مولانا صاحب! عبقری میں شاہی قلعہ لاہور کی موتی مسجد میں بونے جنات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ہم بچپن میں وہاں بیٹھ کر پیروں کی تیاری کیا کرتے تھے، بونے جنات ہمیں تو کبھی نظر نہیں آئے؟ اور یہ کیا بات ہوئی کہ صرف اسی مسجد میں دعا کی قبولیت یقینی ہوتی ہے (سائل: حکیم محمد طیب، شاہدرہ)
جواب: محترم حکیم صاحب! نظر نہ آنے کی کیا بات ہے؟ وہ تو دوائی کے اندر شفاء بھی نظر نہیں آتی، کوئلے کے اندر آگ موجود ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی۔ یوفون کے 90 فٹ اونچے ٹاور سے ہر وقت نکلتے ہوئے سگنل بھی کبھی نظر نہیں آتے۔ انسان کو چوٹ لگنے سے درد بھی نظر نہیں آتی، اب کیا ان ساری چیزوں کا وجود ہی نہیں ہے؟ ایک بات یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اولیائے کرام کے تبرکات کے قائل ہیں۔ موتی مسجد کی حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ یہ جگہ تاریخ میں بڑے بڑے اولیائے کرام کی عبادت گاہ رہی ہے جہاں آج بھی ان اولیاء کی برکات اور ہر وقت عبادت کرنے والے جنات موجود ہیں۔ اکابر کی زندگی سے ایک مستند حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، جس سے یہ سارا اشکال دور ہو جائے گا۔
حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا مکاشفہ اپنے بزرگوں سے بارہا سننے میں آیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں دارالعلوم کی وسطی درسگاہ ”نودرہ“ سے عرش تک نور کی ایک لمبی شعاع دیکھتا ہوں، جس میں کہیں بھی خلاء نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں کا بلکہ خود میرا اپنا تجربہ ہے کہ مشکل سے مشکل مسئلہ جو بہت مطالعے سے بھی حل نہیں ہوتا، اس درسگاہ میں بیٹھ کر سوچنے سے حل ہو جاتا ہے۔ نودرہ کے سامنے والے صحن میں ایک گز کے فاصلے پر اگر کسی کے جنازے کی نماز پڑھی جائے تو وہ مغفور ہوتا ہے، اس لئے احقر نے اس جگہ تشخیص کے بعد اس پر سیمنٹ کا ایک چوکھٹا (نشان) بنوایا ہے، اس پر جنازہ رکھ کر خواہ وہ عام شہری کا ہو یا متعلقین مدرسہ کا، ان سب کے جنازے کی نماز پڑھی جاتی ہے، جس سے لوگ کثرت سے فیض یاب ہو رہے ہیں.
(بحوالہ کتاب: دارالعلوم کی پچاس مثالی شخصیات، صفحہ نمبر 36 مصنف: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فوارہ ملتان)
اب آپ یہ دیکھیں کہ پورے دارالعلوم دیوبند میں صرف ایک جگہ پر دعائے جنازہ کی فوری قبولیت اور برکت کے خصوصی آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ آج تک کسی نے اس واقعے پر تو اعتراض نہیں کیا۔ موتی مسجد کا کیا قصور ہے جو اس کی برکات کا یقین نہیں آ رہا؟
