پر ترجیح دیتا ہوں۔
تفصیل کیلئے دیکھیں کتاب : فیض الباری شرح صحیح بخاری، سعادت الدارین صفحه 437، جامع کرامات اولیاء صفحہ نمبر 981 خصائص الکبری فی معجزات خیر الوری، تاریخ الخلفاء ، میزان الکبری صفحہ 44
بحوالہ کتاب : عاشقان رسول صلى الله عليه وآله وسلم کو خواب میں زیارت النبی سلام صفحہ نمبر 94 ، مصنف : مولانا محمد روح اللہ نقشبندی ناشر: مکتبہ عمر کراچی
