خانقاہ مجتبیٰ گنج میں ذکر بالجهر مخصوص تعداد اور مخصوص طریقے سے کروایا جاتا ہے، اس کی حقیقت معالجہ کی طرح ہے۔ جیسا کہ قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اشغال صوفیاء بطریقہ معالجہ کے ہیں اور سب کی اصل نصوص سے ثابت ہے، جیسا کہ علاج کرنا تو ثابت ہے مگر شربت بنفشہ حدیث سے ثابت نہیں ۔ ایسے ہی (صوفیا ئے کرام کے) سب اذکار کی اصل ہیئت ثابت ہے، جیسے توب بندوق کی اصل ثابت ہے، اگرچہ اس وقت میں موجود نہ تھی، لہٰذا یہ بدعت نہیں ۔ (بحوالہ فتاویٰ رشید یہ مع تالیفاتِ رشیدیہ ص 194 مرتب حضرت مولانا محمد گنگوہی ناشر: کتب خانہ دیو بند)
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ بعض مشائخ بھی خاص طریقے سے کلمہ کا ذکر اپنے مریدین کے لیے تجویز کرتے ہی۔ اس میں ہر دفعہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کے پڑھنے کو بھی نہیں بتاتے، بلکہ کچھ تعداد مقرر کرتے ہیں کہ آپ کا جوتا چوری نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا: لگے میں جس تجویز کرنے میں ڈھیروں منافع ہیں، جن کو مشائخ جانتے ہیں اور وہ منافع اس کے خلاف کرنے سے حاصل نہیں ہوتے، لیکن ثواب ہر صورت میں حاصل ہو جاتا ہے اور ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے، لہٰذا اس کی عبادت ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا (فتاویٰ محمودیہ ج 6 ص 41 ناشر: دار الافتاء فاروقیہ کراچی)
مولانا نثار الحسینی ذکر بالجہر کی مکمل تفصیل پر ایک کتاب لکھی ہے: (”ذکر بالجہر کا شرعی حکم“ ناشر: خانقاہ امدادیہ، حضر و اٹک ، پاکستان)
اسی طرح مولانا مفتی رضا الحق صاحب رئیس دار الافتاء جنوبی افریقہ نے بھی ذکر بالجہری کے ثبوت میں پوری کتاب لکھی ہے (”ذکر اجتماعی و جهری، شریعت کے آئینہ میں“ ناشر: زم زم پبلشرز کراچی)
محترم قارئین! اگر اب درج بالا کتابوں کا سرسری مطالعہ بھی کرلیں تو ان شاء اللہ اس بات پر مطمئن ہو جائیں گے کہ تبلیغ خانے میں ہونے والا ذکر بالجهر صوفیاء واکابر و اسلاف کی ترتیب پر ہے۔ لہٰذا ہمیں اکابرینِ اُمت پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنے عقائد اور اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔
Baron Par Etiraz Nahi Apni Islah Ki Zarorat 121
