قسط نمبر 54
جنات کے پیدائشی دوست’ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم“ کے واقعات پڑھ کر جو لوگ سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کے شرح مدد کیلئے قطب الاقطاب حضرت خلیفہ غلام محمد صاحب دین پوری کی سوانح حیات سے چند باتیں پیش خدمت ہیں۔ حضرت الشیخ میاں مسعود احمد صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ : جنات بھی حضرت خلیفہ صاحب کے پاس حاضر ہوتے تھے۔
ایک رات حضرت بستر پر موجود نہیں تھے جب دیکھا تو مسجد میں جنات کو حلقہ ذکر کرا رہے تھے۔ ایک دفعہ حضرت خلیفہ غلام محمد صاحب بیمار ہوئے تو جنات آپ رحمتہ اللہ علی کی عیادت کیلئے حاضر ہوئے اور آکر چار پائی ہلانے لگے۔ حضرت ریلی علیہ نے ان سے فرمایا : کیوں تنگ کرتے ہو؟ میڈ ا ہتھ لیگیوں تاں استنجاء کابل وچ ونج کریسو۔
حضرت یشمیہ کی پہلی زوجہ محتر مہ جب حیات تھیں تو گھر سے جنات ضرورت کا سامان (چاقو چھر یاور برتن وغیرہ) اٹھا کر لے گئے۔ جب واپس رکھنے آئے تو اماں جان نے فرمایا: بھیڑیو! کیوں پریشان کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہماری شادی تھی اس لیے
آپ کا سامان لے گئے تھے۔ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی تو حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خادم مولا نا کریم بخش کھانا دینے کیلئے حاضر ہوئے مگر ان کے کپڑے بالکل خشک تھے۔ حضرت نے ان کے واپس جانے کے بعد جب کھڑکی سے دیکھا تو وہ مولانا کریم بخش رحمتہ اللہ علیہ سطح زمین سے بلند جارہے تھے اور ان پر بارش بھی نہیں پڑ رہی تھی
( قارئین یہ تو حضرت کے غلاموں کا حال تھا، خود حضرت رحمتہ اللہ علیہ کا کیا مقام ہوگا ؟ ) بحوالہ کتاب: ید بیضاء صفحہ 285 مؤلف : میاں خلیل احمد صاحب دین پوری مدظلہ ناشر: امیر جماعت درگاه عالیه دین پور شریف، ضلع رحیم یارخان
