رُوحوں سے ملاقات ایک اَبدی حقیقت یا مَن گھڑت افسانہ

میرا سوال یہ ہے کہ جنات کا پیدائشی دوست میں جو رُوحوں کے ساتھ ملاقات کی مَن گھڑت کہانیاں لکھی جاتی ہیں ان کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے؟ (سائل: محمد عاطف اسلام آباد) جواب: میرے بھائی! اس سلسلے میں اکابر علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ فوت شدگان کے ساتھ روحانی طور پر ملاقاتیں کی جاسکتی ہیں۔ اکابر و اسلاف میں تو ایسے بزرگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے دورانِ مطالعہ اگر کسی حدیث کی سند میں کوئی اشکال پایا تو ڈائریکٹ امام بخاریؒ کی روح سے ملاقات کر کے ان سے مسئلہ پوچھ لیا۔ مثلاً امام المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوطاہرؒ نے مجھے اپنے والد سے ملوایا تو وہ بتانے لگے کہ: میں نے شیخ احمد قشاشیؒ کی رُوح سے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ ویسے ہی پڑھی جس طرح انہوں نے خواب میں خود حضور ﷺ کی رُوح مبارک سے یہ دونوں سورتیں پڑھی تھیں۔ بحوالہ کتاب: درالثمین فی مبشرات النبی الامین ﷺ صفحہ 55 ناشر: کتب خانہ رضویہ ڈچکوٹ روڈ لائل پور

جنات کے پیدائشی دوست کی کہانی 14 اولیاء اللہ کی زبانی

مولانا صاحب! ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں: علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کے کالم میں جنات سے ملاقات کی انوکھی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں جو عقل کو اپیل نہیں کرتیں۔ کیا عبقری سے پہلے بھی کسی کتاب میں اس طرح کے قصے سنا کر لوگوں کو وظیفے پڑھنے پر لگایا گیا ہے؟ (سائل: علی حیدر، جھنگ) جواب: جنات سے ملاقات کرنے والی عظیم ہستیوں میں صرف علامہ لاہوتی صاحب ہی کا نام نہیں ملتا، بلکہ تاریخ، حدیث اور سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے اولیائے کرام گزرے ہیں جن کی ملاقاتیں جنات کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اہل اللہ کی ترتیبِ زندگی ہماری طرح نہیں ہوتی، نہ ہی یہ ہر شخص کی عقل میں سما سکتی ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک انجینئر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی میڈیکل کا ماہر نہیں ہوتا، اور جس طرح ایک حافظِ قرآن ضروری نہیں کہ عالم دین بھی ہو۔ اسی طرح اولیاء اللہ بظاہر تو انسان ہی ہیں، مگر ان کے ساتھ روحانی دنیا کا انوکھا نظام چل رہا ہوتا ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت نکال کر مطالعہ کرنے کی عادت ڈال لیں اور درج ذیل کتب پڑھیں تو ان میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ جیسے ہزاروں واقعات آپ کا استقبال کریں گے ان شاء اللہ! شیخ عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی اخبار الاخیار۔ شیخ عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ کی نفحات الانس۔ شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی اسرار الاولیاء۔ شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی تذکرۃ الاولیاء۔ شیخ ابونعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کی حلیۃ الاولیاء۔ شیخ علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی کشف المحجوب۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فیوض الحرمین اور انفاس العارفین۔ علامہ محمد یوسف النبہانی رحمۃ اللہ علیہ کی جامع کرامات الاولیاء۔ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی عوارف المعارف۔ علامہ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی الطبقات الکبریٰ اور الطبقات الصغریٰ۔ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی عقل بیدار، نور الہدیٰ اور مفتاح العارفین۔ شیخ ابوطالب مکی رحمۃ اللہ علیہ کی قوت القلوب۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی لقط المرجان فی احکام الجان۔ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف متالا کی کرامات و کمالات اولیاء وغیرہ۔

ڈیڑھ سو سال پرانے علامہ لاہوتی پراسراری

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے فتویٰ لگا دیا جاتا ہے کہ یہ محض ”جھوٹے قصے کہانیاں“ ہیں حالانکہ اگر انہیں اپنے اکابر و اسلاف کے متعلق تھوڑی سی بھی خبر ہوتی تو وہ اس بات کی تہہ تک پہنچ جاتے کہ علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم جیسی مقبولِ خدا ہستیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ دُور مت جائیں، صرف ڈیڑھ صدی پہلے کے عظیم محدث، مرجع خلائق حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پر نظر ڈال لیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ”علامہ لاہوتی پراسراری“ تھے۔ تابعینِ جنات سے ملاقات: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے سوانح نگار مولوی ظہیر الدین سید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دو آدمی آئے اور ایک مشکل مسئلہ پوچھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے بالکل درست فرمایا۔ کیونکہ ہم نے یہی مسئلہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی پوچھا تھا تو انہوں نے یہی جواب ارشاد فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان جنات سے پوچھا: جس وقت تم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زیارت کی تھی، تب تمہاری عمر کتنی تھی؟ بولے ”پانچ سو برس“، یعنی ہماری عمر کم و بیش 18 صدیاں بنتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گئے۔ (بحوالہ کتاب: کمالات عزیزی، صفحہ 34 ناشر: مکتبہ رحمانیہ، 18 اردو بازار لاہور) قارئین! اگر عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ محض قصے کہانیاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ اتنے بڑے محدث شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی بھی صرف جھوٹ پر قائم تھی۔ اسلاف بیزار اور عقل پرست لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سائنس کی طرح دین کی ہر بات پر بھی کبھی کبھار بغیر دیکھے یقین کر لینا چاہئے۔

ہمارے جسم جنات کے مسکن ہمارے گھر جنات کی گزرگاہیں

عبقری میں جا بجا اس بات کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ہماری زندگی میں پریشانیوں کی اصل وجہ گناہ اور شیطانی اثرات ہیں۔ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں جنات کا دخل انداز ہونا ممکن ہے۔ بہت سے لوگ اس جناتی دخل اندازی کو نفسیاتی کہانیاں کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ کیا وہ لوگ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ سے بھی زیادہ توحید پرست بن چکے ہیں جنہوں نے جنات کے اثرات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ (1) جنات انسان پر شہوت یا عشق کی وجہ سے حملہ کرتے ہیں۔ (2) کبھی جنات انسان سے شادی کر لیتے ہیں اور کبھی انسان جنات سے شادی کر لیتا ہے۔ (3) بعض اوقات انجانے میں انسان جنات کو تکلیف پہنچا دیتے ہیں جیسے بے خبری میں ان کی قیام گاہ پر پیشاب کر دینا یا اس جگہ گرم پانی ڈال دینا وغیرہ۔ اس کے بعد جنات جہالت اور ظلم کی وجہ سے اس انسان سے انتقام لیتے ہیں۔ (4) کبھی بغیر وجہ کے بھی جنات انسانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بحوالہ کتاب: مجرباتِ اکابر، صفحہ 254 مصنف: مولانا محمد اسحاق ملتانی، ناشر: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ فوارہ چوک ملتان قارئین! کیا آج اعتراض کرنے والے ناسمجھ لوگوں میں اپنے اکابر و اسلاف سے زیادہ توحید آ گئی ہے؟ کیا خدانخواستہ ہمارے بڑے ان تحفظات کو نہیں سمجھتے تھے، جو آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ یاد رکھیے! ”روحانی عاملوں کا دماغ خراب ہوتا ہے“ کہنے والوں پر جب کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو پھر وہ ایسے ہی عاملوں کی دعاؤں کے محتاج بن جاتے ہیں۔ لہذا ہر دلعزیز ماہنامہ عبقری کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کی قدردانی کرنی چاہئے جو آج ماشاء اللہ بے شمار لوگوں کو جناتی اور شیطانی حملوں سے نجات دلانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے

یہ تیل ناک میں ڈال کر جنات سے نجات پائیں

امام ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیہ فرماتے ہیں کہ ایک طالب علم سفر کر رہا تھا، راستے میں ایک شخص بھی اس کا ہم سفر بن گیا۔ جب شہر کے قریب پہنچا تو طالب علم سے کہنے لگا: میں ایک جن ہوں، مجھے تم سے ایک کام ہے۔ طالب علم پوچھنے لگا: وہ کیا؟ کہنے لگا: جب تم فلاں گھر میں جاؤ گے تو ان کی مرغیوں کے درمیان ایک سفید مرغ کو پاؤ گئے تم اس مرغ کو اس کے مالک سے خرید لینا اور اسی وقت ذبح کر دینا۔ طالب علم نے کہا: ٹھیک ہے مگر مجھے بھی تم سے ایک کام ہے: جب شیطان سرکش ہو جائے اور اس میں جھاڑ پھونک دم وغیرہ کام نہ آئے تو اس کا علاج کیا کرنا چاہئے؟ جن کہنے لگا: آسیب زدہ آدمی کے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھوں کو مضبوطی سے باندھ لیا جائے ۔ پھر سداب بیری کا تیل نکال کر مریض کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ ٹیکا یا جائے، تو اس کا جن مرجائے گا اور بعد میں کوئی دوسرا جن بھی اس پر قابض نہ ہو سکے گا چنانچہ وہ طالب علم جب مطلوبہ مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ بڑھیا کا ایک سفید مرغ ہے جسے وہ فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس نے اسے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم دے کر بیچنے پہ راضی کر لیا۔ جب اس نے مرغ کو ذبح کر دیا تو اسی وقت بڑھیا کے گھر والے اسے مارنے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ جب سے تم نے مرغ کو ذبح کیا ہے کسی جن نے ہماری لڑکی یہ حملہ کر دیا ہے۔ طالب علم نے کہا: تم کہیں سے سداب بری کا تیل لے آؤ۔ لہذا جب اس نے جن کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق لڑکی کے ناک میں تیل کا یا تو وہ جن چیخ پڑا اور کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں یہ عمل اپنے ہی خلاف کرنے کا کہا تھا ؟ پھر اسی وقت وہ جن مر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑکی کو شفاء بخش دی اور اس کے بعد کوئی شیطان جن اس پر قابض نہ ہو سکا۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات،صفحہ 150 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026