رُوحوں سے ملاقات ایک اَبدی حقیقت یا مَن گھڑت افسانہ

میرا سوال یہ ہے کہ جنات کا پیدائشی دوست میں جو رُوحوں کے ساتھ ملاقات کی مَن گھڑت کہانیاں لکھی جاتی ہیں ان کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے؟ (سائل: محمد عاطف اسلام آباد)

جواب: میرے بھائی! اس سلسلے میں اکابر علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ فوت شدگان کے ساتھ روحانی طور پر ملاقاتیں کی جاسکتی ہیں۔ اکابر و اسلاف میں تو ایسے بزرگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے دورانِ مطالعہ اگر کسی حدیث کی سند میں کوئی اشکال پایا تو ڈائریکٹ امام بخاریؒ کی روح سے ملاقات کر کے ان سے مسئلہ پوچھ لیا۔ مثلاً امام المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوطاہرؒ نے مجھے اپنے والد سے ملوایا تو وہ بتانے لگے کہ: میں نے شیخ احمد قشاشیؒ کی رُوح سے سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ ویسے ہی پڑھی جس طرح انہوں نے خواب میں خود حضور ﷺ کی رُوح مبارک سے یہ دونوں سورتیں پڑھی تھیں۔

بحوالہ کتاب: درالثمین فی مبشرات النبی الامین ﷺ صفحہ 55 ناشر: کتب خانہ رضویہ ڈچکوٹ روڈ لائل پور

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025