مولانا صاحب! ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں: علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کے کالم میں جنات سے ملاقات کی انوکھی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں، جو عقل کو اپیل نہیں کرتیں۔ کیا عبقری سے پہلے بھی کسی کتاب میں اس طرح کے قصے سنا کر لوگوں کو وظیفے پڑھنے پر لگایا گیا ہے؟ (سائل: علی حیدر، جھنگ)
جواب: جنات سے ملاقات کرنے والی عظیم ہستیوں میں صرف علامہ لاہوتی صاحب ہی کا نام نہیں ملتا، بلکہ تاریخ، حدیث اور سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے اولیائے کرام گزرے ہیں، جن کی ملاقاتیں جنات کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اہلِ اللہ کی ترتیبِ زندگی ہماری طرح نہیں ہوتی، نہ ہی یہ ہر شخص کی عقل میں سما سکتی ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک انجینئر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی میڈیکل کا ماہر نہیں ہوتا، اور جس طرح ایک حافظِ قرآن ضروری نہیں کہ عالمِ دین بھی ہو۔ اسی طرح اولیاء اللہ بظاہر تو انسان ہی ہیں، مگر ان کے ساتھ روحانی دنیا کا انوکھا نظام چل رہا ہوتا ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا سا وقت نکال کر مطالعہ کرنے کی عادت ڈال لیں اور درج ذیل کتب پڑھیں تو ان میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ جیسے ہزاروں واقعات آپ کا استقبال کریں گے ان شاء اللہ!
شیخ عبدالحق دہلویؒ کی اخبار الاخیار۔ شیخ عبدالرحمن جامیؒ کی نفحات الانس۔ شیخ فرید الدین گنج شکرؒ کی اسرار الاولیاء۔ شیخ فرید الدین عطارؒ کی تذکرۃ الاولیاء۔ شیخ ابو نعیم اصفہانیؒ کی حلیۃ الاولیاء۔ شیخ علی بن عثمان ہجویریؒ کی کشف المحجوب۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی فیوض الحرمین اور انفاس العارفین۔ علامہ محمد یوسف النبہانیؒ کی جامع کرامات الاولیاء۔
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی عوارف المعارف۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کی الطبقات الکبریٰ اور الطبقات الصغریٰ۔ حضرت سلطان باہوؒ کی عقلِ بیدار، نور الہدیٰ اور مفتاح العارفین۔ شیخ ابو طالب مکیؒ کی قوت القلوب۔ علامہ جلال الدین سیوطیؒ کی لقط المرجان فی احکام الجان، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف متالا کی کرامات و کمالات اولیاء وغیرہ۔
