Dua e Hazrat Ali Ko Tasbeeh Khana Ne Aam Kiya Qisat 608

دعائے حضرت علیؓ کو تسبیح خانہ نے عام کیا آئیے اس کے حوالہ جات کا ثبوت بھی تسبیح خانہ سے ہی لیجئے

تسبیح خانہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج کے اس پرفتن دور میں امت کو اس سبق کی یاد دہانی کروا رہا ہے جو وہ بھول چکی تھی۔یہ ترتیب تسبیح خانہ کی اپنی نہیں بلکہ انبیاء‘ اولیاء‘ سلف صالحین اور اکابرین کی ہے جس کا اصل مقصد مخلوق کا اللہ کے ساتھ رابطہ اور اعمال سے پلنے‘ بننے اور بچنے کا یقین ہے۔ تسبیح خانہ دعائے حضرت علیؓ کے ذریعے اللہ سے مانگنا اور لینا سکھا رہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔دعائے حضرت علیؓ کا اہتمام بھی تسبیح خانہ کی اپنی ترتیب نہیں بلکہ یہ بھی عین اکابرینؒ سے ثابت ہے۔اس ضمن میں چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔

شیخ علامہ ابن العربی ؒ وہ مبارک عظیم بزرگ ہستی ہیں جو کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں۔انیسویں صدی عیسویں کےایک بہت بڑے درویش جنہوں نے شیخ علامہ ابن العربیؒ کے اوراد وظائف پر ایک جامع کتاب لکھی ہے جس میں شیخ ؒکے معمولات میں شامل اوراد و وظائف کا ذکر کیا گیااسی کتاب میں دعا ئے حضرت علیؓ کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جو کہ شیخ علامہ ابن العربی ؒ کے اوراد میں شامل تھی۔اس بات سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہےکہ یہ دعا صدیوں سے مشائخ کےاوراد کا حصہ رہی ہے۔(حوالہ: ’’ مجموعہ احزاب واوراد الشیخ الاکبرابن عربیؒ ‘ مصنف:خواجہ احمد ضیاءالدین افندی کمشخانویؒ‘‘)

یہ وہ ہستی ہیں جنہیں مسلم دنیا بالخصوص ترکی میں بہت مقبولیت حاصل ہے ‘ انہیں بدیع الزماں علامہ سعید نورسی ؒ کے نام سےجانا جاتا ہے۔مسلمانوں کی تربیت و اصلاح کے لئے انہوں نے ایک مجموعہ رسالہ لکھا جس میں قرآن کی تفسیر بھی شامل تھی۔اسی رسالہ میں دعائے حضرت علیؓ کا خاص تذکرہ ہے جس میں وہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ’’ پچھلے پینتیس سال سے یہ دعا میرے معمول کا حصہ ہے۔انہوں نے اس دعا کو ترک عوام میں بہت زیادہ روشناس کروایا یہی وجہ ہے کہ آج ترکی میں لاکھوں لوگ اس دعا کو پڑھ رہے ہیں۔(حوالہ:رسالہ نور‘ مصنف شیخ علامہ سعید نورسیؒ)

سلسلہ نقشبندی العالیۃ حقانی میں بھی دعائے حضرت علیؓ پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے‘اس سلسلہ طریقت کے مشہور بزرگ حضرت مولانا شیخ عدنان قبانیؒ اپنے مریدین کے ساتھ حلقہ میں اس دعا کا خاص اہتمام فرماتے تھےاور اس دعا کے فضائل کے بارے میں بھی ارشاد فرماتے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔یہ اسمائے گرامی (دعا)جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا رسولﷺ کو ایک غزوہ میں لوہے کی بھاری زرہ پہننے کے بجائے بطور زرہ عطا فرمائے تھے۔ جو بھی ان کو پڑھے یا انہیں عزیمہ/تعویز بنا کر لے جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس شخص کی خاص کفایت اور مدد فرماتے ہیں اور ہر قسم کے مسائل پریشانیوں، زلزلے یا آسمانوں یا زمینوں کی ہر قسم کی بلاء ‘ مصیبت غرض ہر قسم کی بیماری سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ جو بھی کسی بچے کو یہ تعویذ دے گا، یہ بچہ بڑا ہو کر ایک ولی بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے محبوب اولیاء کی صف میں شامل فرمائے گا‘ اگرغیر مسلم پہنے اور اس کا ادب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی دولت عطا فرمائے گا۔

آئیے !آپ بھی عبقری کے اس عظیم مشن کے ساتھی بنیں‘ اپنے بڑوں کی ترتیب پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے نام سے اللہ لینا سیکھ لیں کیونکہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے۔

Dua e Hazrat Ali Ko Tasbeeh Khana Ne Aam Kiya Qisat 608

فیس بک پر پڑھیں

قربانی کے گوشت پر ’’یَا شَہِیْدُ‘‘ پڑھنے کا عمل!عبقری کے اس وظیفہ کا پوسٹمارٹم!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025