ماہنامہ "عبقری” کے متعلق ایک دفعہ یہ اعتراض اُٹھایا گیا کہ اس میں روحانی عملیات و ظائف اور تعویزات کثرت سے دیئے جاتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں اسبابِ ضعیفہ میں سے ہیں، یعنی قرآن و حدیث کا سب سے ادنیٰ درجے میں استعمال یہ ہے کہ اس کا وظیفہ پڑھا جائے— محترم قارئین! وظائف اور تعویزات چاہے اسبابِ ضعیفہ ہی کیوں نہ ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں ان کی اشد ضرورت اور اہمیت رہی ہے۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی $رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی $رحمۃ اللہ علیہ$ فرمایا کرتے تھے کہ: بعض اوقات تواس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تعویذ گنڈے کیوں نہ سیکھے، کیونکہ اس سے لوگوں کو بہت نفع ہوتا ہے۔ ہمارے حضرت شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی $رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں کم سے کم تعویذ مانگے تو اُسے تعویذ دے دیا کروں۔ میں نے عرض کی کہ حضرت مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں تو فرمایا: اس وقت جو دل میں آئے لکھ دیا کرو۔ (حضرت مولانا اشرف علی تھانوی $رحمۃ اللہ علیہ$) کو بھی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی $رحمۃ اللہ علیہ$ نے فرمایا تھا کہ جو تم سے کسی ضرورت کیلئے تعویذ مانگے، تو انکار نہ کرو مرض کی مناسبت سے اُس وقت جو سمجھ میں آئے لکھ دیا کرو۔
(دیکھیں: مجالس حکیم الامت جلد ۲ صفحہ ۶۱) بحوالہ کتاب: عملیات و تعویزات اور اس کے شرعی احکام صفحہ ۴۹؛ مصنف: حضرت حکیم الامت مفتی محمد شفیع ملتان)
قارئین! اب بتائیں کہ تعویذات و عملیات کا ہمارے اکابر کی نظر میں کتنا بلند مقام تھا۔ وہ تو اس میدان (روحانی علاج) کو تبلیغ دین کا اہم ذریعہ سمجھیں اور لوگوں کیلئے نفع مند ضرورت خیال کریں اور ہم اس چیز کو گھٹیا، ٹوپی ڈرامہ اور اسباب ضعیفہ کے القاب بپا تی ہیں تو یہ سوچیں کہ ہمارے ان اکابر کی زد میں آکر کس کس کی روح کو تکلیف پہنچتی ہوگی؟
کاش ہم نے بھی روحانی عمل سیکھے ہوتے
