رجب المرجب میں بدنصیبوں، بے برکتوں اور بے اولادوں کیلئے تحفہ!

بزرگان دین سے منقول ہے جو شخص رجب میں یہ دعا پڑھ کر سلاطین اربعہ کو اعمال یا رقم کا ہدیہ کرے، کھانا تقسیم کرے اور اللہ سے ان چار سلاطین اربعہ (جو چار سمتوں کے بادشاہ ہیں اور روحانیت میں ان کا مقام بہت اعلیٰ ہے) ان کے وسیلہ سے اپنے دل کی حاجات اللہ سے مانگے، اللہ ضرور پوری کرتا ہے۔ جو یہ عمل کرلے پورا سال خوشحال رہے گا ان شاء اللہ!
چار بزرگ ہستیوں کے نام درج ذیل ہیں:


1) حضرت خواجہ عبدالکریم جانب مشرق

2) حضرت خواجہ عبدالرحیم جانب شمال

3) حضرت خواجہ عبدالرشید جانب جنوب

4) حضرت خواجہ عبدالجلیل جانب مغرب


دعا درج ذیل ہے :


ہر نماز کے بعد 3، 7 یا 11 مرتبہ پڑھیں۔ صبح شام بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ورنہ سینکڑوں ، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں پڑھیں۔


اکابرین کی کتب میں اس تعویذ کے بہت سے فوائد منقول ہیں۔ جو شخص جس مراد کی نیت سے اس تعویذ کو لکھ کر اپنے
پاس رکھے گا وہ پوری ہوگی، بے اولادی ختم، نرینہ اولاد، نعمتوں کا عروج، رزق میں فراوانی، برکت کے خزانے، بخت بلند، آفات و بلیات سے نجات ملے گی، دکھ، پریشانیاں اور غم دور ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یا اسلم نے ارشاد فرمایا:
رحمان کے خلیل ( یعنی حضرت ابراھیم ) کی طرح چالیس (40) آدمیوں سے زمین کبھی خالی نہیں ہوگی ہو ان کی وجہ سے تمہیں سیراب کیا جائے گا، اور ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی ، ان میں سے کوئی ایک نہ مرے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کوئی دوسرا بدل لے آئیں گے۔


میری امت میں تیس (30) ابدال ہوں گے جن کی وجہ سے تم روز یاں دیئے جاؤ گے تم پر بارش برسائی جائے گی اور تمہاری مدد کی جائے گی۔


کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری لکھتے ہیں مفہوم ہے: اوتاد چار ہوتے ہیں، جو چاروں سمتوں میں ہوتے
ہیں ، اور ان کے سبب زمین میں توازن قائم رہتا ہے۔


حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو زمین میں برکت کا سبب بنایا ہے، جن کی وجہ سے بارش ، رزق اور امن قائم رہتا ہے۔


حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے التکشف “ میں مسند احمد کی ایک روایت نقل فرمائی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: شریح بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رو برو اہل شام کا ذکر آیا کسی نے کہا اے امیر المومنین ان پر لعنت کیجیے، فرمایا نہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے تھے کہ ابدال ( جو ایک قسم ہے اولیاء اللہ کی ) شام میں رہتے ہیں اور وہ چالیس آدمی ہوتے ہیں جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے اللہ تعالی اس کی جگہ دوسرا شخص بدل دیتا ہے ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان کی برکت سے اعداء (دشمنوں پر غلبہ ہوتا ہے اور ان کی برکت سے اہل شام سے عذاب ( دنیوی) ہٹ جاتا ہے۔ (رواہ احمد)

آگے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی سے فرماتے ہیں کہ صوفیا کے ملفوظات و مکتوبات سے اقطاب، اوتاد، غوث کے الفاظ اور ان کے مدلولات کے صفات، برکات و تصرفات پائے جاتے ہیں اوپر ذکر کردہ حدیث سے جب ایک قسم کا اثبات ہے تو دوسرے اقسام بھی مستبعد نہ رہے، برکات تو اس حدیث میں مذکور ہیں اور تصرفات تکوینیہ قرآن مجید میں حضرت خضر علیہ السلام کے قصہ سے ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا میں از قبیل اصلاح معاش اور انتظام امور جو تغیرات ہوتے ہیں انھیں کو تکوین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اولیاء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم ان حضرات کی جن سے مخلوق کے ارشاد ہدایت و اصلاح قلب، تربیت نفوس اور اللہ تعالیٰ کے قرب وقبول کے طریقوں کی تعلیم سپر د ہوتی ہے وہ اہل ارشاد کہلاتے ہیں ، ان میں سے جو اپنے زمانہ میں افضل و اکمل ہو اور اس کا فیض اتم وائم ہو وہ قطب الارشاد کہلا تا ہے۔ دوسری قسم ان ولیوں کی جن سے متعلق اصلاح معاش و انتظام امور د نیو یہ اور دفع بلیات ہے کہ اپنی ہمت باطنی سے باذن الہی ان امور کی درستی کرتے ہیں ان کے اختیار میں خود کچھ نہیں ہوتا، یہ حضرات اہل تکوین کہلاتے ہیں اور ان میں سے جو سب سے اعلی اور اقومی اور دوسروں پر حاکم ہوتا ہے اسے قطب التکوین کہتے ہیں ، ان کی حالت مثل حضرات ملائکہ علیہم السلام کے ہوتی جن کو مد برات امر فر ما یا گیا ہے۔

حوالہ جات:


فتاوی رضویہ امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں: اوتاد، ابدال، نجیب اور نقیب اللہ کے وہ بندے ہیں جن کے ذریعے
زمین قائم ہے اور مخلوق کو فیض پہنچتا ہے۔

اولیائے کرام میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اوتاد کہا جاتا ہے، جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بلاؤں کو ٹالتا ہے۔

اوتاد چار ہوتے ہیں ، جو چاروں سمتوں پر مامور ہوتے ہیں اور انہی کے ذریعے زمین کا نظام قائم رہتا ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025