علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم المعروف بہ ”جنات کا پیدائشی دوست“ پر کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ان کے کشف و کرامت والے سب واقعات عمران سیریز کی طرح فرضی داستان پر مبنی ہیں۔
قارئین! اگر کسی کو اتنا شرح صدر حاصل نہیں تو اس میں اولیاء اللہ کا کیا قصور؟ اہل علم حضرات کیلئے تو ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ذیل میں مفتی اعظم سعودیہ حضرت شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ آپ کے سامنے ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: کیا اولیاء اللہ ہستیوں کیلئے پانی پر چلنے جیسی کرامت اور لوح محفوظ کی عبارت پڑھنے یا فرشتوں کو آنکھوں سے دیکھ لینے جیسا کشف ممکن ہے؟ فرمایا: ہاں بالکل! جب اولیائے کرام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر استقامت اختیار کریں تو ان کی حاجت پوری کرنے کیلئے یا دوسروں پر حجت قائم کرنے کیلئے ایسی کرامات کا ظہور ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں حضرت عباد بن بشر اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما کے بھی خرق عادت واقعات ملتے ہیں۔
(بحوالہ کتاب: فتاویٰ نور علی الدرب جز 2 صفحہ 191 ناشر: ادارہ مجلۃ البحوث الاسلامیہ الریاض)

