سواکروڑ من گھڑت درود کاچلہ لاعلاج امراض کا آخری علاج

یہ درود شریف پڑھیں ۔۔۔! کیا عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں دیا جانے والادرود شریف من گھڑت ہے ۔۔۔؟؟؟ اللہ مہربان کے فضل و کرم سے شیخ الوظائف کی بھرپور کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہمارے منبر سے کوئی بھی چیز ایسی شائع نہ ہو جوکہ ہماری خود ساختہ ہو۔ ابھی کچھ دن قبل تسبیح خانہ لاہور کی شاخ عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں ہزاروں لوگوں نے کروڑوں مرتبہ یہ درود پاک پڑھا جوکہ تمام مکاتب فکرکے اکابرؒ کی زندگی میں معمول ہے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں : اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ کُلِّ دَاءٍ وَ دَوَاءٍ وَبَارِک وَسَلِّم یرقان ،بلڈپریشر، پتھری اور کینسر کا علاج شیخ المشائخ مولانا سید محمود صندل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی پر دم کر کے اس پانی سے غسل کریں، یہ 71 امراض کا مجرب علاج ہے، ان امراض میں شوگر، یرقان کی تمام اقسام، بلڈپریشر، پتھری یہاں تک کہ کینسر بھی شامل ہے۔ زکوۃ:شب جمعہ 1400 مرتبہ پڑھیں۔ ( تحفہ صندلیہ ص38 افادات: شیخ المشائخ مولانا سید محمود صندل باباجی رحمہ اللہ،ناشر:مکتبہ عرفان لاہور) موذی امراض سے فوری شفاء مولانا اقبال قریشی صاحب فرماتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے درد اور مرض کیلئے مریض پر یہ درود شریف اس طرح دم کریں کہ اول آخر تین بار یہ درود پڑھیں اور درمیان میں سات بار سورۃ فاتحہ مع بسم اللہ اور 3 بار سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب حضرت علامہ مخدوم محمد ہاشم سندھی رحمہ اللہ کو بخش دیں اور مریض پر دم کرے تو انشاء اللہ العزیز فوراً شفا ہوجائے گی۔ نیز اگر مریض لاعلاج قرار دے دیا گیا ہو یا بیماری سخت ہو تو یہ درود شریف اول و آخر 100 بار پڑھے۔ شوگر اور کینسر جیسے موذی امراض میں نہایت اکسیر پایا ہے۔ (وظائف الصالیحین ص96تالیف مولانا اقبال قریشی، پسند فرمودہ :شیخ عبدالرحمٰن الشیبی حفظہ اللہ، داماد شیخ الحدیث مولانا محمد سلمان الحسنی، مولانا محمد مکی الحجازی ؒ، مولانا ابو القاسم نعمانی صاحب مہتمم دار العلوم انڈیا، ناشر:مکتبہ شھید اسلام، اسلام آباد ) جامعہ بنوری ٹائون کا فتویٰ جامعہ بنوری ٹائون کا فتویٰ ہے کہ وبائی امراض سے نجات کیلئے اس درود شریف کا کثرت سے ورد کیا جائےاس کیلئے انھوں نے درج ذیل کتابوں کے حوالے دیے ہیں ۔ (شفاء القلوب ، ص:223 ، ط: مکتبہ نبویہ ،روح البیان۔7/234، ط: دارالکتب العلمیہ) اس کے اہتمام سے ان شاء اللہ تعالیٰ کرونا وائرس اور تمام وبائی، روحانی اور جسمانی امراض سے حفاظت ہوگی۔ (فقط واللہ اعلم فتوی نمبر : 144107201120،دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ کا خاص عمل علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ نے اس درود پاک کو اپنی کتاب ذریعۃ الوصول الیٰ جناب الرسول میں بھی ذکر کیا ہے ۔ ( ذریعۃ الوصول الیٰ جناب الرسول ص81،مصنف: علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ ترجمہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ ناشر مکتبہ لدھیانوی کراچی) یاد رکھیں!!! تسبیح خانہ وظائف بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔ Sawa Karor Durood Ka Chilla La Ilaj Amraaz Ka Akhri Ilaj 599 فیس بک پر پڑھیں
حضرت خضرؑ سے ملاقات گارنٹی شدہ عمل ‘اس عمل کی حقیقت جانئیے!

تسبیح خانہ کے منبر سے شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے حضرت خضرؑ سے ملاقات کے لئے ظہر کی نماز کے بعد نفل نماز میں آخری دس سورتیں پڑھنے کا عمل بتایا ۔آپ دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ عمل کرے گا اور اس کا ثواب حضرت خضر ؑ کو کردے تو اس کی ان شاءاللہ جلد یا بدیر حضرت خضر ؑ سے ضرور ملاقات ہو جائے گی ۔یہ عمل بھی باقی اعمال کی طرح تسبیح خانہ کا اپنا نہیں بلکہ بزرگوں اور اکابرین کی ترتیب کے عین مطابق ہے۔ اس عمل کا حوالہ’’ حضرت شیخ نظام الدین اولیاءؒ ‘‘ کی کتاب میں موجود ہے‘ جس میں شیخ نظام الدین اولیاءؒ کے ملفوظات کو جمع کیا گیا ہے۔اس کتاب میں آپ ؒفرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کے بعد دس رکعت نماز پانچ سلاموں سے پڑھو اور ان دس رکعتوں میں قرآن پاک کی آخری دس سورتیں پڑھو۔اس کے بعد فرمایا کہ اس نماز کو نماز خضر کہتے ہیں(یعنی ان نوافل کا ہدیہ حضرت خضر ؑ کو کردیں)۔تحقیق یہ ہے کہ جو کوئی یہ نماز(نوافل )پڑھتا ہے تو اس کی حضرت خضر ؑ سے ملاقات ہوتی ہے۔‘‘۔ (بحوالہ :فوائد الفواد‘ مترجم:خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی‘مکتبہ زاویہ‘ لاہور۔)ان حوالہ جات کے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تسبیح خانہ میں بتائے جانے والے اعمال کا تعلق شرک اور بدعت سے نہیں بلکہ اس کا تعلق قرآن و سنت‘سلف صالحین اور اکابرین سے ہے۔ Hazrat Khizar Se Mulaqat Ka Guarante Shuda Amal Qisat 605 فیس بک پر پڑھیں اکابر پر اعتماد ہی سے سلامتی ملے گی
مچھروں کو بھگا دینے والا تعویذ!کیا عبقری والوں کو تعویذات کا ہیضہ ہو گیا ہے؟

آج سے کچھ عرصہ پہلے عبقری سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شئیر کی گئی جس میں مچھروں سے حفاظت اور ان کو بھگا دینے والے ایک تعویذ کے بارے میں بتایا گیا۔اس کے بعد جہاں بہت زیادہ لوگوں نے اپنے مشاہدات بتائے اور نفع پایا۔ وہاں کچھ لوگوں کی طرف سے اس پوسٹ اور تعویذ پر تنقید بھی کی گئی کہ عبقری نے مسائل کے حل کے لیے قرآنی و مسنون اعمال کے ساتھ ساتھ اب من گھڑت تعویذ گھڑنا شروع کر دیے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عبقری تسبیح خانہ کے منبر سے وظائف اور تعویذات بنائے نہیں بلکہ بتائے جاتے ہیں۔ شیخ الوظائف کے بتائے جانے والے ہر عمل کی طرح اس عمل کا تعلق بھی اکابرین سے ہی ہے۔آئیے اس عمل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔”اگر کہیں مچھروں کی کثرت ہو تو چار کاغذ پر یہ عدد ” ٢ ١ ٢ ١ ١ ١ "لکھ کر مکان یا باغ یا کمرہ کے چاروں کونوں پر چپکا دیں۔ انشاءاللہ سب مچھر بھاگ جائیں گے۔ مجرب ہے۔ (بحوالہ: گنجینہ اسرار، حضرت مولانا سیدانور شاہ کشمیری) عبقری تسبیح خانہ میں اکابرین کے بتائےجانے والے اعمال کا مقصد امت کو اس سے روشناس کروا کر ان کے مسائل کو حل کروانا اور اکابر کے فیض کو عام کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں بے شمار لوگ بدعات اور غیر اللہ کی بجائے اکابرین کے بتائے جانے والے اعمال سے مستفید ہو رہے اور ان شاءاللہ ہوتے رہیں گے۔ Machharon Ko Bhaga Denay Wala Taweez Qisat 606 فیس بک پر پڑھیں حضرت خضرؑ سے ملاقات گارنٹی شدہ عمل ‘اس عمل کی حقیقت جانئیے!
قربانی کے گوشت پر ’’یَا شَہِیْدُ‘‘ پڑھنے کا عمل!عبقری کے اس وظیفہ کا پوسٹمارٹم!

قربانی کے گوشت پرشیخ الوظائف نے اسماءالحسنیٰ میں سے ’’یَا شَہِیْدُ‘‘ پڑھنے کا عمل اور اس کے فوائد کے متعلق فرمایا کہ اس عمل سے عافیت‘ خیریں اور رزق میں بے بہا برکت ہوتی ہے۔شیخ الوظائف جہاں امت کو بدعات اور غیر اللہ سے نکال کر اعمال سے پلنے‘ بننے اور بچنے کا یقین دے رہے ہیں وہاں وہ اس بات کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں کہ امت کو مسائل کے حل کے لئے ایسے اعمال بتائے جائیں جو قرآن و سنت ‘ سلف صالحینؒ اور اولیائے کرامؒ کی ترتیب پر ہوں‘ ایسا کوئی بھی عمل نہ بتایا جائے جو شریعت سے ٹکراتا ہو۔یہی وہ طریقہ کار ہے جسے ہر دور میں اللہ والوں نے حکمت بصیرت کے ساتھ اپناتے ہوئے امت کواعمال کی زندگی کے ساتھ جوڑا ہے۔آئیے اب ہم مستند کتاب اور مدارس کے فتویٰ جات سے اس عمل کی تصدیق کرتے ہیں۔ دارالعلوم انڈیا کا فتویٰ: سوال نمبر: 175902 عنوان:کھانے پر پھونکنے کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟ سوال:میرا ایک سوال ہے کہ کیا کوئی شخص کسی کھانے یا پینے والی چیز پر پھونک مار سکتا ہے برکت کے حصول کے لئے وہ بھی صرف کلام پاک یا پھر درود شریف وغیرہ ؟ سوال کا جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیر جواب نمبر: 175902۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔گرم کھانا یا گرم مشروب کو ٹھنڈا کرنے کے لئے آواز سے پھونک مارنا خلاف ادب ہے ، حدیث میں اس سے منع وارد ہے اس سے بچنا چاہئے۔ ہاں اگر بغرض حصول برکت و شفاء قرآنی آیت یا درود شریف وغیرہ پڑھ کر پھونک مار کر دم کر دیا جائے تو مضائقہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من النفخ فی الطعام والشراب (مسند أحمد) ولا ینفخ فی الطعام والشراب (تاتارخانیہ) وعن الثانی أنہ لایکرہ النفخ فی الطعام إلا بمالہ صوت نحو أف وہو محل النہي (شامی: زکریا: ۹/۴۹۱) Fatwa:457-421/M=05/1441 دارالافتاءجامعۃ العلوم السلامیہ کا فتویٰ:قربانی کے گوشت پر ختم شریف (اللہ کا نام )پڑھ کر کھانا یا تقسیم کرناجائز ہے۔مزید تفصیل کے لئے فتویٰ نمبر( جامعہ علوم اسلامیہ ):144201200106۔(الفتاوى الهندية (5/ 300)اسم ’’یَا شَہِیْدُ‘‘ کی فضیلت:اگر کوئی شخص 100 مرتبہ اس اسم (یَا شَہِیْدُ‘) کی مدوامت کرے ‘ صاحب شہود ہو جائے گا۔اولاد کی فرمانبرداری کے لئے مجرب ہے۔ہر وقت بکثرت ورد کرنے سےگھر میں خیر وبرکت پیدا ہوتی ہے‘ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے اور ہر مصیبت کےوقت اس کی مدد فرماتا ہے‘ اس کی تمام مشکلات حل ہوتی ہیں(حوالہ:اسماءالحسنیٰ کی برکات‘تالیف مولانا انظر شاہ کشمیری) (اسمائے الحسنیٰ سے مشکلات کا حل‘ ص۶۴) Qurbani Ke Gosht Par Ya Shaheedu Parhnay Ka Amal Qisat 607 فیس بک پر پڑھیں مچھروں کو بھگا دینے والا تعویذ!کیا عبقری والوں کو تعویذات کا ہیضہ ہو گیا ہے؟
دعائے حضرت علیؓ کو تسبیح خانہ نے عام کیا آئیے اس کے حوالہ جات کا ثبوت بھی تسبیح خانہ سے ہی لیجئے

تسبیح خانہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں امت کو اس سبق کی یاد دہانی کروا رہا ہے جو وہ بھول چکی تھی۔یہ ترتیب تسبیح خانہ کی اپنی نہیں بلکہ انبیاء‘ اولیاء‘ سلف صالحین اور اکابرین کی ہے جس کا اصل مقصد مخلوق کا اللہ کے ساتھ رابطہ اور اعمال سے پلنے‘ بننے اور بچنے کا یقین ہے۔ تسبیح خانہ دعائے حضرت علیؓ کے ذریعے اللہ سے مانگنا اور لینا سکھا رہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔دعائے حضرت علیؓ کا اہتمام بھی تسبیح خانہ کی اپنی ترتیب نہیں بلکہ یہ بھی عین اکابرینؒ سے ثابت ہے۔اس ضمن میں چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ شیخ علامہ ابن العربیؒ کے معمولات کا حصہ شیخ علامہ ابن العربی ؒ وہ مبارک عظیم بزرگ ہستی ہیں جو کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں۔انیسویں صدی عیسویں کےایک بہت بڑے درویش جنہوں نے شیخ علامہ ابن العربیؒ کے اوراد وظائف پر ایک جامع کتاب لکھی ہے جس میں شیخ ؒکے معمولات میں شامل اوراد و وظائف کا ذکر کیا گیااسی کتاب میں دعا ئے حضرت علیؓ کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جو کہ شیخ علامہ ابن العربی ؒ کے اوراد میں شامل تھی۔اس بات سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہےکہ یہ دعا صدیوں سے مشائخ کےاوراد کا حصہ رہی ہے۔(حوالہ: ’’ مجموعہ احزاب واوراد الشیخ الاکبرابن عربیؒ ‘ مصنف:خواجہ احمد ضیاءالدین افندی کمشخانویؒ‘‘) شیخ علامہ سعید نورسیؒ یہ وہ ہستی ہیں جنہیں مسلم دنیا بالخصوص ترکی میں بہت مقبولیت حاصل ہے ‘ انہیں بدیع الزماں علامہ سعید نورسی ؒ کے نام سےجانا جاتا ہے۔مسلمانوں کی تربیت و اصلاح کے لئے انہوں نے ایک مجموعہ رسالہ لکھا جس میں قرآن کی تفسیر بھی شامل تھی۔اسی رسالہ میں دعائے حضرت علیؓ کا خاص تذکرہ ہے جس میں وہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ’’ پچھلے پینتیس سال سے یہ دعا میرے معمول کا حصہ ہے۔انہوں نے اس دعا کو ترک عوام میں بہت زیادہ روشناس کروایا یہی وجہ ہے کہ آج ترکی میں لاکھوں لوگ اس دعا کو پڑھ رہے ہیں۔(حوالہ:رسالہ نور‘ مصنف شیخ علامہ سعید نورسیؒ) مولانا شیخ عدنان نقشبندیہ حقانیؒ ؒ سلسلہ نقشبندی العالیۃ حقانی میں بھی دعائے حضرت علیؓ پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے‘اس سلسلہ طریقت کے مشہور بزرگ حضرت مولانا شیخ عدنان قبانیؒ اپنے مریدین کے ساتھ حلقہ میں اس دعا کا خاص اہتمام فرماتے تھےاور اس دعا کے فضائل کے بارے میں بھی ارشاد فرماتے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔یہ اسمائے گرامی (دعا)جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا رسولﷺ کو ایک غزوہ میں لوہے کی بھاری زرہ پہننے کے بجائے بطور زرہ عطا فرمائے تھے۔ جو بھی ان کو پڑھے یا انہیں عزیمہ/تعویز بنا کر لے جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس شخص کی خاص کفایت اور مدد فرماتے ہیں اور ہر قسم کے مسائل پریشانیوں، زلزلے یا آسمانوں یا زمینوں کی ہر قسم کی بلاء ‘ مصیبت غرض ہر قسم کی بیماری سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ جو بھی کسی بچے کو یہ تعویذ دے گا، یہ بچہ بڑا ہو کر ایک ولی بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے محبوب اولیاء کی صف میں شامل فرمائے گا‘ اگرغیر مسلم پہنے اور اس کا ادب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی دولت عطا فرمائے گا۔ آئیے !آپ بھی عبقری کے اس عظیم مشن کے ساتھی بنیں‘ اپنے بڑوں کی ترتیب پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے نام سے اللہ لینا سیکھ لیں کیونکہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے۔ Dua e Hazrat Ali Ko Tasbeeh Khana Ne Aam Kiya Qisat 608 فیس بک پر پڑھیں قربانی کے گوشت پر ’’یَا شَہِیْدُ‘‘ پڑھنے کا عمل!عبقری کے اس وظیفہ کا پوسٹمارٹم!
فارسی کا ایک شعر اور بے بہا رزق

شیخ الوظائف نے فارسی کے درج ذیل شعر کا ایک وظیفہ بتایا جس کو پڑھنے سے اللہ کے غیب کے خزانوں سے بے بہا برکت والا رزق ملتا ہے ۔ ہر چند گناہم ز عدد بیرون است لطف و کرمت و لے ازاں ا فزون است نومید مشو ز رحمت تو ہر گز جُر مَم چُوں خَس است فضلِ تو بے چون است یہ وظیفہ مخلوقِ خدا نے آزمایا ‘عبقری سوشل میڈیا اور تسبیح خانہ آنے والے مجمع نے اپنے مشاہدات میں یہ بتایا کہ واقعتاً اس وظیفہ سے رزق میں بہت زیادہ برکت اور وسعت ملتی ہے۔اس وظیفہ کے متعلق کچھ مخلصین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک شعر کے پڑھنے سے کیسے رزق میں وسعت اور برکت ہو سکتی ہے اور ایسے کلمات کی ترتیب تو ’’ اکابر ینؒ‘‘کی زندگی میں نہیں ملتی۔ آئیے اس وظیفہ کے متعلق حقائق کو جانتےہیں کہ کیا ایسے بول اور اشعار اکابرؒ کی زندگی میں شامل تھے اور حدیث سے بھی کوئی ایسی بات ثابت ہے۔ حدیث شریف میں سیدنا عوف بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ ہم جاہلیت میں دم جھاڑ کیا کرتے تھے تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اپنے دم مجھے بتاؤ ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شرک نہ ہو ۔ “ ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میںواضح ہوں شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔ ( شرح حدیث3886سنن ابی داؤد‘ باب: دم جھاڑ کا بیان‘جامع الکتب اسلامیہ) قارئین!اگر مندرجہ بالا فارسی شعر کا ترجمہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس شعر میں بندہ اپنے گناہوں پر نادم و پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت و فضل کا سوال کر رہا ہے۔اس لئے ان کلمات میں کہیں بھی شرک اور بدعت نہیں ہے۔آئیے اب اکابرؒ کی زندگی سے حوالہ ملاحظہ کیجئے! ایک انوکھا واقعہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے پاس ایک دیہاتی آدمی آیااور عرض کرنے لگاکہ مجھے کوئی تعویذ دے دو۔حضرت مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ مجھے تو تعویذ نہیں آتا۔لیکن وہ شخص اپنی بات پر بضد تھا اور حضرت ؒ نے انہیں یہی فرماتے رہے کہ مجھے (تعویذلکھنا)آتا نہیں تو پھر کیسے دے دوں؟اس کے باوجود وہ شخص اپنی بات پر ضد کرتا رہا کہ مجھے میرے مسئلے کے لئے کوئی تعویذ دے دو۔حضرت ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا لکھوں‘ تو میں نے اس تعویذ میں لکھ دیا کہ ’’یا اللہ یہ مانتا نہیں‘ میں جانتا نہیں‘ آپ اپنے فضل و کرم سے اس کا کام کر دیجئے‘‘۔یہ لکھ کر میں نے اس شخص کو دے دیاکہ یہ (تعویذ )لٹکا لے۔اس نے لٹکا لیا اوراللہ تعالیٰ نے اسی کے ذریعہ اس کا کام بنا دیا۔ (حوالہ:اصلاحی خطبات‘ جلد 15‘مفتی تقی عثمانی صاحب) ٹیڑھی مانگ پر نرالہ تعویذ حضرت ؒ کا ہی واقعہ ہے کہ ایک عورت آئی اور عرض کرنے لگی کہ جب میں سر کے بال بناتی ہوں تو مانگ ٹیڑھی بن جاتی ہے سیدھی نہیں بنتی‘اس کا کوئی تعویذ دے دو۔حضرت ؒ نے فرمایا مجھے تعویذ نہیں آتامگر وہ عورت پیچھے پڑ گئی اور اپنے مسئلے کے لئے جب تعویذ کا اصرار کرنے لگی تو حضرتؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کاغذ پر لکھ دیا :بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ O اس کا تعویذ بنا کر پہن لو تو شاید تمہاری مانگ سیدھی نکل آئے۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (مانگ) سیدھی کر دی ہو گی۔’’بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے سے کوئی درخواست کی گئی اور اس کے دل میں آیا کہ یہ بات لکھ دوں‘ شاید اس سے فائدہ ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے زریعے فائدہ دے دیا۔(حوالہ ایضاً) ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض اوقات اللہ والوں کے کہے گئے الفاظ خدا کی بارگاہ میں ایسی قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں جس سے مخلوق فیض یاب ہو کر فائدہ پاتی ہے‘ یہ محض اللہ کا ہی فضل و کرم ہوتا ہے جس کی مثال درج بالا واقعات میں بیان کی گئی ہے۔ Farsi Ka Aik Sher Aur Bay Baha Rizq Qisat 610 فیس بک پر پڑھیں دعائے حضرت علیؓ کو تسبیح خانہ نے عام کیا آئیے اس کے حوالہ جات کا ثبوت بھی تسبیح خانہ سے ہی لیجئے
سلام علی نوح فی العلمین کا وظیفہ 4 اولیائے کرام ؒ کا متفقہ فیصلہ

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں شیخ ابوالحسن شاذلیؒ کا ایک زبردست عمل شائع ہوا کہ اگر سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا ہو تو بسم اللہ حروف مقطعات کی صورت میں اور اس کے بعد’’ سَلَامٌ عَلٰی نُوْ حٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ‘‘ لکھ کر دھو کر پلائیں‘ زہر اتر جائے گا اور مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں عبقری میں دئیے جانے والے وظائف کی کوئی سند نہیں ہوتی۔آئیے دیکھتے ہیں کہ درج بالا عمل کے متعلق مزید تین جلیل القدر علماءوالیائے کرامؒ کے کیا تاثرات ہیں؟ امام ابوالقاسم قشیریؒ(مکتبہ شافعیہ) لکھتے ہیں کہ:جس شخص کو سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو‘ وہ صبح و شام یہ آیت ’سَلَامٌ عَلٰی نُوْ حٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ‘‘ پڑھ لے تو محفوظ رہے گا۔(بحوالہ تفسیر القریشی المعروف بہٖ لطائف الاشارات فی تفسیر القرآن‘ناشر:دارالکتب العلمیہ‘ بیروت لبنان) علامہ کمال الدین دمیریؒ فرماتے ہیں کہ: سانپ اور بچھو نے حضرت نوحؑ سے وعدہ کیا تھا کہ جو شخص آپؑ کا نام لے گا‘ ہم اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔لہذا ’’ سَلَامٌ عَلٰی نُوْ حٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ‘‘سانپ اور بچھو سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب ہے۔(بحوالہ:حیات الحیوان‘ احکام تعویذات صفحہ 39‘ مصنف:مفتی محمد ہاشم خان مدنی(مکتبہ بریلویہ)ناشر:مکتبہ بہار شریعت‘ داتادربار ‘لاہور۔) حضرت علامہ ابو محمد عبداللہ یافعی یمنی ؒ(مکتبہ حنفیہ)لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بچھو کے لئے سَلَامٌ عَلٰی نُوْ حٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ پڑھ لے تو اس کی ایذاء سے بچا رہے گا۔(بحوالہ کتاب:اسرار رحمانی صفحہ 219‘ مترجمـ:مولانا رحیم بخش صاحب دہلوی‘ ناشر:مشتاق بک کارنر‘ اردو بازار‘ لاہور۔) Salamun Ala Nuhin Fil Aalameen Ka Wazifa Qisat No 16 فیس بک پر پڑھیں فارسی کا ایک شعر اور بے بہا رزق
کیا تمام اکابرین و اسلاف مرزائی تھے؟

چند برس پہلے ماہنامہ عبقری میں خیروبرکت پانے کے لئے ایک وظیفہ شائع ہوا۔ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ اَحْمَدُرُسُوْلُ اللہ اس پر چند لوگوں کی طرف سے ایک بے بنیاد اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ تو قادیانیوں کا کلمہ ہے۔اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔حالانکہ اول بات تو یہ ہے کہ مرزائی قادیانی یہ کلمہ پڑھتے ہی نہیں ہیں۔دوم یہ کہ جب ہم اپنے اکابرینؒ کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک وظیفہ کے فضائل و برکات کو مختلف اکابرین ؒ نے بیان فرمایا ہے۔ (1) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے زیارت رسولﷺ کے لئےبیان فرمایا۔(حوالہ:فضائل درود شریف‘ ص 50‘ ناشر:کتب خانہ فیضی لاہور۔) (2) یہی عمل محدث کبیر‘ محقق العصر علامہ انور شاہ کاشمیریؒ نے رزق میں برکت کے لئے اپنے تمام متعلقین کو عنایت فرمایا۔(حوالہ:گنجینہ اسرار‘ ص29‘ ناشر:ادارہ اسلامیات‘انارکلی لاہور) (3) یہی وظیفہ شہنشاہ عملیات‘ ابو العباس شیخ احمد علی بونیؒ نے ولایت کے اعلیٰ مقامات پانے کے لئے اپنے ہزاروں مریدین کو عطا کیا۔(شمس المعارف‘ ص34‘ ناشر: شبیر برادرز‘ لاہور) (4) حضرت علامہ کمال الدین دمیریؒ نے گناہوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کےلئے اپنی مشہور زمانہ کتاب’’ حیات الحیوان‘‘ میں بیان کیا(حوالہ:حیات الحیوان‘ ص 128‘ ناشر:مکتبہ الحسن‘اردو بازار لاہور) (5) اسی عمل کو زبدۃ المحدثین نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی ؒ نے جنات سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب بتا یا ہے۔(حوالہ:الداء والدواء‘ ص 110‘ ناشر:مشتاق بک کارنر ‘الکریم مارکیٹ ‘اردو بازار‘ لاہور) اس کے علاوہ تمام علمائے کرام و مشائخ عظام نے اس عمل کو سراہا اور پنےمعمولات کا حصہ بنایا ہے۔جن میں مولانا ابولمظفر ظفر احمد قادری‘ مولانا حافظ محمد اقبال قریشی‘ مفتی احمد الرحمانؒ کے صاحبزادے مولانا عزیز الرحمانی‘ مولانا محمد اسحاق ملتانی‘ مولانا اعجاز احمد سنگھانوی جیسی معتبر شخصیات سر فہرست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام اکابرین مرزائی تھے؟کیا انہوں نے مسلمانوں کو راہ راست سے گمراہ کرنے کا حلف اٹھایا ہوا تھا؟ہر گز ایسا نہیں ہے۔یہ وظیفہ تو اس وقت کا ہے جب مرزا قادیانی ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔محترم قارئین! ہمیں اپنے اکابرین کے ایمان میں شک کیوں پیدا ہو گیا ہے۔یہ وہی اکابرینؒ ہیں کہ جن کی مساعی کے صدقے ہم تک ایمان اور اعمال والی زندگی پہنچی۔کیا آج کے فتنوں بڑے دور میں ہم ان سے بڑے محقق اور مجدد بن چکے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ انہی اکابرینؒ امت کے آزمودہ وظائف و عملیات کو آپ تک پہنچانے کا فریضہ نبھا رہا ہے۔تو پھر قصور کس کا ہے؟اعتراض کرنے والے لا علم لوگوں کا یا علم و عمل کے پہاڑ اکابرینؒ امت کا۔۔؟ Kya Tamaam Akabireen-o-Aslaaf Mirzai Thay Qisat No 17 فیس بک پر پڑھیں سلام علی نوح فی العلمین کا وظیفہ 4 اولیائے کرام ؒ کا متفقہ فیصلہ
تسبیح خانہ میں 12 ربیع الاول کی محفل اور اعمال خود ساختہ ہیں یا ہمارے اکابرین کی ترتیب کا حصہ

تسبیح خانہ کی شروع دن سے یہ ترتیب ہے کہ لوگوں کے مسائل اور الجھنوں کے حل کے لئے ان کو وہ اعمال‘ذکر اور تسبیح دی جائےجو قرآن‘حدیث ‘صحابہ ؓواولیاءؒاورسلف صالحین ؒ سے ثابت ہوں۔تسبیح خانہ میں 12ربیع الاول کے مخصوص دن پر موئے مبارک کی زیارت اور لنگر کی تقسیم کیا یہ عمل بھی اکابرین کی ترتیب کا حصہ تھے ۔آئیے جانتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے معمول میں شامل تھا کہ ہر سال 12 ربیع الاول کے موقع پرموئے مبارک کی زیارت کرتے اور لنگر بھی تقسیم کرتے تھے جس سے انہیں بہت سے فوائد و کمالات کا مشاہدہ ہوا۔ذیل میں چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔ 12 ربیع الاول کے موقع پر لنگر کی تقسیم : حسب دستور 12 ربیع الاول کو میں نے قرآن پاک کی تلاورت کی اور حضور ﷺ کی کچھ نیاز(لنگر) تقسیم کی اور آپ کے موئے مبارک کی زیارت کروائی۔اس موقع پر فرشتوں کا نزول ہوا اور رسول اللہﷺ کی روح پر فتوح نے اس فقیر اور اس سے محبت کرنے والوں کی طرف بہت التفات فرمائی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ فرشتوں کی ٹولی اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت نیاز مندی اور عاجزی کی بناء بلند ہو رہی ہے۔اس کیفیت کی برکتیں اور انوارات نازل ہو رہے ہیں۔(بحوالہ :القول الجلی فی ذکر آثار الولی ‘ ص۶۹‘۷۰‘۱۸۲‘ ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ ؒ ،مؤلف‘حضرت مولانا محمد عاشق پھلتی ؒ‘ناشر:شاکر پبلی کیشنز‘لاہور) محفل میلاد میں انوار ملائکہ کی بارش: مکہ معظمہ میںروز ولادت سرور کائناتﷺ کی محفل میلاد شریف میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا ۔لوگ آپ ﷺ پر صلوۃ و سلام اور آپ کے معجزات بیان کرنے میں مشغول تھے۔میں نے اس دوران وہاں بجلی چمکتی ہوئی کوئی چیز دیکھی۔مجھے اس ادراک کی فکر ہوئی کہ کیا وہ نگاہ ظاہر سے ہے یا نگاہ باطن سے۔پھر جب میں نے غور کیا تو دیکھا کہ یہ ان ملائکہ کے انوار ہیں جو اس متبرک مقام پر مامور ہیں اور ان میں انوار رحمت بھی شامل ہیں۔اس کی مزید تفصیل فیوض الحرمین میں موجود ہے۔(بحوالہ :القول الجلی فی ذکر آثار الولی‘ص ۱۶۲‘۱۶۳‘ ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ ‘ مؤلف‘ حضرت مولانا محمد عاشق پھلتی ؒ‘ناشر:شاکر پبلی کیشنز‘لاہور) سبز میٹھے چاولوں کا لنگر : حضرت ابو عمران واسطی ؒفرماتے ہیںکہ میں مکہ مکرمہ سےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کی زیارت کے ارادہ سے روانہ ہوا۔ جب میں حرم سے باہر نکلا تو اچانک مجھے اتنی شدید پیاس لگی کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ میں اپنی جان سےنا امید ہو کر ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا‘ کچھ دیر بعد سبز گھوڑے پر سوار ایک شہسوار میرے پاس پہنچے، اس گھوڑے کا لگام بھی سبز تھا، زین بھی سبز تھی اور سوار کا لباس بھی سبز تھا اور ان کے ہاتھ میں سبز گلاس تھا جس میں سبز ہی رنگ کا شربت تھا۔ وہ انہوں نے مجھے پینے کے لئے دیا میں نے تین مرتبہ پیا مگر اس گلاس میںسے کچھ کم نہ ہواپھر انہوں نے مجھ سے دریافت کیاکہ تم کہاں جا رہے ہو؟میں نے کہا کہ میرا مدینہ طیبہ حاضری کا ارادہ ہےتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کروں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوںکو سلام کروں۔ شہسوار نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جائو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرات شیخین کی خدمت میںسلام کر لو تو یہ عرض کر دینا کہ رضوان آپ تینوں حضرات کی خدمت میںسلام عرض کرتے تھے۔ رضوان اس فرشتہ کانام ہے جو جنت کے ناظم ہیں۔ (حوالہ: ص۱۳۰، فضائل صدقات، مصنف : مولانا ذکریا ؒ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تسبیح خانہ امت کو شرک و بدعت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر اکابرین کی روشن ترتیب پر لا رہا ہے۔ Tasbeeh Khana Mein 12 Rabi Ul Awal Ki Mehfil Aur Amaal 611 فیس بک پر پڑھیں کیا تمام اکابرین و اسلاف مرزائی تھے؟
12 ربیع الاول کی مبارک ساعتیں اور مشکلات سے نجات پانے والے اعمال

شیخ الوظائف نے مخلوق خدا کے دکھوں غموں اور مصائب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ربیع الاول کی مبارک گھڑیوں میں ایسے روحانی اعمال ترتیب دیے جو اپنی تاثیر میںباکمال اور بے مثال ہیں۔ اس خیر کے کام کو بھی کچھ لوگ ہمیشہ اعتراض کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔مخلصین کو ان اعتراضات اور شک و شبہات سے بچانے کے لئے اس پوسٹ کے حصہ اول اکابر کی کتابوں سے چند حوالے پیش کیے گئے۔ تسبیح خانہ میں 12 ربیع الاول میں ہو نے والے اعمال کے مزید حوالے پیش کیےجا رہے ہیں۔ دھاگے اور کنگھی سے پرانا جادو اور نظر بد ختم ٭ مریض کے سر سے پیر کے انگوٹھے تک نیلے دھاگےگیارہ عدد لے لیں۔ ان کی چار تہہ کر لیں اور ان دھاگوں پر گیارہ گرہیں لگائیں اور ہر گرہ کے دائرے میںگیارہ گیارہ مرتبہ معوزتین پڑھ کر گرہ لگائیں اس کے بعد اس ڈورے کو جلتےہوئے کوئلوں پر ڈال دیں۔ گیارہ دن تک اس عمل کو کریں ان شاء اللہ سحر سے نجات مل جائے گی۔(بحوالہ ص: ۱۰۳، کشکول عملیات ، موٴ لف: مولانا سید حسن الہاشمی ) ٭صحت کیلئے گنڈہ کالی ڈوری سر سے پیر کے انگوٹھے تک ناپ کر سورتہ فاتحہ بمع بسم اللہ کی میم کو لام کے ساتھ ملاکر پڑھے اور گرہ پر دم کرے اکیس گرہ لگا کر مریض کو پہنادیں ۔(بحوالہ ص: 22، کتاب:عملیات اکابر، مصنف :حاجی عبدالسلام رائے پوری) ٭ ایک دھاگہ کسم کا رنگا ہوا عورت کے قد کے برابر اس میں نو گرہ لگائے اور ہر گرہ پر سورہ النحل کی آیت نمبر 127 اور 128 پڑھ کر پھونکے ان شاء اللہ تعالیٰ حمل نہ گرے گا اور اگر کسی وقت دھاگہ نہ ملےتو کاغذ پر لکھ کر پیٹ پر باندھیں۔ (بحوالہ ص: ۳۹۷ ، تالیف :عمدہ السلوک، موٴلف :حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ علیہ، زوار اکیڈمی پبلیکیشنز) ٭ جس کو نظر بد لگ گئی ہو خواہ مرد ہو یا عورت ہو‘ ایسی حالت میںنیلے سوت کے نو دھاگے لیں جو اتنے بڑے ہوں کے مریض کے گلے میں آجائیں۔ان پر چھ گرہیں اس طرح لگائی جائیں گی کہ ہر گرہ پر سات بار درود شریف اور تین بار سورۃ اخلاص پڑھ کر ہر گرہ پر دم کریں اور یہ دھاگہ مریض کے گلے میں ڈال دیں۔ ( بحوالہ ص:۲۵۰ ، خزینہ عملیات، مصنف : حافظ صوفی محمد عزیز الرحمٰن صاحب پانی پتیؒ) ٭ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ پر جب ایک یہودی نے جادو کیا اس میں آقا ﷺ کے بال مبارک اور کنگھی استعمال کی۔اس جادو سے اللہ تعالیٰ نےنبی ﷺ کو شفاء عطا فرمائی۔( بخاری، کتاب الادب)۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرکنگھی کا استعمال انسان پر جادو کے لئے ہو سکتا ہے، اسی چیز کے توڑ اور آفات اور بلیات سے نجات کے لئے اس پر نورانی کلام پڑھ کر حفاظت بھی ہو سکتی ہے۔ بے اولادوں کے لئے سنہری موقع سیب اور لونگ کا خاص عمل ٭ چالیس لونگ لے کر ہر ایک پر سات سات بار سورہ النور کی آیت نمبر 40 پڑھیں ۔ پھرجس دن عورت پاکی کاغسل کرے اس دن سے ایک لونگ روزانہ سوتے وقت کھانا شروع کرے اور اس پر پانی نہ پئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اولاد ہو گی۔ ( بحوالہ ص : 465 ، تصنیف : جامع الوظائف : مصنف :علامہ ارشد حسن ثاقب)(ص: ۳۹۷ ، تالیف :عمدہ السلوک، موٴلف :حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ علیہ، زوار اکیڈمی پبلیکیشنز) دعائے وسیلہ گھرانہ رسولﷺ اور ہر دعا قبول سوال نمبر: 54716: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنا کیسا ہے؟ اگر کوئی ایساکرنا جائزہے تو حوالہ دیں۔ براہ کرم، جواب دیں۔ جواب نمبر: بسم الله الرحمن الرحيم :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے یا کسی نیک وصالح شخص خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ کے وسیلہ سے یا اعمال صالحہ کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ودرست ہے اورمتعدد نصوص سے ثابت ہے، ان میں سے ایک دلیل یہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو بصارت کے لیے اپنے وسیلہ سے درج ذیل الفاظ میں دعا کرنے کی ہدایت فرمائی: ”اللَّھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ، إِنِّي تَوَجَّھْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي ھَذِہِ لِتُقْضَی لِیَ، اللَّھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ‘‘یہ روایت ترمذی شریف (۲:۱۹۸) میں ہے اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور ابن ماجہ (ص۹۹) میں بھی ہے ۔ اس لیے توسل کا انکار درست نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم ۔( دارالافتاء،دارا لعلوم انڈیا) Fatwa ID: 1263-1258/N=11/1435-U اپنی تصویر لائیں رشتوں کی بندش ختم بہت سے اہل حق علماء تصویر کے جواز کے قائل ہیں۔ اس دجالی فتنوں کے دور میں ایک ایسے فتنے نے سر اٹھایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک الگ فتنہ ہے۔ جہاں کالے اور سفلی جادوگر تصویروں پر جادو کر کے لوگوں کی زندگی تباہ کر رہے ہیں ۔ان چیزوں سے حفاظت اور برکت کے لئے روحانی اور نورانی اعمال کے ذریعے تصویر پر عمل کر کے اس کی برکات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہمیں عملیات کی مستند کتابوں میں ملتی ہیں۔جن میںکتاب: آسان عملیات اور تعویزات یعنی قرآنی علوم و معارف کا اعجاز، مرتبہ : عامل کامل اعجاز احمد خان سنگھانوی، جلد دہم ، صفحہ ۲۹۰، ۲۷۲ شامل ہے۔ اپنے نام کا اسم اعظم اور اس کی تاثیر لے جائیں سوال نمبر: 24753: حروف ابجد کا استعمال وظائف کے لیے کیسا ہے؟کیا ہمارے مذہب میں اس کی کوئی اہمیت ہے؟ جواب: وظائف وعملیات میں ان اعداد کا استعمال جو بقاعد ابجد آیات قرآنی سے نکالے گئے ہوں، مفید ہیں، قدیما وحدیثا نقوشِ قرآنی کا استعمال صلحا وصوفیا کے یہاں ہوتا رہا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ (دارالافتاء،دارالعلوم انڈیا) فتوی(ل): 1375=409-9/1431 مندرجہ بالا فتوی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسمائے الحسنیٰ کو خاص تعداد میں حروف ابجد کے اعداد کے مطابق پڑھ سکتے ہیں۔اس کا ذکر مستند کتب میں بھی موجود ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیں شمس المعارف و لطائف العوارف، مصنف: حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی،ؒ ناشر: شبیر برادرزلاہور، صفحہ ۴۹۶ اورارشاد العاملین، مصنف: علامہ ارشد حسن ثاقبؒ، ناشر: ادارہ قریش، صفحہ 72،73 ۔