عبقری کے خود ساختہ وظائف کا آپریشن

محترم قارئین ! کچھ لوگ عبقری وظائف کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں آیات اور مسنون دعائیں کسی اور مقصد کیلئے بتائی گئی ہوتی ہیں، جبکہ عبقری والے انہیں کسی اور مقصد کیلئے چھاپ دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ الم نشرح سے ٹریفک کھل جاتی ہے ، کبھی لکھتے ہیں کہ سورہ کوثر سے گاڑی کا پٹرول بڑھ جاتا ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ درود شریف پڑھنے سے بلڈ پریشر کنٹرول ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ میرے محترم دوستو! ان لوگوں کو اگر معلوم ہوتا کہ ہمارے اکابر علماء و محدثین قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کس طرح کیا کرتے تھے، تو یہ لوگ ایسی باتیں ہر گز نہ کرتے ۔ محدث مدینہ شیخ عبد الغنی مجددی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : استغفار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مزاج اور رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر والوں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کی شکایت کی تو آپ کی نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟ (ابن ماجہ ، باب الاستغفار حدیث 3817 بحوالہ کتاب: انجاح الحاجة شرح سنن ابن ماجه، تالیف : شیخ عبدالغنیمجددی دہلوی ، حاشیہ: مولانا فخر الحسن محدث گنگوہی ، ناشر : قدیمی کتب خانه، آرام باغ کراچی ) عبقری وظائف پر اعتراض کرنے والوں کو چاہئے کہ سنی سنائی جاہلانہ باتوں پر عمل کرنے کی بجائے صرف ایک مرتبہ قرآن مجید کا ترجمہ اور احادیث کی تشریح غور سے پڑھ لیں تو حق بات واضح ہو جائے گی۔ درج بالا حدیث میں غور کریں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شکوہ تو اپنے غصے کا کیا، مگر جواب میں آقا سرور کونین سلیم نے وظیفہ استغفار بتایا۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ استغفار تو گناہوں کی معافی کیلئے ہوتا ہے لیکن سورۃ النجم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے : وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى یعنی انسان جس شعبے میں محنت کرنا شروع کر دے، اللہ کریم اس شعبے کے علوم کی راہیں اس پر کھول دیتا ہے۔ تو اگر ہمارے گزشتہ تمام اکابر و اسلاف رحمہم اللہ اجمعین کی طرح حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ پر بھی اللہ جل شانہ نے وظائف کے فوائد کھول دیے ہیں تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے اولیائے کرام پر علوم و معارف کے سمندر نہیں کھولے تھے ؟ کیا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی” پر روح ، تقدیر، وحدت الوجود اور نفس کے چار علوم نہیں کھلے تھے؟ کیا حضرت تھانوی پر اعمال قرآنی کتاب کی صورت میں قرآنی آیات کے فوائد نہیں کھلے تھے؟ کیا حضرت کا شمیری پر گنجینہ اسرار کتاب کی شکل میں وظائف کی تاثیر نہیں کھلی تھی؟ کیا امام جلال الدین سیوطی اور امام عبد الوهاب شعرانی” پر جنات کی دنیا نہیں کھولی گئی تھی ؟ کیا علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی طرح شیخ عبد القادر جیلانی اور شیخ عبد العزیز محدث دہلوی کو جنات سے ملاقات نہیں کروائی گئی تھی؟ یہ کیسے فضول اور بے بنیاد قسم کے اعتراض ہیں جو عبقری میگزین پر کیے جاتے ہیں؟ حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ عبقری میں وظائف بنائے نہیں جاتے ، صرف بتائے جاتے ہیں کہ لوگو! اپنے اکابر کا فلاں وظیفہ پڑھو تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اپنے اسلاف کا فلاں عمل کر لو تمہاری مشکل ٹل جائے گی ۔ اپنے بڑوں کی فلاں ترتیب پر آجاؤ تمہاری زندگی سنور جائے گی۔۔۔ یہی پیغام اور یہی ترتیب ہر دور کے اولیاء صالحین کی تھی اور یہی مقصد اور یہی ڈیوٹی تو انبیاء علیہم السلام اور آل و اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی۔ بھلا عبقری نے آکر کون سی بدعت ایجاد کر دی ہے؟ اگر قرآن و سنت کی طرف بلانے کا نام "بدعت” ہے تو پھر تمام اکابر و اسلاف کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جناب!

یہ عمل کرنے سے بیماریاں خود بخود جسم سے نکل جائیں گی

محترم قارئین ! عبقری تسبیح خانے میں حضرت شیخ الوظائف دامت بر کاتہم العالیہ پچھلے 15 برس سے جادو کو ختم کرنے ، جنات سے چھٹکارا حاصل کرنے اور نظر بد اور بیماریوں کو جسم سے دھونے کیلئے اکابر و اسلاف کا آزمودہ بیری کے پتوں کا ایک عمل ارشاد فرمارہے ہیں کہ بیری کے 7 پتے لے کر ہر ایک پر ایک ایک مرتبہ پہلا کلمہ اور ایک ایک مرتبہ آیت کریمہ پڑھ کے انہیں ابال کر کسی ایسی جگہ غسل کر لیں ، جہاں پانی زمین کی مٹی اپنے اندر جذب کرلے۔ کچھ لوگ جو طب نبوی صلی الله علیہ وسلم کے اسرار ورموز اور اصول و قوانین سے نا آشنا ہیں ، فورا کہتے ہیں کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہے ؟ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ روحانی طریقہ علاج میں بیری کے پتوں پر کلمات کا پڑھنا صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ جیسا کہ کویت کے ایک معروف عالم دین فضیلہ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی القحطانی حفظہ اللہ بیری کے پتوں سے غسل کرنے کو ” مسنون دم” کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : جادو ہو جانے کی صورت میں مسنون دم کیا جائے ، جس کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ : بیری کے سات پتے لے کر انہیں دو پتھروں کے درمیان رکھ کر پیس لیں یا کسی اور چیز سے کوٹ لیں۔ پھر اس کو پانی کی اتنی مقدار میں حل کر لیں جو غسل کیلئے کافی ہو اور اس پر قرآن مجید کی درج ذیل آیات اور سورتیں پڑھی جائیں۔ (1) آیت الکرسی (2) سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 255 (3) سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 117 تا 122 (4) سورة یونس کی آیت نمبر 79 تا82 (5) سورۃ طہ کی آیت نمبر 65 تا 70 (7) آخری چاروں قل ۔ پھر اس دم والے پانی میں سے چند گھونٹ پی لیا جائے اور باقی سے غسل کر لیا جائے۔ یہ عمل کرنے سے ان شاء اللہ بیماری ختم ہو جائے گی۔ مرض کے خاتمے تک یہ عمل بار بار کیا جا سکتا ہے (یعنی ہر ہفتے یا ہر دن اسی طرح نہایا جا سکتا ہے) اس عمل کو کئی بار آزمایا گیا تو اللہ تعالی نے اس کے ذریعے فائدہ پہنچایا ۔ حتیٰ کہ یہ عمل ان میاں بیوی کیلئے تو ایک تیر بہدف نسخہ ہے جن کے درمیان ایک دوسرے کیلئے جدائی (نفرت ) ڈال دی گئی ہو ( بحوالہ کتاب: دعا اور دم کے ذریعے مسنون علاج، صفحه 99 ناشر: مکتبہ دار السلام ، لوئر مال سیکرٹریٹ لاہور)

یہ کام کرنے سے کم وقت میں زیادہ سفر طے ہوتا ہے

قارئین ! عبقری میں دیے گئے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست ” میں بعض اوقات تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک کرامت ہے جو ہمارے اکابر و اسلاف اولیائے کرام کو حاصل رہی ہے۔ آیئے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ” طے الوقت” کی کرامت کیسے ملتی ہے۔ حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے استاذ حضرت مولانا عزیز گل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی خدمت کی۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں دبا کر ، سر پر مالش کرکے ، انہیں سلانے کے بعد خود آرام کرتا تھا۔ ایک رات حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: دہلی میں میرے کچھ کاغذات دفتر میں موجود ہیں اور مجھے ان کی اشد ضرورت ہے ، مگر دہلی بہت دور ہے ، اب کہاں سے لاؤں ؟ دیکھو جب انسان ادب کی دنیا میں آتا ہے اور اپنے استاد کا احترام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہے۔ لہذا انہوں نے بھی جب اپنے شیخ کے پاؤں کی مالش کر کے انہیں سلا دیا تو خودروانہ ہو گئے۔ پیسے تو جیب میں تھے نہیں، پیدل ہی چل پڑے۔ دیوبند اور دہلی کے درمیان 80 میل کا فاصلہ ہے، مگر اللہ تعالیٰ جب کام لینے پر آتا ہے تو کرامات الاولیاء حق کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ مولانا عزیز گل صاحب بھی دہلی والے دفتر پہنچے، کاغذات لیے اور اس وقت واپس تشریف لے آئے ، جب حضرت شیخ الہند تہجد کیلئے بیدار ہو رہے تھے۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند کو وضو کروایا اور کاغذات ان کے سامنے پیش کیے تو دیکھتے ہی شیخ الہند نے پوچھا: بھئی یہ کیسے لے آئے؟ عرض کرنے لگے: شیخ ! آپ نے ایک خواہش ظاہر کی تھی تو میں اس خواہش کے احترام میں اللہ کا نام لے کر روانہ ہو گیا اور یوں یہ کاغذات لے آیا. (بحوالہ : ماہنامہ بینات کراچی ، صفحہ 24 ایڈیٹر: مولانا ڈا کٹر عبدالرزاق اسکندر، ناشر : جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی)

ایسی دعا، جسے پڑھنے سے سیدۃ النساء حضرت فاطمہ الزهراء رضی اللہ عنہا کی تنگ دستی ختم ہو جاتی تھی

محترم قارئین ! عبقری تسبیح خانے میں شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی دامت برکاتہم العالیہ شب جمعه کے درس کے اختتام پر تسبیح خانے میں آئی ہوئی دکھی اور پریشان حال مخلوق خدا کی مشکلات کو حل کروانے کیلئے اپنی دعاؤں کا آغاز اکثر ان کلمات سے کرتے ہیں ( یا اول الاولین ، یا آخر الآخرین، یاذ القوة المتين ، يا راحم المساكين ، یا ارحم الراحمين ) آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں ان کلمات کو کیا مقام حاصل ہے؟ مولانا محمد یونس پالنپوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک دفعہ فاقہ آیا تو انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر کچھ مانگ لو تو اچھا ہے۔ چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ یہ فرشتوں کا کھانا تولا الہ الا الله، الحمد للہ اور سبحان اللہ کہنا ہے ، ہمارا کھانا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں سے کسی بھی گھر میں تیس دن سے آگ نہیں جلی ۔ ہمارے پاس چند بکریاں آئی ہیں ، اگر تم چاہو تو 5 بکریاں تمہیں دے دیتا ہوں اور اگر چاہو تو وہ 5 کلمات سکھا دوں جو حضرت جبریل نے مجھے سکھائے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی نہیں مجھے وہی کلمات سکھا دیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہا کرو!يا اول الاولين و يا آخر الآخرين. ويأذا القوة المتين، ويأراحم المساكين، يا ارحم الراحمين حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں تو انہوں نے پوچھا: کیا ہوا؟ فرمایا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دنیا لینے گئی تھی لیکن وہاں سے آخرت لے کر آئی ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو یہ دن تمہارا سب سے بہترین دن ہے ( بحوالہ کتاب: حیاۃ الصحابہ جلد 3 صفحہ 56 حوالہ نمبر 2 : بکھرے موتی صفحہ نمبر 44 ناشر : جسم پبلشرز اردو بازارلاہور ) محترمہ ام مہد یہ یکھتی ہیں کہ اگر معاشی تنگی ہو اور فقر کا خوف ہو تو درج ذیل دعا کا اہتمام کیجئے، فقر اور تنگدستی دور ہو جائے گی : يا اول الاولين و يا آخر الآخرين، ويأذا القوة المتين، ويأراحم المساكين، يا ارحم الراحمين (طبرانی باب الدعاء حدیث نمبر 1047 بحوالہ: ماہنامہ علم و عمل فروری 2019 صفحہ 27 جامعہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہنہ نولا ہور ) قارئین ! سندھ کے مشہور بزرگ مولانا عبد الکریم صاحب بیر شریف والوں کے خلیفہ مولانا سائیں عبدالجبار صاحب مدظلہ (سکھر) نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کو سلسلہ قادریہ کی خلافت دیتے ہوئے اس وظیفے کی خاص اجازت عنایت فرمائی تھی۔ یا اول الاولین ، یا آخر الآخرین، یاذ القوة المتين ، يا راحم المساكين ، یا ارحم الراحمين100 دفعہ مدرسہ نورالھدی ،درگاہ عالیہ نور پور شریف، ضلع شکارپور

یہ دعا پڑھ لو۔۔۔ اندھے ہونے سے بچ جاؤ گے

محترم قارئین ! کچھ لوگ عبقری وظائف کے متعلق کہتے ہیں کہ فلاں قرآنی آیت یا فلاں مسنون دعا کا جو فائدہ عبقری میں بتایا گیا ہے، کیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟ حالانکہ ایسے کم علم حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن وحدیث کے وسیع سمندر میں جتنے بھی موتی موجود ہیں ، وہ سب کے سب دنیا آخرت کی پریشانیوں کے حل کیلئے کارآمد ہیں۔ دراصل ہمارے اکابر علماء و مشائخ کو یہ شان حاصل رہی ہے کہ وہ اپنی مومنانہ فراست یعنی بصیرت باطنی کی برکت سے جان لیا کرتے تھے کہ فلاں آیت فلاں مقصد کیلئے اور فلاں دعا فلاں مسئلے کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں صبح و شام پڑھی جانے والی ایک مسنون دعا کو آنکھوں کے امراض کیلئے فائدہ مند بتایا گیا ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد اقبال صاحب لکھتے ہیں کہ : جناب محمد اجمل خان (موسیٰ زئی شریف) نے حضرت خواجہ محمد رحمتہ اللہ کی خدمت میں اپنی والدہ کی آنکھوں میں تکلیف کی شکایت کی تو آپ نے آپ فرمایا: میرے والد حضرت خواجہ محمد عمر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو ایک عرصے تک آنکھوں میں تکلیف رہی ، جس کا ذکر انہوں نے اپنے شیخ خواجہ محمد سراج الدین رحمتہ اللہ علیہ سے کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: یہ مسنون دعا 7 مرتبه مع اول آخر درود شریف 3 مرتبہ پڑھ کر انگلیوں کے پوروں پر دم کر کے آنکھوں پر پھیر لیا کر و بسم اللہ الله الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْء فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ خان جی ! تم بھی یہی وظیفہ پڑھ کے اپنی والدہ صاحبہ کی آنکھوں پر پھیرا کرو، اللہ تعالیٰ صحت و سلامتی عطا فرمائیں گے۔ لہذا اجمل خان صاحب کا کہنا ہے کہ چند دن یہ عمل کرنے سے میری والدہ کی تکلیف جاتی رہی. ( بحوالہ کتاب: تحفۂ نقشبندیہ صفحہ 331 ناشر: خانقاہ سعد یہ نقشبندیہ پل پکا قلعہ موڑ کھنڈا) قارئین ! اگر کسی کو مسنون دعا کی برکت سے آنکھوں کے امراض سے چھٹکارا مل جائے تو اس میں کم علم لوگوں کو کیا اعتراض ہے؟ دوسرا یہ کہ جو لوگ عبقری کے وظائف کو من گھڑت کہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اکابرو اسلاف میں سے کوئی ایک عالم دین یا پیرو مرشد ایسے ثابت کریں جو عبقری کی طرح کے وظائف نہ دیتے ہوں !!! بھلا کیا وہ سب کے سب ( نعوذ باللہ ) خود ساختہ وظائف کے سہارے زندگی گزار گئے؟ خدارا کچھ تو ہوش کے ناخن لیں!

عبقری تسبیح خانے میں خواتین کے اجتماع کا ثبوت

محترم قارئین ! کچھ لوگ اپنی لاعلمی کی وجہ سے تسبیح خانے کے مختلف معمولات پر شک و شبے کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ اللہ جل شانہ کے فضل سے تسبیح خانے کے ہر عمل کے پیچھے قرآن وسنت کی دلیل اور صحابہ و تابعین و فقہاء و محدثین رحمہم اللہ اجمعین یعنی تمام اکابر واسلاف سے ثبوت موجود ہے۔ اس شک میں مبتلاء کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری تسبیح خانے میں جو ہر جمعرات خواتین کیلئے الگ درس کا انتظام ہوتا ہے ، اس کا شریعت میں کیا ثبوت ہے؟ قارئین ! دور جانے اور زیادہ دلائل پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ،،، ایسی مجالس جہاں قال الله وقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان ہو، ایسی محافل جہاں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سکھایا جاتا ہو اور ایسی جگہیں جہاں آل رسول و اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب زندگی کی طرف واپس لوٹنے کی دعوت دی جاتی ہو، بھلا کون کم نصیب ہوگا ، جو ان پر اعتراض کرے گا ؟ ابھی حال ہی میں 25 نومبر 2018ء کو جامعہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا میں خواتین کیلئے ایک علمی تربیتی اور اصلاحی اجتماع کا با پردہ انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کا ذوق و شوق دیدنی تھا۔ اجتماع کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی تمام نشست گا ہیں پر ہو چکی تھیں۔ اس اجتماع کا با قاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، پھر نعت رسول مقبول صلی السلام کے بعد محترم مدیر جامعہ جناب مولانا محمد عتیق الرحمن صاحب کا اجتماع گاہ سے الگ بیٹھ کر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بیان ہوا۔ انہوں نے دیگر اہم باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ خواتین اپنے آپ کو اکیلی نہ سمجھیں، بلکہ عورت کی مثال ایک گھنے درخت جیسی ہے اور آنے والی نسلیں اسی درخت کی شاخیں ہیں۔ اگر وہ اپنے گھر اور اولاد کی تربیت شریعت کی روشنی میں کریں گی تو معاشرہ امن و ایمان کا گہوارہ بن جائے گا. ( بحوالہ: ماہنامہ علم وعمل لاہور صفحہ 27 ایڈیٹر: مولانا محمد عتیق الرحمان صاحب، ناشر : جامعہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، گجومتہ لاہور ) محترم قارئین ! آپ جانتے ہوں گے کہ عبقری تسبیح خانے میں بھی اسی ترتیب پر عمل کیا جاتا ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ علیحدہ بلڈنگ میں تشریف فرما ہو کر اسپیکر کے ذریعے خواتین سے خطاب فرماتے ہیں۔ بھلا جن کی تربیت کی برکت سے لاکھوں خواتین کو ایمان اعمال والی زندگی نصیب ہو رہی ہے، ان کے متعلق دل میں شک و شبہ لانا کیا معنی رکھتا ہے؟

بچے کے پیشاب سے بچھو کے کاٹے کا علاج

قارئین ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین میں ایسے ٹوٹکے اور ایسے وظیفے دیے جاتے ہیں ، جن کا قرآن و حدیث میں ثبوت نہیں ملتا، حالانکہ اگر ذراسی عقلمندی سے کام لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چاہے کوئی ٹوٹکہ ہو یا وظیفہ ۔۔۔ عبقری میں اسے خود ساختہ بنایا نہیں جاتا، بلکہ صرف بتایا جاتا ہے۔ جیسا کہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں کہ : جب ہم نے اپنی رہائش دار العلوم کراچی میں منتقل کی تو اس وقت دونوں بلاکوں کے درمیان تقریباً سو گز کا فاصلہ تھا جو تمام تر ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان ٹیلوں میں سانپ ، بچھو، گرگٹ، گوہ، سانڈے، سیہہ اور نہ جانے مزید کتنی قسم کے حشرات الارض رہتے تھے، جو دن کے وقت تو ہم سے ڈرتے تھے مگر رات ہوتے ہی ہم ان سے ڈرا کرتے۔ خاص طور پر عشاء کی نماز کے وقت کسی نہ کسی طالب علم کے پاؤں پر بچھو ضرور کا ٹتا اور بچے کے چیخنے کی آواز آتی ۔ اس وقت آس پاس نہ تو کوئی ڈاکٹر تھا ، نہ ہسپتال ۔ لہذا علاج کے مختلف دیسی طریقے آزمائے جاتے (قارئین ! اب ذرا غور کیجئے گا کہ اس زمانے میں ہمارے اکابر کے آزمائے ہوئے ٹوٹکے آج عبقری میگزین لوگوں کو بتا رہا ہے، چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں ) کسی نے بتایا کہ اگر بچھو کو مار کے تیل میں ڈال دیا جائے تو اس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا علاج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ علاج کئی طلبہ پر آزمایا گیا اور کچھ مفید بھی ثابت ہوا۔ لیکن آخر میں جو علاج سب سے زیادہ مقبول ہوا، وہ یہ تھا کہ جس جگہ بچھونے کاٹا ہو، اس جگہ کسی بچے سے دھار کے ساتھ پیشاب کروایا جائے۔ چنانچہ جو نہی کسی کو بچھو کاٹتا ، تو کسی بچے کو پکڑ کر اسے پیشاب کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا (بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مارچ 2019ء صفحہ 19 ناشر : جامعہ دار العلوم کراچی )لہذا اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کیا عبقری خود ساختہ ٹوٹکے اور وظائف بتا رہا ہے۔ یا لوگوں کو اکابر کی آزمودہ ترتیب پر لا رہا ہے؟

تسبیح خانہ میں کیا جانے والا ایسا عمل جو عذاب قبر کو بھی روک دے

اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ لاہور میں ایسے مستند روحانی قرآنی مسنون اعمال کا اہتمام کیا اور کرایا جاتا ہے جو آپ کی دنیا ، قبر وآخرت بنانے اور سنوارنے والے ہیںان اعمال میں سے ایک عمل روزانہ رات ایک مرتبہ سورہ ملک اور سورہ سجدہ پڑھنے کا اہتمام ہے جو کہ یہاں آنے والے ہر شخص کیلئے لازم ہے تو آئیے دیر کیسی آپ بھی ان اعمال میں شریک ہوں او ر زیادہ سے زیادہ ان کو پھیلائیں ۔ (1)سورۃ الملک کی فضیلت میں جامع ترمذی: (2891) میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورت ملک) اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں حسن قرار دیا ہے۔ (2)ترمذی (2892) میں ہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ سجدہ اور سورۃ الملک نہ پڑھ لیں)، اس روایت کو بھی البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (3)نسائی (10479) میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: (جو شخص سورۃ الملک ہر رات پڑھے تو اللہ تعالی اس سے عذاب قبر کو روک لے گا، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے مانعہ (یعنی روکنے والی)کہتے تھے، اور یہ قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جو اسے ہر رات پڑھ لے تو وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہے) اس حدیث کو بھی البانی رحمہ اللہ نے صحیح ترغیب و ترہیب میں حسن کہا ہے۔ (4)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک قبر پر خیمہ لگالیا اور ان کو پتا نہ تھا کہ یہ قبر ہے ،خیمہ میں بیٹھے بیٹھے اچانک انہوں نے سنا کہ اس قبر میں ایک انسان ہے جو سورۂ’’ تبارک الذی بیدہ الملک‘‘ پڑھ رہا ہے، پڑھتے پڑھتے اس نے پوری سورت ختم کردی ۔یہ واقعہ انہوں نے حضرت رسول کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ سورت عذاب روکنے والی ہے، یہ سورت عذاب سے نجات دینے والی ہے ، اس کو قبر کے عذب سے بچا رہی ہے ۔سنن الترمذي ت بشار (5/ 14) (5)حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: بیشک قرآن میں تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت ہے جو اپنے قاری (قرات کرنیوالے)کے لیے شفاعت کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت کردی جاے گی اوریہ’’ تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ‘‘ہے۔( سنن الترمذی ) (6)حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن کریم میں ایک سورت ہے جو اپنے قاری کے بارے میں جھگڑا کرے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کرادے گی اور وہ یہی سورہ ملک ہے ۔( الدر المنثور) خانہ میں کیے جانے والے ہر عمل کی سند قرآن و سنت اور اکابر ؒ سے جڑی ہوئی ہے یاد رکھیں: شیخ الوظائف عملیات و وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں ۔

زندگی کو خو شگور بنانے کیلئے خضر علیہ السلام کا خاص وظیفہ

ماہنامہ عبقری میں اکثر حضرت خضرعلیہ السلام سے ملاقاتوںکا تذکرہ ہوتاہے جسے اکابر ؒ کی تعلیمات سے ناآشنا لوگ غیر تحقیقی نظر سےدیکھتے ہیں جبکہ خضر علیہ السلام سے ملاقاتوں کا سلسلہ صحابہ ؓ کرام سے لیکر آج تک تواتر سے ثابت ہےاور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ؒمیں منقول ہے ۔! حضرت شیخ المشائخ قطب الارشاد شاہ ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے اپنی کتاب نوادر میں بہت سے مشائخ تصوف اور ابدال کے ذریعہ سے حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متعدد اعمال نقل کئے ہیں اگرچہ محدثانہ حیثیت سے ان پر کلام ہے لیکن کوئی فقہی مسئلہ نہیں جس میں دلیل اور حجت کی ضرورت ہو، مبشرات اور منامات ہیں۔ امام عمر بن حفص کو شیخ محمد بن عبد اللہ تمیمی ؒنے بو قت وفات یہ نما زسکھلائی اور فرمایا کہ یہ نما ز میں نےخانہ کعبہ کےنزدیک حضرت خضر ؑ سےسیکھی تھی۔کرز بن وبرہؒ ابدال میں سے ایک بزرگ ہیں وہ فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت خضرعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے درخواست کی کہ مجھے کوئی عمل بتائیے جو میں رات میں کیا کروں انہوں نے فرمایا کہ مغرب سے عشاء تک نفلوں میں مشغول رہا کر، کسی شخص سے بات نہ کر، نفلوں میں دو، دو رکعت پر سلام پھیرتا رہا کر اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورئہ فاتحہ اور 7مرتبہ قل ہواللہ پڑھتا رہا کر ،عشاء کے بعد بھی بغیر بات کئے اپنے گھر چلا جا اور وہاں جاکر دو رکعت نفل پڑھ، ہر رکعت میں ایک دفعہ سورئہ فاتحہ اور7 مرتبہ قل ہو اللہ، نماز کا سلام پھیرنے کے بعد ایک سجدہ کر و جس میں 7 مرتبہ استغفار،7 مرتبہ درود شریف اور7 مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ پڑھوپھر سجدہ سے سر اٹھا کر دُعا کے لیے ہاتھ اٹھاو اور یہ دعا پڑھو یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَا اِلٰہَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ رَحِیْمَھُمَا یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَارَبِّ یَآ اَللہُ یَآ اَللہُ یَآ اَللہُ پھر اسی حال میں ہاتھ اٹھائے ہوئے کھڑا ہو اور کھڑے ہوکر پھر یہی دعا پڑھ، پھر دائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف منہ کرکے لیٹ جا اور سونے تک دُرود شریف پڑھتا رہ ۔ میں نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے یہ بتادیں کہ آپ نے یہ دعا کس سے سنی ہے تو فرمایا کہ میں حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جب آپ کو یہ دعا سکھائی گئی اور آپ کی طرف اس کی وحی کی گئی میں آپ کے پاس تھا اور یہ سب کچھ میری موجودگی میں ہوا، تو میں نے اس سے سیکھ لیا جس نے آپﷺ کو سکھایا۔ اور کہا جاتا ہے کہ جس نے اس نماز اور دعا پر حسن یقین اور صدق نیت کے ساتھ پابندی کی وہ موت سے پہلے آپﷺ کی خواب میں زیارت کرے گا اور بعض لوگوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہوئے اور اس میں انہوں نے انبیاء اور آپﷺ کی زیارت کی اور گفتگو کی اور تعلیم حاصل کی، اور اس نماز کے بہت سے فضائل ہیں۔ ( قوت القلوب ج 1ص 43۔فضائل درود شریف ص49۔مجربات اکابرؒ304۔نافع الخلائق۔شمع شبستا ن رضا ج4ص62) یادرکھیں !شیخ الوظائف دامت برکاتہم عملیات و وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔

عید گاہ جانے سے پہلے شیخ الوظائف سےمسنون طریقہ سیکھ لیں۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کو شش یہی ہے کہ تمام انسانیت اللہ کریم کی طرف حضور پاکﷺ کے واسطے سےجڑنے والی بن جائےاسی لیے آپ کی سنت کے موضو ع پر بیش بہاکتابیں ہیں ان ہی میں سے ایک کتاب’’ سنت کا نو ر ہر بلادور‘‘ بھی جوکہ سنتیں سکھانے کیلئے نہایت آسان مختصر اور جامع کتا ب ہے ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کےدوستوں کو چاہیے کہ ان پوسٹوں کو زیادہ سے شئیر کیا کریں انشاء اللہ آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا۔ عیدالاضحی کیلئے جانےسے پہلے درج ذیل سنتوں کا ضرور اہتمام کریں ۔ (1)مسواک کرنا(مصنف عبدالرزاق)۔ (2)غسل کرنا(ابن ماجہ)، (3)اچھے کپڑے پہننا (بیہقی) ۔(4)خوشبو لگانا(مصنف عبدالرزاق) فائدہ: آپ ﷺ اس بات کوناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص بغیر خوشبولگائے مجلس میں آئے(سیرۃ الشامی)۔ (5) عید گاہ میں نماز کیلئے پیدل جانا اورآنا(ترمذی ، ابن ماجہ)۔ (6)ایک راستے سےجانا دوسرے سے آنا۔ (7) عید کی نماز سےپہلے کوئی نوافل نہ پڑھنا(بخاری) ۔ (8)نماز کے بعدعیدگاہ میں نفل نہ پڑھے بلکہ گھر آکر چاررکعت نفل ادا کرے(ابن ماجہ)۔ (9)عیدین کی نمازمیں زائد تکبیرات پر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھو ڑنا(البحرالرائق) ۔ (10) ۔ عید الاضحی میں اپنی قربانی سے پہلےکچھ نہ کھانا(ترمذی) ۔ (11)قربانی کےگوشت سے کلیجی کھانا (سنن کبریٰ)۔ (12)ایک دوسرے کو مبارکباد کے الفاظ کہنا۔ (13)عیدالفطرمیں آہستہ اور عید الاضحی میں بلند آواز سے تکبیر کہتے ہوئے جائےاور عید گاہ پہنچ کر تکبیر بندکردے ۔ (14)۔عیدین کی نماز کیلئے جاتے ہوئے یہ تکبیرات پڑھیں: اَللهُ اَكْبَرُ ، اَللهُ اَكْبَرُ ، لَآ إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، وَلِلهِ الْـحَمْدُ (15)9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک بھی یہ تکبیر ات پڑھنا(سنن کبریٰ)۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025