مدینے کی خاتون کو چمٹ جانے والا جن

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما المعروف بہ امام زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے متعلق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے اس طرح خبر ہوئی، کہ وہاں کی ایک خاتون کے پاس جن آیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن وہ جن آیا تو دیوار پر کھڑا ہو گیا۔ اس عورت نے کہا : تم نیچے کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: نہیں! اب وہ رسول ﷺ مبعوث ہو گئے ہیں، جنہوں نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔

(اخرجہ الواقدی کذا فی البدایہ جلد ۲ صفحہ ۳۲۸)

قارئین! ماہنامہ عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ کالم لکھنے والے علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے جنات کے چمٹ جانے، ان کی نظرِ بد لگنے، ان کی چوریوں اور ان کے ظلم سے بچاؤ کیلئے ایسے سینکڑوں وظائف اور حفاظتی عملیات مخلوقِ خدا میں عام کیے، جو شرک و بدعت کی بجائے قرآن و سنت اور ہمارے اکابرین رحمہم اللہ اجمعین کی زندگی سے ثابت ہیں۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم ایسی باتیں کرتے ہیں، جن کا وجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہیں تھا، ان سب حضرات کو دعوتِ فکر ہے کہ درجِ بالا واقعہ اہل بیت اطہار کے شہسوار اور جلیل القدر تابعی امام زین العابدینؒ کا بیان کردہ اور مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلویؒ کا تحریر کردہ ہے۔ کیا آج عبقری پر اعتراض کرنے والا کوئی شخص اس واقعے کو جھوٹے قصے کہانیاں کہنے کی جسارت کر سکتا ہے؟؟؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025