جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وقت اور تعداد مقرر کر کے وظیفہ پڑھنا بدعت ہے انہیں غالباً یہ خبر نہیں ہے کہ ہمارے جن اکابر علمائے عظام نے ہمیں سنت اور بدعت کا فرق سمجھایا حلال و حرام سکھایا اور جائز نا جائز کا حکم ہم تک پہنچایا وہ تمام حضرات شریعت کی تمام احتیاطوں کو ہم سے زیادہ جانتے تھے ۔ انہی معتبر ہستیوں میں سے ایک عظیم محدث حضرت شیخ محمد تھانوی رویشعلیہ ہیں، جو درج ذیل اعمال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہر عمل اسی خاص وقت اور اسی خاص تعداد کے مطابق کیا جائے۔
عمل برائے استخارہ: پندرہ مرتبہ درود شریف ابراہیمی پڑھ کر اس کا ثواب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ایملیہ کی روح مبارک کو ہدیہ کرے پھر گیارہ سو مرتبہ اخبرنی بحالی ” پڑھ کر سو جائے لیکن یہ عمل صرف جمعرات کے دن کرے اس سے پہلے غسل کرے اور خوشبولگائے اور اس دن کا روزہ بھی رکھے ۔
تمام مشکلات کے حل کیلئے : هر شکل مہم کیلئے فجر کی سنت اور فرض کے درمیان چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنا بے حد مجرب ہے ۔ جب آمین پر پہنچے تو تین مرتبہ آمین کہے۔
سات نسلوں تک رزق منتقل ہو گا : جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے کہ جس شخص کی روزی کا دروازہ تنگ ہو گیا ہوا سے چاہئے که صبح و شام تین تین مرتبہ اس دعا کو پڑھے۔ اس عمل کا اثر یہ ہو گا کہ اس کی سات نسلیں مخلوق کی محتاج نہ ہوں گی ۔ فیلهِ الْحَمْدُ رَبِ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِ
وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سوره جاثیہ ۳۸)
بحوالہ کتاب: عملیات اکابر ، صفحہ ۲۲ مصنف : حاجی راؤ عبد السلام رائے پوری ناشر: مکتبہ سلطان عالمگیر 5 لوئر مال شاہ نفیس میڈ یکون لاہور
