بعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں پر جنات کے اتنے اثرات نہیں ہوتے جتنے وہ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر عامل حضرات لوگوں کو بلاوجہ ہی وہم ڈال دیتے ہیں۔ عامل حضرات میں بھی علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم زندگی کے ہر شعبے میں جنات کے اثرات ثابت کرتے ہیں۔ یہ اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احادیث مبارکہ پر نظر نہ ہو، جبکہ احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی کے درج ذیل مقامات پر جناتی اور شیطانی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے۔
(1) ہر شخص کے دل پر ہر وقت ایک شیطان (جن) موجود رہتا ہے (صحیح مسلم)
(2) ایمانیات میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی ایک جن ہی ہے (صحیح مسلم) اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمان ایمان سے پھر جائیں اور مشرکین اپنے شرک پر قائم رہیں
(3) ہم جب بیت الخلاء میں جاتے ہیں، تو وہاں بھی جنات موجود ہوتے ہیں (ابوداؤد، ابن ماجہ)
(4) سوراخوں میں جنات رہتے ہیں، اس لیے ان میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے (مشکوٰۃ) مولانا عاشق الٰہی بلند شہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر اسی وجہ سے جن سوار ہوگیا کہ اس نے بیت الخلاء کی دعا نہیں پڑھی تھی
(5) انسان کی ناک میں رات بھر ایک جن رہتا ہے اسی وجہ سے اٹھنے کے بعد ناک کو جھاڑنے کا حکم فرمایا گیا ہے (بخاری ومسلم)
(6) جب ہم وضو کرنے لگتے ہیں تو ایک شیطان ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا نام "ولہان” ہے (ترمذی و ابن ماجہ)
(7) انسان جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کی نماز میں شک ڈالنے کیلئے بھی ایک جن موجود ہوتا ہے (مجمع الفوائد)
(8) استحاضہ کا خون جاری ہو جانے کے بارے بھی جن شرارت کرتا ہے (طبرانی)
(9) اذان کی آواز سن کر شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے لیکن اذان ختم ہو جانے کے بعد نمازی کے پاس آ کر اس کے دل میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے (بخاری ومسلم)
(10) جن نمازی کی قرآت میں بھی خلل ڈالتا ہے، اس کا نام "خنزب” ہے (مسلم)
(11) جن نمازی کی پیشانی پکڑ کر امام سے پہلے رکوع و سجدہ کرواتا ہے (الترغیب والترہیب)
(12) نماز میں ادھر ادھر دیکھنا بھی جن ہی کی وجہ سے ہوتا ہے (بخاری ومسلم)
(13) عامۃ المسلمین، مسجد اور جماعت سے کٹ کر رہنا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (مسند احمد
(14) نماز کے بعد تسبیحات کا بھلا دیا جانا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
(15) جب کوئی شخص سوتا ہے تو جن اس کی گردن پر تین گرہیں لگا دیتا ہے (بخاری ومسلم)
