علامہ لاہوتی صاحب کی جس طرح قدم قدم پر جنات اور بالخصوص صحابی جنات سے ملاقات ہوتی ہے اگر یہ بات ٹھیک ہوتی تو پیرانِ پیر کی ضرور ملاقات ہوتی؟ محترم بھائی! "لکل فن رجال” اس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں ہر فن میں ہر بندہ ہی مہارت رکھتا ہو اور جس بات کو جانتا ہی نہ ہو اس کا بالکل ہی انکار کرنا شروع کر دے تاریخ اور سیر ایک لامتناہی فن ہے جس میں کاملیت کا دعویٰ کون کر سکتا ہے! اگر آپ پیرانِ پیر کی مستند سوانح کا مطالعہ کریں تو آپ کے سامنے ان کی صحابی جنات سے ملاقات کے بہت سے واقعات آ جائیں گے میں ایک مستند حوالہ نقل کر دیتا ہوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جب حج کا ارادہ کیا تو آپ کے ساتھ ان کے مریدین بھی چل رہے تھے یہ جب بھی کسی منزل پر اترتے ان کے پاس سفید کپڑے پہنے ایک جوان آ موجود ہوتا مگر نہ تو وہ ان کے پاس کھاتا نہ پیتا تھا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو تاکید کر رکھی تھی کہ وہ اس شخص سے بات چیت نہ کریں چنانچہ جب یہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ایک گھر میں جا کر قیام کیا لیکن جب یہ لوگ گھر سے نکلتے تھے تو وہ شخص داخل ہوتا تھا اور یہ داخل ہوتے تو وہ نکل جاتا تھا، ایک مرتبہ سب لوگ نکل گئے مگر بیت الخلا میں ایک شخص باقی رہ گیا تھا اسی دوران میں وہ جن داخل ہوا جب کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا، اس نے تھیلی کھولی اور کوئی چیز نکال کر کھانی شروع کر دی تو وہ جوان بیت الخلا سے نکلا اور اس کی نگاہ اس پر جا پڑی تو وہ جن وہاں سے چلا گیا پھر کبھی بھی ان کے پاس نہ آیا تو اس شخص نے حضرت شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس کی اطلاع کی تو آپ نے فرمایا یہ شخص ان جنات میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے قرآن پاک سنا تھا اور جنات میں شرفِ صحابیت حاصل کیا تھا۔
(ارجوزۃ الجان لابن عماد، بحوالہ تاریخ جن و شیاطین، ترجمہ، تشریح و تخریج مولانا امداد اللہ انور سابق معین التحقیق مفتی جمیل احمد تھانوی جامعہ اشرفیہ، صفحہ 307، ناشر: دارالمعارف پیروالا ملتان)
صحابی جنات سے ملاقات میں علامہ لاہوتی صاحب منفرد نہیں بلکہ پچاسیوں اولیائے کرام کی زندگی میں یہ ملاقات موجود ہے۔
