سوال: کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان پرندوں کی زبان سمجھنے لگے علامہ لاہوتی صاحب کے مضمون میں اس قسم کے واقعات بکثرت ملتے ہیں۔
جواب: یہ مضمون تو قرآنِ مقدس کی صریح نص سے ثابت ہے کہ ہر چیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح بیان کر رہی ہے، جن لوگوں کو اللہ رب العزت فطرتِ سلیمہ اور صفائے قلب عطا فرماتے ہیں وہ ان کی اس زبان کا مشاہدہ بھی فرما لیتے ہیں، علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی جیسے محقق کی تفسیر روح المعانی سے چند جانوروں کی بولیاں لکھی جاتی ہیں جو کہ اہل اللہ پر منکشف ہوئیں:
(1) ”تیتر“ ”الرحمن علی العرش استویٰ“ یعنی اللہ تعالیٰ عرش کے مالک ہیں، پڑھتا رہتا ہے۔
(2) ”باز“ ”فی البعد من الناس انس“ لوگوں سے دور رہنے میں راحت ہے، یہ پڑھتا رہتا ہے۔
(3) ”گدھ“ اس انداز میں ہمیں درسِ عبرت دیتا ہے۔ ”یا ابن آدم عش ما عشت فان اخرک الموت“ یعنی اے آدم کے بیٹے جتنا جینا ہے جی لے، آخر ایک دن تجھے مرنا ہے۔
(4) ”فاختہ“ کہتی ہے ”یالیت الخلق لم یخلق“ اے کاش کے مخلوق پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔
(5) ”مور“ ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے ”کما تدین تدان“ یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
(6) ”مینڈک“ یہ تسبیح پڑھتا رہتا ہے ”سبحان ربی القدوس“ پاک ہے میرے پروردگار کی ذات۔
(7) ”طوطا“ دنیا سے آخرت کی طرف اس انداز میں رہنمائی کرتا ہے۔ ”ویل لمن الدنیا ہمہ“ یعنی برباد ہوا وہ شخص جس نے دنیا کا ارادہ کیا۔
(8) ”سنگ خورہ“ زبان کے بے جا استعمال کرنے والے لوگوں کو ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے ”من سکت سلم“ یعنی جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔
(تفسیر روح المعانی، مصنف علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ)
در اصل یہ تمام روحانی دنیا صفائے قلب کے بغیر سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔۔۔! علامہ لاہوتی صاحب کی زندگی اگر آپ پڑھیں تو وہ کوئی رومانوی اور افسانوی جنات کی کہانی نہیں بلکہ اس کا حاصل لوگوں کو اعمال والی زندگی اور اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف مائل کرنا ہے۔
