یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ
Shaikh ul Wazaif ke Dada Jaan ka wazifa Qisat No 609
شیخ الوظائف نے جمعرات کی محفل میں اپنے دادا جان ؒ کا آزمودہ وظیفہ بیان فرمایا جو کئی سالوں سےان کا اور جن کو بھی انہوں نے مختلف مشکلوں ‘ مصیبتوں اور آزمائشوں کےلئےبتایا، سب نے اسےبہت پُر تاثیر اور مجرب پایا۔شیخ الوظائف نے اپنے دادا جان ؒ کا جو وظیفہ بیان فرمایاآئیے اس عمل کے مستند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔مشکل کشاء وظیفہ:بارہ روز تک اس دعا کو 1200 مرتبہ پڑھ کر دعا کرنے سےکیسا بھی مشکل کام ہو ان شاءاللہ پورا ہو جائے گا۔
یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ (عمدۃ السلوک‘ حصہ دوم ص399)(بہشتی زیور)
مستند مدارس کا فتویٰ
سوال :اَٹھرا نامی عورتوں کی بیماری واقعی ہوتی ہے جس میں مبتلا عورتوں کا miscarriage (حمل کا ضائع ہونا) ہو جاتا ہے، یہ بچے فوت ہو جاتے ہیں، اس کی علامات کیا ہیں؟ اور طریقہٴ علاج کیا ہے؟ مجھے یہ دعا حصول اولاد کے لیے پڑھنے کو دی گئی ہے، ۱۱۰۰/ (گیارہ سو) مرتبہ تین مہینہ تک۔ قاری کے مطابق مجھے اَٹھرا ہے یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیع اس دعا کا کیا مطلب ہے؟ یہ دعا نہ تو قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ، اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب :بسم الله الرحمن الرحيم ۔مذکورہ بیماری کی علامات وطریقہٴ علاج جاننے کے لیے کسی ماہر طبیب یا حکیم سے رابطہ کریں، حصول اولاد کے لیے مذکورہ دعا پڑھنے میں مضائقہ نہیں، پڑھ سکتی ہیں، یہ دعا اگرچہ قرآن وحدیث میں نہیں لیکن اس کے پڑھنے میں کوئی خرابی نہیں، اس کا معنی ہے کہ اے، عجائب کو انوکھے انداز پر پیدا کرنے والی ذات (مستفاد بہشتی زیور)۔
Fatwa: 1374-1346/M=12/1438
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء،دارالعلوم انڈیا۔
سوال نمبر 62019:مقصد حاجت کے لئے انہیں پڑھ سکتے ہیں ؟ کیا یہ مجرب ہے؟ (۱) یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیع، ۱۲۰۰ مرتبہ اکیس دن تک۔
جواب نمبر: 62019۔بسم الله الرحمن الرحيم ۔یہ عمل کرسکتے ہیں، مجرب ہے، یہ عمل تو بہشتی زیور (۹/ ۸۶، اختری) میں بھی مذکور ہے، البتہ اس میں طریقہ یہ لکھا ہے کہ بارہ روز تک روز اس دعا کو بارہ ہزار مرتبہ پڑھ کر ہرروز دعا کیا کرے۔ ان شاء اللہ کیسا ہی مشکل کام ہو پورا ہوجائے گا۔
Fatwa ID: 17-9/Sn=2/1437-Uواللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا
ان حوالہ جات سےیہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شیخ الوظائف کے آبائواجداد بھی اپنی زندگی میں اکابرین کا عکس لئے ہوئے تھےجس سے وہ خود بھی مستفید ہوئے اور امت کو بھی اس سے خیریں بانٹیں۔شیخ الوظائف کے ابائو اجداد کا اکابرین سے تعلق‘ پیار‘ محبت اور تعاون بے انتہا تھا‘ اس کے حوالہ جات جاننے کے لئے شیخ الوظائف کی تصنیف ’’ میرے خاندانی حالات‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
