بڑھتے بڑھتے انسان چاند تک پہنچ گیا، مگر کچھ لوگ روحانی پستی کی اس انتہاء میں گر چکے ہیں کہ اعتراض کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: کیا عبقری پر وحی نازل ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے تو کسی وظیفے کا دنیاوی فائدہ نہیں بتایا۔ کیا عبقری والے صحابہ کرامؓ سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں؟ کیا انہیں وظائف کی تاثیر کا الہام ہوتا ہے؟
حالانکہ جب ہم احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بچھو کے ڈسے ہوئے شخص پر سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کرنے کی روایت ملتی ہے کہ ان کے دم کرنے سے مریض ٹھیک ہو گیا۔ جب انہوں نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ سوال پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا جا سکتا ہے؟ (رواہ الصحاح ستہ)
اس حدیث کی شرح میں امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی نیک شخص کو اس بات کا الہام کرے کہ قرآن کی فلاں سورت یا فلاں آیت، فلاں فلاں کام کیلئے نفع مند ہے، تو واقعی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کے جواز پر یہی حدیث دلیل ہے۔ چاہے وہ عمل تلاوت سے ہو، یا نفل سے، یا (وظائف کی) تعداد سے۔
(بحوالہ کتاب: الداء والدواء ص 33 مصنف: محدثِ شہیر علامہ نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ) (ناشر: مشتاق بک کارنر، الکریم مارکیٹ، اردو بازار لاہور)
لہٰذا عبقری کے وظائف پر اعتراض کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی عبقری پڑھتے تھے؟ جو انہوں نے بچھو کے ڈسے ہوئے پر وحی آئے بغیر سورہ فاتحہ کا دم کر دیا؟؟؟یہ بتائیں کہ کیا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی عبقری پڑھتے تھے؟ جو انہوں نے بچھو کے ڈسے ہوئے پر وحی آئے بغیر سورہ فاتحہ کا دم کر دیا؟؟؟
