ترکیہ کے سمندر میں صحابی رسول ﷺ کا معجزانہ عمل!

عبقری پانچویں انٹرنیشنل ترکیہ روحانی کانفرنس (16 تا 19 اپریل 2026ء) کے موقع پر شیخ الوظائف نے حاضرین کو سمندر میں مشکل کشا عمل کروایا، یہ عمل تسبیح خانہ کا خود ساختہ نہیں بلکہ مشہور صحابی رسول ﷺ علاء الحضرمیؓ کا ہے، آئیے اس کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ایک فوج تیار کی اور حضرت العلاء بن الحضرمیؓ کو اس کا سالار مقرر کیا۔ میں بھی اس فوج کے غازیوں میں شامل تھا، ہم اپنی جنگ کی جگہ پر آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ دشمن ہم سے پہلے پہنچ چکا ہے اور اس نے پانی کے نشان مٹا دیے ہیں (یعنی آس پاس پینے کے لیے پانی موجود نہ تھا)، گرمی شدید تھی پیاس نے ہمیں اور ہماری سواریوں کو مشقت میں ڈال دیا اور یہ جمعہ کا دن تھا جب سورج غروب ہونے کے لیے ڈھل گیا تو حضرت العلاء بن الحضرمیؓ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے اور ہم نے بھی آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے اور ہمیں آسمان میں کوئی چیز نظر نہ آئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم ابھی ان کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی اور بادل پیدا کیے اور وہ برسے حتیٰ کہ تالاب اور گھاٹیاں بھر گئیں، ہم نے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا اور جمع کر لیا۔ پھر ہم اپنے دشمن کے پاس آئے اور وہ سمندر کے خلیج کو پار کر کے جزیرہ تک پہنچ گئے انہوں (حضرت علاء الحضرمیؓ) نے خلیج پر کھڑے ہو کر فرمایا: یَا حَلِیْمُ یَا کَرِیْمُ یَا عَلِیُّ یَا عَظِیْمُ پھر فرمایا اللہ کا نام لے کر گزر جاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں ہم گزر گئے اور پانی نے ہماری سواریوں کے سموں کو بھی تر نہ کیا، پھر ہم خلیج پر آئے تو انہوں نے پہلے کی سی بات کی (یعنی مذکورہ کلمات دوبارہ پڑھے) اور ہم پار ہو گئے۔ پانی ہماری سواریوں کے سموں کو بھی تر نہ کر سکا۔ حوالہ جات
شیخ الوظائف کا فرمان: قبرستان جا کر باتیں کریں! انوکھا روحانی سچا انکشاف

شیخ الوظائف نے اپنے درس میں فرمایا کہ قبرستان جا کر اپنے مرحومین سے باتیں کیا کریں اس سلسلے میں ہم اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کرنے کے بجائے حافظ الحدیث علامہ جلال الدین السیوطیؒ کے چند حوالہ جات شہیدِ اسلام مولانا یوسف لدھیانویؒ کی زبانی عرض کرتے ہیں: س….. قبر پر کوئی عزیز مثلاً: ماں باپ، بہن بھائی یا اولاد جائے تو کیا اس شخص کی رُوح انہیں اس رشتے سے پہچانتی ہے؟ ان کو دیکھنے اور بات سننے کی قوت ہوتی ہے؟ ج….. حافظ سیوطیؒ نے ’’شرح الصدور‘‘ میں اس مسئلے پر متعدد روایات نقل کی ہیں کہ میت ان لوگوں کو جو اس کی قبر پر جائیں، دیکھتی اور پہچانتی ہے اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر جائے، جس کو وہ دُنیا میں پہچانتا تھا، پس جا کر سلام کہے تو وہ ان کو پہچان لیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔‘‘ یہ حدیث ’’شرح صدور‘‘ میں حافظ ابن عبدالبر کی ’’استذکار‘‘ اور ’’تمہید‘‘ کے حوالے سے نقل کی ہے، اور لکھا ہے کہ محدث عبدالحق نے اس کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 3 ص: 88) سماع ثابت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ کوئی خارج سے آواز اللہ پاک اپنی قدرت سے مُردوں کو سنادے کہ جس میں نہ صاحبِ صوت کو کچھ دخل ہو اور نہ میت کو ہو، تو ایسا ہونا بداہتہً بالکل ممکن ہے، اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق کی قدرت سے خارج نہیں۔ شواہدِ کثیرہ اس پر صاف دلالت کرتے ہیں، مثلاً قبرستان میں داخل ہونے کی دعا میں مُردوں کو مخاطب کر کے سلام کی مشروعیت، اسی طرح بعدِ دفن لوٹنے والوں کے جوتوں کی آواز کا مُردہ کو سنائی دینا وغیرہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم سو فیصد تعلیماتِ اکابرؒ کو پھیلاتے ہیں۔۔۔!
دارالتقویٰ مسجد الہلال چوبرجی کا شائع کردہ ایسا واقعہ جسے پڑھ کر آپ سب حیران ہوجائیں۔۔۔!!!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہی مزارات سے فیض کے قائل نہیں بلکہ 1400 سال سے اولیائے کرام اس کے قائل ہیں دارالتقویٰ مسجد الہلال چوبرجی سے شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ دارالتقویٰ دسمبر 2019 صفحہ 32 پر مولانا محمد اویس صاحب (مدیر ماہنامہ دارالتقویٰ) نے یہ مضمون چھاپا ہے کہ رائے ونڈ کے مولانا فہیم صاحبؒ جو کہ داعی اسلام حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کے خادم خاص ہیں انہوں نے علمائے کرام میں بیان کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ حکیم الاسلام مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب صاحبؒ افغانستان گئے تو وہاں کے بادشاہ نے ان سے فرمایا کہ صبح میرے وزراء میں آپ کا بیان ہوگا لیکن فارسی زبان میں بیان کریئے گا کیونکہ ان کو فارسی زبان ہی آتی ہے۔ مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فارسی پڑھاتے تو رہے مگر اس زبان میں بیان آپ کیلئے مشکل تھا ساری رات پریشان رہے کہ اہل زبان کے ساتھ ہمکلامی ہے یہ بیان کس طرح ہوگا۔ رات کو خواب میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارے لیے آسانی ہو جائے گی۔ جب صبح کو آپ بیان کرنے کھڑے ہوئے تو ایسے معارف بیان کیے اور ایسی فصیح زبان میں کہ وہاں موجود تمام لوگ حیران رہ گئے۔ یہ اصل میں شیخ الاسلامؒ کی توجہات کا اثر تھا۔ (ماہنامہ دارالتقویٰ، دسمبر 2019 ص 32، لاہور) اگر آپ مزارات سے فیض کے حیرت انگیز واقعات اور ان کے دلائل جاننا چاہتے ہیں تو شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کتاب ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ ‘‘ کا ضرور مطالعہ کریں۔
شیخ الوظائف کا صاحبِ مزار سے ہمکلام ہونا تعلیماتِ صحابہؓ کی روشنی میں

صحابی رسول ﷺ نے مُردے سے ملاقات کا قسم کھا کر اعلان کر دیا۔۔! شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا معمول ہے کہ آپ جب بھی کسی دوسرے شہر میں تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں کے اہلِ اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور بعض اوقات وہاں کے اہلِ اللہ سے ملاقات آپ پر منکشف ہو جاتی ہے اور یہ ملاقات کوئی خود ساختہ کہانی نہیں بلکہ تواتر سے منقول ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ باذوق اہلِ علم کے لیے شیخ الوظائف کے اس طرزِ عمل کے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصنیف ’’شوقِ وطن‘‘ میں ہے۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قسم ’’اللہ وحدہ لا شریک لہ‘‘ کی کھا کر کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانیؒ کو ان کی لحد میں رکھا اور میرے ساتھ حمید طویلؒ بھی تھے جب ہم نے ان پر کچی اینٹیں چنیں تو ایک اینٹ گر پڑی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اور وہ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! اگر کسی کو آپ نے قبر میں نماز پڑھنا عطا فرمایا ہے تو مجھ کو بھی عطا کیجئے، سو! خدا تعالیٰ نے ان کی دعا رد نہیں فرمائی بلکہ جیسے موسیٰؑ کو یہ دولت قبر میں نماز پڑھنے کی عطا ہوئی ہے۔ اس طرح ان کو عطا ہوئی۔ (اخرجہ ابونعیم فی الحلیہ) (شرح الصدور، صفحہ 78)، (شوقِ وطن ص 23، مصنف: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ محمد علی روڈ بمبئی)۔
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا فرمان مجذوب کا جھوٹا کبھی نہ کھانا۔۔! جھوٹا کھاتے ہی ڈاکٹر کا مجذوب بن جانا

مخدوم المشائخ حضرت مولانا شیخ سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ ان کے دور میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحب کا ایک مجذوب کے پاس اٹھنا بیٹھنا تھا۔ وہ مجذوب فوت ہونے لگا تو اس نے کوئی چیز کھانے کی ڈاکٹر صاحب کو دے دی اور ڈاکٹر صاحب نے وہ چیز کھا لی تو وہ بھی مجذوب بن گئے۔ اب وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بغیر ازاربند کے صرف ایک پاجامہ پہننے لگ گئے۔ حالت یہ تھی کہ پاجامہ ہاتھ میں لے کر چلتے پھرتے تھے۔ وہ ڈاکٹر صاحب ایک حکیم صاحب کے پاس آتے جاتے تھے۔ حضرت نے فرمایا: ایک دفعہ ہم بھی حکیم صاحب سے ملنے گئے تو اوپر سے وہ ڈاکٹر صاحب بھی آگئے۔ حکیم صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر انہیں فرمایا کہ میں ذرا مصروف ہوں، ملنے والے بیٹھے ہیں، اس لئے تھوڑی دیر تشریف رکھیں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد وہ ہمارے ہی پاس بیٹھ گئے۔ میں حیران تھا کہ جب میں ان کی طرف دیکھتا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتے اور جب میں ادھر ادھر دیکھتا تو وہ فوراً میرا چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے حکیم صاحب کے کاغذوں میں سے ایک کاغذ اٹھایا اور قلم لیکر کچھ گنگنانے بھی لگے اور لکھنے بھی لگے۔ جب میں نے ان کی گنگناہٹ پر تھوڑی سی توجہ دی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ عربی کے بہت ہی عجیب اشعار پڑھ رہے ہیں۔ سمجھ میں تو نہیں آتی تھی مگر اس کی سُر ایسی بنتی تھی کہ اس سے میں نے پہچان لیا کہ وہ محبت الہیٰ کے اشعار گنگنا رہے ہیں حالانکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو عربی سے کیا واسطہ؟ یہ بیچارے تو ٹٹ پٹ پڑھتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ڈاکٹر صاحب اٹھے اور ارشاد فرمایا کہ اب میں جاتا ہوں۔ حکیم صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب کیا بات ہے کہ آپ اتنے دن ہمارے پاس نہیں آئے؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ’’اب ہم دال ہو گئے ہیں‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ بعد میں حکیم صاحب نے سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا، کیا آپ کو پتہ چلا کہ یہ کیا کہہ گئے ہیں؟ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرمایا، میں تو نہیں سمجھا۔ حکیم صاحب کہنے لگے کہ یہ کہہ گئے ہیں ’’اب ہم دال ہو گئے‘‘ مطلب یہ کہ اب میں ابدال بن گیا ہوں۔ صحیح بتانے کی بجائے کہ ہم ابدال ہو گئے، اس نے اب کو پہلے کہا اور دال کو بعد میں۔ حضرت فرماتے ہیں کہ مجھے بھی حیرانی ہوئی کہ واقعی بات تو ایسی ہی گر گئی لیکن حکیم صاحب نے اشارہ سمجھ لیا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ایک عدسہ منگوایا جو حروف کو بڑا کر کے دکھاتا ہے۔ اس کی مدد سے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کہ ظاہر تو نظر آتا تھا کہ انہوں نے ایسے ہی نشان سے لگا دیے ہیں لیکن جب اس سے بڑا کر کے دیکھا تو پتہ چلا کہ عربی کا شعر اتنا خوبصورت لکھا ہوا تھا کہ ایسا تو کوئی کاتب بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔ حضرت حاجی محمد اعلیٰ صاحب خلیفہ مجاز شیخ العرب والعجم، مجذوبِ وقت حضرت مولانا شاہ عبدالغفور صاحب عباسی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ مقامات زواریہ کے حاشیے میں فرماتے ہیں ’’احقر میں محمد اعلیٰ کہتا ہے کہ ڈاکٹر شوکت صاحب کو اس عاجز نے بھی بارہا دیکھا ہے عجب خوبیوں کے مجذوب تھے۔ اب تک لاپتہ ہیں۔ کچھ عرصہ ان پر یہ کیفیت بھی رہی کہ اگر کوئی شخص اپنی کوئی حاجت تحریر کر کے پیش کرتا تو وہ اسی پرچہ پر قرآن شریف کی ایسی آیت لکھ دیتے جو جواب کے لئے کافی ہوتی اور حکیم شجاعت علی صاحب بھی بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے ان کی رسائی قطب ابدال اور رجال تکوین سے بھی بہت تھی اور مجذوب تو بکثرت ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے لیکن حق سبحانہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ تقریباً دس بارہ سال فالج کے مرض میں مبتلا رہے زبان بھی بند ہو گئی اور اسی مرض میں انتقال فرمایا۔ ڈاکٹر شوکت حکیم صاحب کا بہت احترام کرتے تھے۔ حکیم صاحب کی علالت کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب ایک دن اس عاجز کو سرِ راہ مل گئے تو عاجز نے ہمت کر کے ان سے کہا کہ آپ کے بھائی حکیم شجاعت علی صاحب کا یہ حال ہے آپ ان کے لئے تو کچھ کریں۔ اگرچہ ڈاکٹر شوکت صاحب بہت کم صاف اور مربوط بولتے تھے مگر اس وقت جواب میں انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا ’’میاں بھیا کیا کر سکتا ہوں‘‘ بیدک الخیر انک علی کل شی قدیر۔ (مقاماتِ زواریہ بحوالہ کتاب مجاذیب کی پراسرار دنیا ص 23، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ کراچی) آج اکابر پر اعتماد قسط نمبر 501 ذکر کردہ یہ واقعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے فرمان کی مکمل تصدیق کرتا ہے۔
شیخ الوظائف مجاذیب کے ادب کا کیوں فرماتے ہیں ۔۔۔؟

مجذوب حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے فیض کا ذریعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم تمام اولیائے کرامؒ کا ادب سکھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجاذیب کے ساتھ کبھی بے ادبی نہ کرنا یہی حقیقت ہے اور یہ ادب ہمارے تمام اکابرؒ کی زندگی میں تھا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں حافظ مرتضیٰ مجذوب مقیم پانی پتؒ سالک مجذوب تھے، حالتِ سلوک میں ان کو جذب ہوگیا تھا ہماری بستی میں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایک غل ہوا کہ غلام مرتضیٰ پتھر مار رہے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا۔ مجھ کو دیکھ کر انہوں نے پتھر مارنا چھوڑ دیئے اور مجھے قریب بلایا میرے ہاتھ میں کوئی کتابِ عشق تھی، اس کے اوراق کھلوائے گئے جب اس شعر پر نظر پڑی۔ عشق اوّل! عشق آخر! عشق کل! عشق شاخ وعشق نخل وعشق گل مجھ کو اشارہ کیا اور بشارتِ غلبہء توحید کی دی، فرمایا کہ جو اسرارِ توحید میری زبان سے بے ساختہ نکل جاتے ہیں یہ اسی بشارت کا ثمرہ ہے۔ (شمائم امدادیہ، ملفوظات حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ناشر: دو قومی پریس لکھنو۔ کتاب: بیس بڑے مسلمان ص 104، مصنف: حافظ عبدالرشید ارشد، ناشر: مکتبہ رشیدیہ لاہور۔ مجاذیب کی پراسرار دنیا ص 83، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ کراچی) شیخ الوظائف دامت برکاتہم تعلیماتِ اکابرؒ کے علمبردار ہیں اور مجاذیب کا ادب تمام مکاتبِ فکر کے اکابرین کی زندگی میں موجود ہے۔
عبقری میں ذکر کردہ تعویذ وغیرہ روشنائی سے لکھنا؟

(مفتی محمد فرقان، فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی، متخصص جامعہ بنوریہ کراچی) عبقری میں بہت سے تعویذات زعفران سے لکھنے کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ جو تعویذ زعفران سے لکھا جائے اس کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے یہ بات کوئی فلسفہ اور کہانی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے اس بات کو سمجھانے کیلئے میں آپ دوستوں کی خدمت میں ایک قدیم دارالافتاء کا فتویٰ پیش کرتا ہوں جو کہ عبقری کے اس دعویٰ کی تائید کرتا ہے۔ سوال: (1) پہلے تعویذ وغیرہ زعفران سے لکھے جاتے تھے، کیا اس لیے زیادہ اثر کرتے تھے؟ آج کل تو اسکیچ سے بنائے جاتے ہیں۔ (2) اگر ہم زعفران سے تعویذ بنوائیں کسی عالم سے تو کس طرح؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa ID: 501-554/L=6/1437 (1) تعویذ میں اصل وہ آیات و ادعیہ وغیرہ ہوتے ہیں جن کی برکت سے شفا ہوتی ہے خواہ ان کو زعفران سے لکھا جائے یا اسکیچ سے، البتہ زعفران کے بہت سے فوائد ہیں اس لیے بعض عاملین زعفران سے تعویذ لکھنے کا التزام کرتے ہیں۔ (2) یہ بات تعویذ لکھنے والا عامل خود ہی بتادے گا۔ (جواب نمبر: 64583) اس فتوٰی کے آخری جملہ پر غور کریں تو آپ کو یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ لکل فن رجال یعنی فن کیلئے ماہرین بھی الگ ہی ہوتے ہیں اس لیے کسی دوسرے فن کے اوپر فتوٰی لگانے سے پہلے اس کی گہرائی میں جانا یا اس کے ماہرین سے معلومات لینا بھی ضروری ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار
کیا روضہ اقدس ﷺ کی زیارت کیلئے سفر کرنا جائز ہے؟ شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ایک بڑا ثواب بتا دیا۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے 22 اکتوبر 2020ء کو تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والے درس میں ایک علمی بحث سے پردہ اٹھایا اور فرمایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ روضہ اقدس ﷺ کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کریں۔ اہل علم حضرات کیلئے ایک علمی بحث پیش خدمت ہے: جمہور اُمت کے نزدیک قبرِ اطہر ﷺ کی زیارت میں سے ہے اور بڑا کارِ ثواب ہے؛ کیونکہ روضہ میں روایات بہ کثرت وارد ہیں، دوسری ہر حاجی مکہ کا ایک لاکھ نمازوں کا ثواب چھوڑ ظاہر ہے کہ حجاج صرف مسجدِ نبوی ﷺ کی روضہ اقدس ﷺ پر حاضری ہوتی ہے اور چنانچہ ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ کے لیے سفر کرنا نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ اہم عبادتوں اقدس ﷺ کی زیارت کی فضیلت کے بارے بات یہ کہ پوری امت کا یہ تعامل چلا آرہا ہے کہ کر چار سو میل طویل سفر کر کے مدینہ جاتا ہے، زیارت کے لیے نہیں جاتے؛ بلکہ ان کا مقصود تعامل ایک مستقل دلیل ہے، والأولیٰ فیما یقع عند العبد الضعیف تجرید النیة لزیارة قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم و یوافق ظاھر ما ذکرناہ من قولہ علیہ الصلوٰة والسلام لا تعملہ حاجة الا زیارتی یعنی میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ خالص زیارت کی نیت کرے؛ کیونکہ حدیث لا تعملہ حاجة الا زیارتی (کہ میری زیارت کے سوا کوئی حاجت اس کو نہ لائی ہو) کے ظاہر کے موافق ہے (فتح القدیر: 3 / 180) اور شیخ الحدیث مولانا خلیل احمد سہارنپوری علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی علماء اہلسنت کا مسلک نقل کیا ہے: عندنا و عند مشائخنا زیارة قبر سید المرسلین (روحی فداہ) من أعظم القربات و أہم المثوبات و أنجح لنیل الدرجات بل قریبة من الواجبات، و إن کان حصولہ بشد الرحال و بذل المہج و الأموال و ینوی وقت الارتحال زیارة علیہ الف الف تحیة و سلام و ینوی معہا زیارة مسجدہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک زیارتِ قبرِ سید المرسلین ﷺ (ہماری جان آپ پر قربان) اعلیٰ درجہ کی قربت اور نہایت ثواب اور سببِ حصولِ درجات ہے؛ بلکہ واجب کے قریب ہے، گو شدِ رحال اور بذلِ جان و مال سے نصیب ہو اور سفر کے وقت آپ کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ میں مسجد نبوی وغیرہ کی نیت کرے۔ (المہند علی المفند: 27) جی ہاں! شیخ الوظائف کی سو فیصد کوشش ہے کہ اکابر کی تعلیمات سے بال برابر بھی انحراف نہ کیا جائے اور یہی آپ کا پیغام ہے بس ضرورت اپنے اکابر کو پڑھنے اور سمجھنے کی ہے۔
پیرانِ پیر کو ’’غوث اعظم‘‘ کہنا ٹھیک ہے یا نہیں؟؟ شیخ الوظائف غوث الاعظم کیوں کہتے ہیں۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے حلقہ کشف المحجوب جو کہ ہر انگریزی مہینے کے آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں صبح 8 بجے ہوتا ہے اس میں پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کو کئی مرتبہ غوث اعظم کے لقب سے یاد فرماتے ہیں جو کہ تعلیماتِ اکابر کے عین مطابق ہے۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم تو اولیائے کرام رحمہم اللہ کے القابات بھی اپنی مرضی سے نہیں دیتے وہی دیتے ہیں جو کہ تعلیماتِ اکابر میں منقول ہوں۔
کیا مرشدِ کامل کی طرف توجہ کرنے سے بھی فیض ملتا ہے؟ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا سچا انکشاف..!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے ماہانہ کشف المحجوب کے درس میں اکثر مرشد کی توجہ سے فیض ملنے کے واقعات بیان فرماتے ہیں، جو کہ سو فیصد تعلیماتِ اکابر کے مطابق ہوتے ہیں ہزاروں واقعات میں سے ایک واقعہ کا انتخاب پیشِ خدمت ہے ۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میری ملاقات غلام مرتضیٰ مجذوب سے ہوئی تو پھر انہوں نے مجھے ایک بشارت دی’ میں نے کہا میرے حوصلے کے موافق یا آپکے ۔ فرمایا میرے موافق میں بہت خوش ہوا۔ ایک دفعہ میں جنگل میں پھر رہا تھا کہ ایک جھاڑی میں کچھ آثار آدمی کے معلوم ہوئے ۔ غور سے دیکھا تو وہی مجذوب غلام مرتضیٰ تھے مجھے دیکھ کر بیٹھ گئے اور مجھے بھی بیٹھا لیا۔ ایک دم انہوں نے مجھے جذب کی توجہ دینا شروع کی ۔ جب مجھے جذب کے آثار محسوس ہوئے تو میں نے اپنے حضرت پیر و مرشد کا تصور کیا اسی وقت میرے مرشد میرے اور مجذوب صاحب کے درمیان حائل ہو گئے۔ مجذوب صاحب ہنسنے لگے ۔ میں نے کہا کہ مجھے تمہاری طرح دیوانگی پسند نہیں۔ (شمائم امدادیہ بحوالہ کتاب مجاذیب کی پراسرار دنیا ص 83، تالیف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی غفوری، ناشر: مکتبہ عمر فاروقؒ کراچی) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے حلقہ کشف المحجوب میں بیان ہونے والے واقعات شیخ الوظائف دامت برکاتہم بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔