جنات سے گفتگو کرنے والے صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين

محدث زمانہ مفسر یگانہ حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی روی علیہ فرماتے ہیں: امام ابن ابی الدنیار نے اپنی کتاب ” مكائد الشیطان میں اور علامہ ابوالشیخ ایشیعلیہ نے "کتاب العظمیہ میں حضرت ابو اسحاق ریلی علیہ سے روایت کی ہے کہ ایک رات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں گئے تو وہاں شور سنا۔ انہوں نے آواز دے کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ وہاں سے ایک جن کی آواز آئی کہ ہم پر قحط پڑ گیا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ آپ کے باغ میں سے کچھ پھل لے لوں، لہذا آپ خوشی خوشی ہمیں کچھ ہدیہ عنایت کر دیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے لے جاؤ مگر کیا تم مجھے وہ چیز نہیں بتاؤ گئے جس کے ذریعے ہم تم سے پناہ میں رہیں؟ اس جن نے کہا: وہ چیز تو آیت الکرسی اسی طرح امام ابن ابی الدنیا علی مکاند الشیطان میں حضرت ولید بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک درخت کے پاس گیا تو اس نے وہاں کچھ حرکت سنی۔ اس نے آواز دی تو کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اس نے آیتہ الکرسی پڑھی تو اس کے پاس ایک جن اتر آیا۔ اس آدمی نے پوچھا: ہمارا ایک آدمی بہار ہے ہم اس کا علاج کس چیز سے کریں؟ جن نے کہا: اسی چیز سے جس کے ذریعے تم نے مجھے درخت سے نیچے اتارا ہے یعنی آیتہ الکرسی کے دم سے اس کا علاج کرو۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 240 ناشر: مکتبہ برکات المدینہ جامع مسجد بہار کراچی) محترم قارئین ! جنات سے ملاقات اور گفتگو کرنا ان سے وظائف پوچھنا یا ان سے احادیث کی روایات لینا تو ہمارے تمام اکابر سے تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں انہی اکابرین امت کے سچے خادم اور تعلیمات اکابر کے مخلص داعی ومبلغ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی مخلوق خدا کو جنات کے شر سے بچنے کے وظائف قوم جنات ہی سے پوچھ پوچھ کر ماہنامہ عبقری کے ذریعے بتا رہے ہیں ۔ جو اس چیز کا واضح ثبوت ہیں کہ ہر دور میں ایسے اولیائے کرام موجود رہیں گے، جن پر اللہ تعالیٰ کا ئنات کا ماورائی نظام کھول دیتا ہے۔ انسانوں کی طرح جنات بھی ایسے اولیائے کرام سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔

حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی زبانی جنات سے ملاقات کا ثبوت

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ شیخ ابو الفضل بن جو ہری مصر میں علم اور ولایت کا دروازہ تھے۔ امام یافعی رحمة الله عليه اپنی کتاب ” روض الریاحین میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے شیخ ابو الفضل جو ہری رحمة الله عليه کے متعلق سنا تو ان کی زیارت کیلئے مصر پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو قیمتی لباس پہنے ایک حسین و جمیل شیخ جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ کیا اللہ والے ایسے ہوتے ہیں؟ لہذا میں انہیں اسی حال میں چھوڑ کر واپس چل پڑا ۔ اتنے میں مصر کی گلی سے ایک عورت واویلا کرتی ہوئی میرے سامنے آئی اور کہنے لگی : حضور! میں نے بڑی مشکل اور حفاظت سے اپنی بیٹی کو پال کر جوان کیا اور پھر ایک نیک اور با صلاحیت جو ان کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ آج رات اس کی رخصتی ہوئی تھی، مگر اس پر جن کا عارضہ ہو گیا ہے اور اس کی عقل ماری گئی ہے۔ میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو ایک خوبصورت لڑکی تکلیف کی وجہ سے دائیں بائیں گھور رہی تھی۔ میں نے اس کے سامنے مختلف قراتوں میں قرآن پاک کی دس آیات پڑھیں تو اس کے اندر سے جن بولنے لگا جس کی باتیں دوسرے گھر والوں نے بھی سنیں۔ وہ کہنے لگا: اے شیخ مجھے خبرنہیں کہ ہم 70 جنات ہیں اور سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ تو نے تو شیخ ابوالفضل جو ہری رحمة الله عليه کو ظاہری وضع قطع سے حقیر سمجھا ہے، مگر ہم ان کا اکرام کرتے ہیں۔ آج ہم سب مصر میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے آئے تو یہاں سے گزرتے ہوئے اس لڑکی نے ہم پر نجاست پھینک دی۔ میرے باقی دوست تو بچ گئے مگر میرا جسم نا پاک ہو گیا اور میں اس شیخ کامل رحمة الله عليه کے پیچھے نماز پڑھنے سے محروم رہ گیا۔ لہذا میں نے اسی غصے کی وجہ سے اس کے دماغ پر قبضہ کر لیا ہے۔ شیخ ابو بکر رحمة الله عليه نے کہا: تو پھر میں تجھے انہی شیخ ابوالفضل رحمة الله عليه کی حرمت کی قسم دیتا ہوں کہ اس بے چاری لڑکی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جن نے کہا: ٹھیک ہے میں ان کی خاطر تیری بات مانتا ہوں ۔ لہٰذا اس لڑکی کو آرام آگیا اور اس نے شیخ ابوبکر سے حیا کرتے ہوئے چہرے پر پردہ ڈال لیا۔ لڑکی کی ماں نے انہیں بہت دعائیں دیں اور وہ شیخ ابوالفضل جوہری رحمة الله عليه کے متعلق اپنی بدگمانی پر شرمندہ ہوتے ہوئے واپس ان کی محفل میں پہنچے۔ شیخ ابو الفضل رحمة الله عليه نے انہیں دیکھا تو دور سے فرمایا: ہم شیخ ابوبکر رحمة الله عليه کو خوش آمدید کہتے ہیں، جنہوں نے ہمارے متعلق جنات کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کی۔ اس کے بعد شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے توبہ کی اور بہت عرصہ ان کی صحبت میں گزارا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اللہ تعالی سے اس بات کی توفیق مانگی ہے کہ آئندہ میں نیک لوگوں کی کرامتوں کا انکار نہ کر سکوں۔ بحوالہ کتاب: جمال الاولیاء صفحہ 659 مصنف : علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه ترجمه مولانا جمیل احمد تھانوی رحمة الله عليه ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی بازار لاہور

خوبصورت آواز سن کر شاہ جنات کی بیٹی فدا ہو گئی

قلعہ میہاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اہل حدیث بزرگ قدوۃ السالکین مولانا غلام رسول رحمة الله عليه ایک مرتبہ اہل سیالکوٹ کے گاؤں ستراہ سندھواں میں تشریف لے گئے تو پتہ چلا کہ وہاں کے نمبر دار کا اکلوتا بیٹا فالج میں مبتلاء ہے۔ وہ خوبصورت جوان اور خوش آواز تھا۔ نمبردار نے اس کا علاج بہت جگہوں سے کرایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ سب طبیبوں نے اسے لا علاج قرار دے دیا۔ نمبردار اپنے بیٹے کو لے کر مولانا غلام رسول دینیہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ مولانا رحمة الله عليه نے مریض سے فرمایا : السلام علیکم ! تمہارا نام کیا ہے؟ جواب میں اس نے جو نام بتایا اسے سن کر نمبر دار کہنے لگا کہ یہ میرے بیٹے کا نام تو نہیں ہے۔ مولانا رحمة الله عليه یہ سمجھ گئے کہ اسے جن کا مسئلہ ہے۔ لہذا انہوں نے جن سے بات چیت شروع کر دی اور پوچھا کہ اس جو ان کو کیوں پکڑا ہوا ہے؟ وہ جن بولا کہ ایک رات سحری کے وقت ہمارا گزران کے کھیتوں سے ہوا تو ہم وہاں ٹھہر گئے۔ یہ نوجوان اس وقت بیلوں کی مدد سے کنویں کا پانی نکال رہا تھا۔ اسی دوران اس نے نہایت خوش الحانی سے چند اشعار گنگنائے تو ہمارے بادشاہ کی بیٹی اس پر عاشق ہو گئی ۔ شاہ جنات کو غیرت آئی اور اس نے مجھے حکم دے دیا کہ اس جوان پر مسلط ہو جاؤ اور اس کا جسم سکھا سکھا کر اسے موت کے منہ میں دھکیل دو۔ اس لیے میں اپنے بادشاہ کی طرف سے مامور ہوں ۔ مولانا غلام رسول نے پوچھا: اس وقت تمہارا بادشاہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: کشمیر میں۔ مولانا رحمة الله عليه غلام نے فوراً کچھ پڑھا تو شاہ جنات بھی حاضر ہو گیا اور مولانا غلام رسول رحمة الله عليه سے باتیں کرنے لگا۔ بالآخر اس جوان کو چھوڑنے پر راضی ہوا اور اپنے جن کو لے کر واپس چلا گیا۔ بحوالہ کتاب تذکره مولانا غلام رسول رحمة الله عليه قلعوی صفحه 286 مصنف مولانا محمد اسحاق بھٹی ناشر: مکتبہ سلفیہ شیش محل روڈ لاہور) محترم قارئین ! جب تک کسی چیز کے نقصانات کا پتہ نہ ہو تب تک احتیاط اور بچاؤ کی تدبیر نہیں کی جاتی ۔ ماں اپنے بچے کو کہتی ہے خبر دار! زمین پر گری ہوئی ٹافی مت کھانا کیونکہ اب اس پر جراثیم لگ چکے ہیں۔ اسی طرح جب تک ہمیں جنات کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوں گی تب تک ہم اپنا بچاؤ نہیں کرسکیں گئے اور انجانے میں جنات کے ان دیکھے جراثیم ہمارے ساتھ لگ کر ہمیں بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاء کرتے رہیں گئے جیسا کہ درج بالا واقعے میں بتایا گیا ہے کہ اس خوبصورت نوجوان کے فالج کی اصل وجہ جنات کا حملہ تھا۔

صوبہ بلوچستان میں جنات کا مدرسہ جامعہ دار الھدی

ضلع پنجگور پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ایک ضلع ہے۔ مولانا حاجی احمد علی صاحب پنجگوری ( سابق مدرس مدرسہ اسلامیہ عربیہ احرار الاسلام لیاری کراچی) لکھتے ہیں کہ میرے مؤکل جن مولانا عبد الرحمان صاحب نے پنجگور میں جنات کا ایک مدرسہ قائم کیا ہوا ہے جس کے مدیر وہ خود ہیں اور نائب مدیر جن مولانا عبدالجبار صاحب ہیں۔ مؤکل عبد الرحمان صاحب کے بقول اس وقت (1980ء میں ) اس مدرسے کے جنات طلباء کی تعداد 2309 ہے۔ جن میں سے اکثر جنات تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ ایک دفعہ 31 جنوری 1980 ء کو وہ تمام جنات میرے پاس بھی تشریف لائے میں اس وقت اپنے مدرسے میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے مؤکل عبد الرحمان صاحب ہمارے درمیان ترجمان تھے۔ میں نے ان طلباء جنات سے مدرسے کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے : ہمارے مدرسے کا نام مدرسہ عربیہ دار الھد کی ہے جو ضلع پنجگور میں شہر عیسی کورک کے سامنے واقع ہے اور اب اس میں نومسلم جنات بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہمارا مکمل نصاب درجہ خامسہ تک ہے نوٹ: اس مدرسے میں سب سے بڑی عمر کے جن محمد ادریس صاحب درجہ سابعہ تک نخبۃ الفکر مجھ سے پڑھ چکے ہیں اور مؤکل عبد الرحمان صاحب کی طرح ہر وقت میرے ساتھ ہوتے ہیں. ( بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار صفحہ 388 مصنف: مولانا احمد علی صاحب پنجگوری :ناشر کتب خانہ مجید یه بیرون بوہر گیٹ، ملتان) محترم قارئین! اگر جنات کی دنیا سے ہمار اواسطہ نہیں پڑا تو ضروری نہیں کہ ان کا وجود ہی نہ ہو یا ان سے ملاقات کرنا ان سے وظائف پوچھنا یا انہیں تعلیم دینا بالکل ناممکن ہو۔ ہمیں ایسے واقعات کا انکار کرنے کی بجائے اپنا مطالعہ بڑھانے اور اپنی معلومات کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

علامہ ابوبکر الجزائری کی ہمشیرہ پر جنات کا ظلم

مدینہ یونیورسٹی کے سینئر استاذ مشہور کتاب ” منہاج المسلم“ کے مصنف علامہ ابوبکر جابر الجزائری اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : یہ میری عزیز بہن سعدیہ مرحومہ کا دردناک سانحہ ہے۔ میں نے بچپن میں اس المیہ کو آنکھوں سے دیکھا تھا، تب سے میرے دل پر اس سانحے کا صدمہ ہے۔ قصہ یوں ہے کہ ایک روز ہم چھوٹے چھوٹے بچے کھجور کی لکڑیوں کا گٹھا بنا کے رسی کی مدد سے چھت پر چڑھا رہے تھے میری بہن سعدیہ جو عمر میں مجھ سے کچھ بڑی تھی وہ چھت پر کھڑی ہو کے لکڑیوں کو ایک سائیڈ پر رکھتی جاتی تھی ۔ اسی دوران ایک گٹھا زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے اس بے چاری سے اوپر نہ کھینچا گیا، بلکہ رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور گٹھا نیچے گر گیا۔سوئے اتفاق سے گٹھا جس جگہ گرا اس جگہ کوئی جن بیٹھ کر کھانا کھا رہا تھا۔ اس خبیث جن نے انجانے میں ہونے والی اس غلطی کا بدلہ اس طرح لینا شروع کیا کہ جونہی رات ہوتی یہ آکر نیند میں میری بہن کا گلا دبانا شروع کر دیتا اور بے چاری سعدیہ آدھی ذبح کی گئی بکری کی طرح تڑپنے لگتی، بستر پر ایڑیاں رگڑتی اور جب تک ادھ موئی نہ ہو جاتی وہ ظالم جن اس کو نہ چھوڑتا۔ ہر ہفتے میں کئی دن اسی طرح ہوتا۔ ایک دن سعد یہ مرحومہ کی زبانی اس ملعون چن نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ میں اس دن کی زیادتی کا بدلہ لے رہا ہوں ۔ یہ سلسلہ مکمل بیس سال تک چلتا رہا کہ ہفتے میں کئی راتیں میری معصوم بہن تڑپتی اور موت کو قریب سے دیکھ کر واپس لوٹ آتی ۔ آخر ایک دن اس ظالم نے اتنے زور سے گلا دبایا کہ وہ بے چاری ایڑیاں رگڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اس کا مقام بلند فرمائے ۔ آمین یہ کوئی (من گھڑٹ ) افسانہ نہیں بلکہ ہمارے سروں پر پڑی ہوئی افتاد ہے اس کے سچا ہونے کی نشانی اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ ہم نے اس کو اپنی آنکھوں سے مسلسل بیس برس تک دیکھا ( بحوالہ کتاب : مومن کے عقائد صفحہ 276 مصنف: فضیلۃ الشیخ ابوبکر جابر الجزائری ناشر : نعمانی کتب خانہ حق اسٹریٹ اردو بازار لاہور ) محترم قارئین ! اللہ تعالیٰ ہمارے اکابر کو جزائے خیر عطا فرمائے، جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں پیش آنے والے جنات کے پر اسرار واقعات کی تصدیق کی اور ان کے ظلم سے بچنے کیلئے اعمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم وظائف اور تعویذات ہم تک پہنچائے۔ الحمد للہ ہمیں اپنے اکابر پر سو فیصد اعتماد ہے اور ان کے بتائے ہوئے روحانی عملیات وظائف دم درود تعویذ اور دھاگے ہمارے لیے قدم قدم پر سلامتی کا ذریعہ ہیں۔

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہمزاد

مولانا صاحب ! میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے جن میں بعض اہل علم بھی شامل ہیں، کہ جنات کے وجود کو ماننا’ جنات کا انسانوں کو تنگ کرنا انہیں بیماریاں لگادینا اور انہیں گناہوں میں مبتلاء کرنا کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں، جس پر ایمان رکھنا ضروری ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کے متعلق ایک مومن کا عقیدہ کیا ہونا چاہیئے ؟ (سائل : قاری عبدالمعید اعوان مری) جواب : محترم قاری صاحب ! آپ نے بہت اچھا سوال اٹھایا ہے آج کل اس قسم کے باطل عقائد بڑی تیزی سے جنم لے رہے ہیں، جن کی زد میں عوام تو عوام بد قسمتی سے خواص بھی مبتلاء ہورہے ہیں ۔ عالم اسلام کے مشہور مفکر، مدینہ یونیورسٹی کے سینئراستاذ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ممتاز مبلغ علامہ ابوبکر الجزائری اپنی کتاب ”عقیدۃ المومن“ میں لکھتے ہیں : بندہ مومن یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ دیگر مخلوقات کی طرح جنات کی بھی ایک دنیا آباد ہے جس کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ اس لیے ان (جنات) کا انکار کرنا صریح کفر اور کتاب و سنت کو نہ ماننے اور شریعت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قسم کی جسارت نہیں کر سکتا جو اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے نقصان پہنچانے اور ان سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنے کے متعلق کئی احادیث ارشاد فرمائی ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ فرمایا : تم میں سے ہر ایک پر اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمزاد جن مؤکل کر دیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ پر بھی؟ فرمایا: ہاں مجھ پر بھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی اور وہ میرا تابع فرمان ہو گیا ہے اب وہ مجھے نیکی کی بات کے سوا کوئی مشورہ نہیں دیتا. (بحوالہ مسلم 8/139) اسی طرح رات کا کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر سو جانا سخت نقصان دہ عمل ہے حضور سیل صلى الله عليه وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ : شیطان (جن ) بہت زیادہ چوکنا اور حساس ہوتا ہے اس سے بچتے رہا کرو ۔ جو شخص اس طرح رات بسر کرے کہ اس کے ہاتھوں میں گوشت کی چکنائی وغیرہ کی بو ہو اور وہ راتوں رات کسی جانور کا شکار ہو جائے تو وہ اپنے سوا کسی کو برا بھلا مت کہے۔ (بحوالہ ترمذی ۴۴۸ ابوداؤد ۳۰ ابن حبان) علامہ ابو بکر الجزائری یہ آگے مزید لکھتے ہیں کہ: انسان جن گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے مثلاً زنا کاری اغلام بازی، قتل وغارت شراب نوشی، چوری، کفر وشرک، جھوٹ بے وفائی اور وعدہ خلافی وغیرہ یہ سب جرائم شیطانی اثرات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جب کوئی معالج یہ کہتا ہے کہ فلاں جراثیم سے فلاں بیماری ہوتی ہے اسے تو مان لیا جاتا ہے حالانکہ جراثیم کوکسی نے بھی بذات خود آنکھوں سے نہیں دیکھا ہوتا اس کے برعکس جب کوئی یہ کہے کہ شیطانی اثرات کی وجہ سے تمہارا اندر بگڑ چکا ہے اور اس سے خلاصی پانے کیلئے تمہیں فلاں تدبیر کرنی چاہئے تو اس کو کوئی نہیں مانتا۔ سبحان اللہ ایسی عجیب بات ہے کہ بیماری کے جراثیم کو دل وجان سے تسلیم کرنے والا بڑائی کے جراثیم کا قائل ہی نہیں۔ ( بحوالہ کتاب: مومن کے عقائد صفحہ 255-261 مصنف: علامہ ابوبکر الجزائری ناشر : نعمانی کتب خانہ اردو بازار لاہور )

جنات کے نماز پڑھنے کی جگہ

امام ابن اثیر لکھتے ہیں : ایک حدیث میں رسول اللہ صلی الہ سلم کا ارشاد مبارک ہے کہ تم لوگ گھاس والی جگہ پر قضائے حاجت نہ کیا کرو کیونکہ یہ جنات کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔ ( بحوالہ کتاب: النہایہ لابن الاثیر ناشر: دار المعرفة بیروت لبنان) نوٹ: یادر ہے کہ جنات کے نماز پڑھنے کا اصل مقام تو مساجد ہی ہیں، مگر اس حدیث میں گھاس والی جگہ اس لیے بیان فرمائی گئی ہے تا کہ انسان بے خبری میں وہاں پیشاب کر کے نیک جنات کو ایذاء نہ پہنچائے۔ محترم قارئین ! جو لوگ عبقری پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں صرف جنات ہی سے ڈرایا جاتا ہے، انہیں چاہئے کہ ایک مرتبہ دقت نظر کے ساتھ احادیث کا مطالعہ کریں ان شاء اللہ جگہ جگہ جنات کا ذکر بھی ملے گا ان کی ترتیب زندگی سے شناسائی بھی حاصل ہوگی ان کے نقصان پہنچانے کا طریقہ بھی پتہ چلے گا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر بھی ملیں گی۔

عبقری دفتر لاہور سے دیا جانے والا ایسا تعویذ جسے گھر میں لگاتے ہی جنات بھاگ جائیں

آج کے کم پڑھے لکھے لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حرز ابی دجانہ میں ذکر کی جانے والی روایت موضوع من گھڑت ہے اور اسکا کوئی ثبوت نہیں۔ ایسے دوستوں کی خدمت میں ان اکابر کی کتابوں کے نام پیش خدمت ہیں جنہوں نے اس تعویذ کو اپنی کتابوں میں بطور ترغیب ذکر کیا ہے کیا یہ لوگ علم نہیں رکھتے تھے یا آج ہم زیادہ علم رکھتے ہیں۔۔۔۔؟ کیا یہ ہمارے بڑےنہیں تھے یا آج ہم ان سے زیادہ بڑے ہو گئے ہیں۔۔۔۔!!! هذَا كِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَسُولِ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِلَى مَنْ يَطْرُقُ الدَّارَ مِنَ العُمَّارِ وَالرُّوَارِ إِلَّا طَارِقَا يَطْرُقُ بِخَيْرِ أَمَّا بَعْدِ فَإِنَّ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْحَقِ سَاعَةً فَإِنْ كُنْتَ عَاشِقًا مُوْلِعًا أَوْفَاجِرًا فَهَذَا كِتَابٌ يَنطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَرُسُلُنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ٥ أَتْرُكُوا صَاحِبَ كتابي هذا وَانْطَلِقُوا إِلى عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَإِلى مَنْ يُرْعَمُ أَنَّ مَعَ اللَّهِ الَهَا أَخَرَ لَا إلهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْ : هَالِك إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ امِينَ لَا يُنْصَرُونَ حم عَسَقَ تَفَرَّقَ أَعْدَاءُ اللهِ وَبَلَغَتْ مُجَةُ اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيالْعَظِيْمِ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ حوالہ جات: (1) (دلائل النبوة، کتاب جماع ابواب نزول الوحى …. الخ، ج ۷، ص ۱۱۸) (2) ( دلائل النبوة : ۱۱۸ / ۱۱۹-۷، دوسرا نسخه ۸۸ / ۷ ح ۳۱۰۸) (3) [ لقط المرجان فی أحکام الجان للسیوطی مترجم ( ص ۲۲۹ تا ۲۳۱-(4) امام ابن الجوزی نے کتاب الذکر ، باب حرز آبی دجانة (۱۶۶۰) (5) الخصائص الکبری ص 152 ج 2 ج (6) جمع الجوامع الجامع الكبير للسيوطى ص613 ، ج1 – (7) تنزيهة الشريعة المرفوعة (۳۲۴/۲، ۳۲۵)-(8) نزہۃ المجالس و منتخب النفائس ،مصنف : عبد الرحمن بن عبد السلام الصفوری رحمہ اللہ (المتوفى :894ھ)، ناشر: سعید ایچ ایم کمپنی (المتوفى:894ھ)،ناشر: ،کراچی۔ (9) إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعينمصنف : ابو بکر عثمان بن محمد شطا الدمياطی رحمہ اللہ (المتوفى : 1310ھ ) ۔ (10) مجربات اکابر ص 104 ، 23، مولانا اسحاق ملتانی ، تالیفات اشرفیہ ۔ (11) شرعی علاج ص 306 ،مولانا ابوالمنظفر ظفر احمدت، ہلو کی ۔ (12) دعا ئیں ص 43، تالیف : مولانا لیاقت لاہوری ، ناشر گا باسنزکراچی۔(13) عملیات اکابر ، حسب فرمائش : سید المشائخ حضرت سید انور حسین نفیس الحسینی رحمہ اللہ ، ناشر، نفیس منزل کریم پارک راوی روڈ لاہور ۔ (14) مولانا محمد قطب الدین دہلوی نے ظفر جلیل شرح حصن حصین میں اسے ذکر کیا ہے۔ (15) تجلیات صفدر ، تالیف : حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ ترتیب : مولانا نعیم احمد مدرس : خیر المدارس ملتان، ناشر: مکتبہ امدادیہ ، ملتان۔ (16) ملفوظات محمود الحسن گنگوہی ج2 ص198، ترتیب مفتی فاروق صاحب، ناشر دار الہند زمزم کراچی ۔ (17) ارشاد العاملين، تالیف: علامہ ارشد حسن ثاقب، ناشر: ادارة القريش لاہور۔ (18) شرف المصطفیٰ ، ج : ۵،ص:۵۰۶، «فصل: ذکر الآیات فی دعاۃ المبارک، ط: دار البشائر ال إسلامیة ۔ (19) گنجینه اسرار ، تالیف : شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری ، ناشر مکتبہ مدنیہ لاہور۔ (20) بہشتی زیور حصہ نہم ص 90 تالیف مولانا اشرف علی تھانوی ، ناشر، دار الاشاعت کراچی ۔ ( جبکہ حضرت تھانوی نے اسے نہایت مجرب بھی بتایا ہے)۔ (21) فتوی دار العلوم : 43720۔ عبقری میں ذکر کرنے کے بعد من گھڑت کا فتویٰ لگانے والے کیا ان تمام کتابوں پر بھی من گھڑت ہونے کا فتویٰ لگائیں گے۔۔۔!

احادیث میں جنات کی غذا کا ثبوت

چند دن پہلے عبقری کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ڈالی گئی کہ قربانی کا گوشت خود کھا ئیں اور ہڈیاں جنات کو دیں اس پوسٹ پر کم علم طبقے کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ جنات کی خوراک کا قرآن وحدیث میں کہاں ثبوت ملتا ہے؟ ان سب حضرات کی خدمت میں محدث زمانہ مفسر امام جلال الدین سیوطی کی کتاب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اکابرین امت رحمہم اللہ کے چند اقوال پیش کیے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ محترم قارئین بغیر سوچے سمجھے اعتراض کرنے کی بجائے اپنی مصروف زندگی میں سے روزانہ صرف ایک گھنٹہ وقت نکال کر خود بھی قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اپنے اکابر و اسلاف کی باتیں پڑھنے کی طرف توجہ کریں گے ان شاء اللہ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنات سے ملاقات والی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے کہا : ہر وہ ہڈی تمہاری غذا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو ( یعنی حلال ذبیحہ اور قربانی کے گوشت کی تمام ہڈیاں اس میں شامل ہیں ) (بحوالہ: مسند احمد صحیح مسلم) امام ترمذی کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا: جنات کی غذاوہ ہڈیاں ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو ( بحوالہ : جامع ترمذی) علمائے کرام نے ان دونوں احادیث میں اس طرح مطابقت پیدا کی ہے کہ مسلم شریف کی حدیث میں مسلمان جنات کی غذا کا حکم ہے اور ترمذی شریف کی حدیث میں کافر جنات کی غذا کا بیان ہے۔ امام بہیقی فرماتے ہیں کہ جنات جب گو بر کا ٹکڑا اٹھاتے ہیں تو وہ ان کیلئے چھوہارہ بن جاتا ہے اور جب کوئی ہڈی اٹھاتے ہیں تو وہ گوشت سے بھر جاتی ہے (بحوالہ : دلائل النبوۃ) حضرت یزید تابعی فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے گھروں کی چھتوں میں مسلمان جنات رہتے ہیں جب کھانے کیلئے دستر خوان لگایا جاتا ہے، تو وہ نیک جنات بھی نیچے اتر کر اس کھانے میں شریک ہوتے ہیں، انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ شریر جنات کو بھگاتا ہے بحوالہ : مكائد الشیطان، مصنف: ابن ابی الدنيا وكتاب العظمية، مصنف: امام ابوالشیخ) قاضی ابو یعلی فرماتے ہیں کہ جنات بھی انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ وہ جنات جو کھاتے پیتے اور آپس میں نکاح کرتے ہیں وہ بھوت چڑیل اور دیو کی شکل میں ہوتے ہیں۔ بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان صفحہ 65 مصنف: علامہ جلال الدین سیوطی ناشر: مکتبہ برکات المدینہ کراچی

انسانی جسم میں جنات کے داخل ہو جانے پر امام ابن تیمیہ کا فتوی

علامہ ابن تیمیه نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے : اہل السنہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کی طرح ہوتا ہے، جنہیں چھو کر شیطان نے باؤلا کر دیا ہو. رسول اللہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا : شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے. امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے امام عبد اللہ بن احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جن ، انسان کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتا ؟ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: بیٹاوہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ آسیب زدہ شخص کی زبان سے چن ہی بات کرتا ہے ۔ اس پر امام ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں کہ چن نہ صرف بولتا ہے بلکہ انسان پر سواری کرتا ہے جس کے نتیجے میں آسیب زدہ شخص بھاری بھاری مشینوں کو آسانی سے اٹھا سکتا ہے جو شخص کسی آسیب زدہ انسان کا چشم دید گواہ ہو وہ دیکھتا ہے کہ اس وقت اس انسان کی زبان سے کوئی اور بول رہا ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ائمہ مسلمین میں سے کوئی بھی اس بات کا منکر نہیں کہ جنات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ جو شخص اس بات کا انکار کرنا ہے اور کہتا ہے کہ شریعت سے اس کا ثبوت نہیں بنتا اور شریعت پر تہمت لگاتا ہے۔ ( بحوالہ کتاب: مجموع الفتاوی لابن تیمیه ، جلد ۱۹ صفحه ۱۲ ناشر: مکتبہ علمیہ بیروت لبنان) محترم جو یہ کہتے ہیں کہ روحانی علاج صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے یقت میں جن نہیں ہوتا ، صرف حامل لوگوں کو نظر آتا ہے

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026