بارہ ربیع الاول کی پرنور محفل اور آقا ﷺ کے نقشِ نعلین مبارک کا خاص الخاص عمل

کچھ عرصہ سے شیخ الوظائف ہر سال آقا ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے پرنور موقع پر نقشِ نعلین مبارک کا لاجواب، باکمال اور حیرت انگیز عمل قضائے حاجات کی نیت سے اپنی نگرانی و اجازت کے ساتھ کرواتے آ رہے ہیں، وہ حاجت دنیا کی ہے یا آخرت کی، اللہ اپنے حبیبِ کبریا ﷺ کے نقشِ پاک کے صدقے ضرور بالضرور پوری فرماتے ہیں بشرطیکہ حاجت جائز ہو۔

شیخ الوظائف کا یہ عمل کہیں بدعت تو نہیں؟؟ کیا شریعت میں اس عمل کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟؟ اہل اللہ، اولیاء، محدثین اور علماء کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آئیے تاریخ پہ نظر ڈالیں

نعلین پاک سے تبرک حاصل کرنا کوئی امرِ بدعت نہیں بلکہ معمولِ صحابہ و تابعین رہا ہے۔ محدثین کی روایات اور مورخین کے بیانات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو سابقون الاولون اور بدری صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے نعلین مبارک اٹھائے رکھنے کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ان کی پہچان ہی ”صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادَةِ وَالْمُطَهَّرَةِ“ لکھی ہے۔

مواہب اللدنیۃ، المسترطیب الاداریۃ، جامع ترمذی کی شرح "قوت المغتذی” میں بھی الفاظ و واقعہ کی تبدیلی کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے

ابنِ کثیر نے امیر المؤمنین محمد المہدی رحمۃ اللہ علیہ کے مناقب بیان کرتے ہوئے "تاریخ ابن کثیر” میں لکھا ہے کہ ایک دن محمد المہدی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا جس کے پاس جوتوں کا ایک جوڑا تھا۔ اس نے کہا یہ نبی ﷺ کے نعلین ہیں جو میں آپ کو تحفۃً پیش کرتا ہوں۔ پس اس نے یہ نعلین لے لئے، انہیں بوسہ دیا اور اپنے دائیں طرف رکھا اور اس شخص کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو مہدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بخدا میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ جوتے رسول اللہ ﷺ نے پہنے تو کیا انہیں کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا لیکن اگر میں یہ اسے واپس کر دیتا تو وہ جا کر لوگوں سے کہتا پھرتا کہ میں نے مہدی کو رسول اللہ ﷺ کے نعلین کا تحفہ دیا جو اس نے لوٹا دیا اور لوگ اس کی بات کو سچ سمجھتے۔

نقشِ نعلین کا ادب

بعض علماء نے تو عکسِ نقشِ نعلینِ رسول کو بھی باعثِ برکت بتایا ہے۔

  1. چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک مستقل رسالہ بعنوان "نیل الشفاء بنعل المصطفیٰ” تحریر کیا ہے۔ جس میں نقشِ نعلینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد باعثِ خیر و برکت ثابت کیا ہے،

”بعد حمد و الصلوٰۃ یہ ناچیز اشرف علی عرض کرتا ہے کہ ان دنوں ہم لوگوں کے کثرتِ معاصی سے جو کچھ ہجومِ بلیاتِ صوریہ و معنویہ ہے، ظاہر ہے اس کا علاج بجز اصلاحِ اعمال و توبہ و استغفار کے کچھ نہیں ہے مگر ہم لوگوں کے قلب و زبان کی جو کیفیت ہے، معلوم ہے۔ البتہ اگر کوئی وسیلہ قوی ہو تو اس کی برکت سے حضورِ قلب بھی میسر ہو سکتا ہے اور امیدِ قبول بھی قریب ہے۔ بہ جملہ ان وسائل کے بتجربہ بزرگانِ دین نقشہ نعلِ مقدس حضور سرورِ عالم فخرِ آدم ﷺ نہایت قوی البرکت، سریع الاثر پایا گیا ہے۔“

1."فتح المتعال فی مدح خیر النعال” میں علامہ محدث حافظ تلمسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس نقشِ پاک کے فوائد اس قدر واضح ہیں کہ محتاجِ بیان نہیں۔ ان فوائدِ عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ ابو جعفر رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ میں نے ایک طالبِ علم کو نقشِ نعلین بنوا دیا تھا، چنانچہ ایک روز اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کل رات اس نقشِ پاک کی ایک عجیب برکت دیکھی۔ ہوا یوں کہ رات کو میری بیوی کے شدید درد اٹھا، میں نے یہ نقشِ پاک اس کی درد کی جگہ پر رکھ کر اللہ تعالیٰ سے التجا کی "یا اللہ مجھے اس کی برکت سے صاحبِ نعلین ﷺ کی برکت دکھلا اور میری بیوی کو شفاء عطا فرما” چنانچہ اللہ کے فضل سے فوراً شفاء ہوئی۔

    2۔ مواہب اللدنیۃ میں علامہ احمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ نقشِ نعلین شریف مقامِ درد پر رکھنے سے درد سے نجات مل جاتی ہے اور پاس رکھنے سے راہ میں لوٹ مار سے محافظت ہو جاتی ہے اور شیطان کے مکر و فریب سے امان میں رہتا ہے اور حاسد کے شر و فساد سے محفوظ رہتا ہے۔ مسافت طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

    3۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف علماء و بزرگانِ دین کے حوالہ سے لکھا ہے الف۔۔۔۔ قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اس نقشہ کی آزمائی ہوئی برکت یہ ہے کہ جو شخص اس کو تبرکاً اپنے پاس رکھے، ظالموں کے ظلم سے، دشمنوں کے غلبہ سے، شیطانِ سرکش سے اور حاسد کی نظرِ بد سے امن و امان میں رہے گا اور اگر حاملہ عورت زچگی کی تکلیف کے وقت اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھے تو بفضلہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان ہو۔ ب۔۔۔ شیخ ابن حبیب النبی رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ ان کے ایک دنبل نکلا کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ نہایت سخت درد ہوا کہ کسی طبیب کی سمجھ میں اس کی دوا نہ آئی۔ انہوں نے نقشِ شریف درد کی جگہ رکھ لیا، معاً ایسا سکون ہو گیا کہ گویا کبھی درد ہوا ہی نہ تھا۔

    صاحبِ فتح المتعال علامہ تلمسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک اثر خود میرا مشاہدہ کردہ ہے اور وہ یہ کہ ایک بار سفرِ دریائے شور کا اتفاق ہوا اور دورانِ سفر ایک ایسی حالت ہوئی کہ سب ہلاکت کے قریب تھے۔ کسی کے بچنے کی امید نہ تھی۔ میں نے نقشہ نعلین ناخدا کے پاس بھیج دیا تاکہ اس سے توسل کرے چنانچہ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے عافیت فرمائی۔

    محمد بن الجزری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ جو شخص اس نقشہ نعلین کو اپنے پاس رکھے خلائق میں مقبول رہے، اور خواب میں زیارتِ رسول اکرم ﷺ سے مشرف ہو۔ یہ نقشِ شریف جس لشکر میں ہو گا اس کو شکست نہ ہو گی اور جس قافلہ میں ہو، وہ لوٹ مار سے محفوظ رہے، جس سامان میں ہو، وہ چوری سے محفوظ رہے، جس کشتی میں ہو وہ غرق ہونے سے بچے اور جس حاجت سے اس سے توسل کریں وہ پوری ہو۔

    تاریخ میں نقشِ نعلین مبارک کے اتنے مضبوط حوالہ جات ملتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا ابہام باقی نہیں رہتا۔ اب جو حضرات عبقری کے منبر اور شیخ الوظائف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ وظائفِ عملیات کا الہام کیا صرف انہی پہ ہوتا ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ شیخ الوظائف کی بیان کردہ ہر بات، ہر عمل کے پیچھے مضبوط حوالہ موجود ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں لکھا ہوتا ہے وہاں پڑھا نہیں جاتا اور جہاں لکھا نہیں ہوتا وہاں تلاش کرتے ہیں جس کی وجہ سے اعتراض کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت اعتراض کرنے والوں سے نہ بنائے۔ آمین

    • بخاری: کتاب المناقب، حدیث 3761 ہے۔
    • بیہقی
    • شعب الایمان
    • حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کی کتاب: شمائل ترمذی مع اردو شرح خصائلِ نبوی ﷺ ص 84، ناشر: مکتبۃ البشریٰ کراچی
    • زاد السعید: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، ص نمبر 47، باب نمبر 4
    • نیل الشفا بنعل مصطفیٰ: مولانا اشرف علی تھانویؒ باب فضائلِ نعلین، پبلشر ورلڈ اسلامک پبلی کیشن دہلی۔
    • فتح المتعال فی مدح خیر النعال: امام احمد المقری التلمسانی: ص 60، 59، 85 تا 82، 93 تا 99، 101 تا 113
    • القول السدید فی ثبوت استبراک نعل سید الاحرار والعبید، امام احمد بن المقری التلمسانیؒ
    • المرتجى بالقبول فی خدمۃ قدم الرسول امام احمد بن المقری التلمسانیؒ
    • قرۃ العینین فی تحقیق امر النعلین محمد بن عیسیٰ المقریؒ
    • النفحات العنبرية فی وصف نعل خیر البریۃ: ابو العباس المقری التلمسانی
    • باہر النظام وبارع الکلام فی صفۃ مثال نعل رسول علیہ الصلوۃ والسلام عبد اللہ بن محمد بن ہارون الطائی القرطبی
    • مطلع المسرات بجلاء دلائل الخیرات: امام محمد بن احمد بن علی الفاسی القصر: صفحہ نمبر ۱۴۴-۱۴۵
    • شرح مواہب: جلد 5: صفحہ: ۲۵-۲۳ باب فی ذکر نعلہ الشریف ﷺ قدیم نسخہ مطبوعہ مصر
    • مدارج النبوۃ: شیخ عبد الحق دہلویؒ: جلد 2، ص 587-589 :باب: ذکر نعلین شریفین: مکتبہ رحمانیہ، لاہور
    • جزء تمثال نعلین ﷺ: ابن عساکر، ص 25-33 (ذکر النعلین الشریفین و تبرک الصحابۃ بھما) : بیروت ایڈیشن، مکتبہ دار البشائر الاسلامیہ
    • شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعلہ: امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ، ص 131 تا 146 :باب فی النعل الشریف: مکتبہ رضا، بریلی
    • الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ (المعروف بہ شفاء شریف): جلد 2، ص 52-55 ،باب: ذکر نعلہ و لباسہ ﷺ : دار الکتب العلمیۃ، بیروت
    • الأنوار المحمدية من المواهب اللدنية: امام یوسف بن اسماعیل النبہانی: ص 146-150 (فصل فی النعل الشریف) مکتبہ: مصطفویہ / بیروت ایڈیشن
    • جواہر البحار فی فضائل النبی المختار ﷺ: امام یوسف بن اسماعیل النبہانی: جلد 3، ص 362-370 (فصل فی النعل الشریف): بیروت: دار الکتب العلمیۃ
    • خدمۃ نعل القدم المحمدی، امام یوسف بن اسماعیل النبہانی: ص 25-40 :باب فی النعل الشریف و برکاتہ: بیروت، دار الکتب العلمیۃ
    • خادم النعل الشریف للامام السیوطی ص 7-15 : ذکر النعلین الشریفین و آثار برکاتھما: بیروت دار البشائر الاسلامیہ
    • فتح المتعال فی مدح خیر النعال، للامام التلمسانی: ص 12-35 : ذکر النعل الشریف وأوصافه وبرکاته: بیروت، دار الکتب العلمیۃ
    • رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ ونعلہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلویؒ: ص 42 تا 55 : مکتبہ رضویہ / مکتبہ مصطفویہ ایڈیشن
    • الف: دلائل الخیرات وشوارق الأنوار امام محمد بن سلیمان الجزولیؒ: ص 61-63 : فصل فی صفۃ نعل النبی ﷺ : بیروت دار الکتب العلمیۃ ایڈیشن
    • ب: ص 58-62: مراکش / مصر کے عام عربی نسخے ج: دلائل الخیرات (مترجم: مفتی سعد عبدالرزاق اویسی): ص 131-134 : وصف نعل شریف: مدینہ پرنٹنگ پریس کراچی
    • د: مجمع البرکات شرح دلائل الخیرات (مترجم: مفتی فیض احمد اویسی: ص 178-182 : فصل فی وصف نعل النبی ﷺ
    • الوفاء بأحوال المصطفیٰ ﷺ امام ابن الجوزیؒ جلد 1، ص 83-85 : باب فی نعلہ ﷺ : بیروت دار الکتب العلمیۃ، 1996ء، تحقیق: مصطفیٰ عبد الواحد
    • الخصائص الکبریٰ امام جلال الدین السیوطیؒ: جلد 1، ص 123-124 باب فی نعلہ ﷺ : بیروت دار الکتب العلمیۃ، 1985ء، 2 جلدیں
    • شفاء الوالہ بذکر آثار النعال الشریفہ امام احمد بن حجر مکی شافعیؒ: ص 25-37 وصف و تفصیلِ نعل شریف؛ ص 38-45 برکات و تبرکاتِ نعل شریف: بیروت دار البشائر الاسلامیہ / مکتبہ ازہریہ
    • الطبقات الکبریٰ (المعروف بہ طبقات ابن سعد) امام محمد بن سعد البغدادیؒ: جلد 1، ص 143-144 : بیروت دار صادر، 1968ء
    • مرآۃ الاسرار حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ: ص 71-73 : لاہور: مکتبہ نبویہ
    • الفتح المبین فی فضائل النعلین الشریفین، متاخر صوفیاء و علماء کی خاص تصنیف: ص 12-20 وصفِ نعل شریف؛ ص 21-34 فضائلِ نعل الشریف: قاہرہ و دہلی سے طبع شدہ
    • تحفۃ الأحباب فی مناقب النعل الشریف: متاخر صوفیاء و علماء کی تالیف: ص 15-22 وصف و صفتِ نعل شریف؛ ص 23-40 فضائل و برکاتِ نعل شریف؛ ص 41-55 صوفیاء و اولیاء کے احوال (نقشِ نعلین سے توسل و برکات)؛ ص 50-63 کشف و کرامات اور برکاتِ نقشِ نعلین (بزرگوں کے احوال کے ساتھ): قاہرہ و دہلی سے شائع شدہ
    • الانتصار لحرمۃ النعل النبویۃ: حضرت علامہ سید محمد بن علوی المالکی المکیؒ: ص 17-33 فی مشروعیۃ التبرک بالنعل النبوی”، ص 34-52 اقوال الأئمۃ والعلماء فی النعل النبوی؛ ص 53-70 قصص وحکایات الأولیاء مع النعل النبوی: مکتبہ دار المنہاج، جدہ / مکتبہ ازہریہ
    • تاریخ مدینۃ دمشق حافظ ابن عساکرؒ: جلد 3، ص 408 حضرت انسؓ کے پاس نعلین مبارک کا ہونا اور ان سے تبرک لینا؛ جلد 7، ص 437 مزید روایاتِ تبرک بالنعلین: تحقیق: محب الدین ابو سعید عمر بن غرامہ العمروی، دار الفکر، بیروت
    • الکواکب الدریۃ فی مدائح خیر البریۃ امام یوسف بن إسماعیل النبهانی الشافعیؒ: جلد 1، ص 112-115 قصیدہ مدح النعل الشریف؛ جلد 2، ص 60-58 نعلین کی تعظیم و برکات پر اشعار: بیروت دار الکتب العلمیۃ
    • روض الریاحین فی حکایات الصالحین امام عبد اللہ بن اسعد الیافعیؒ: ص 58-59 نقشِ نعلین سے توسل کی حکایت؛ ص 144-145 اولیاء کا نقشِ نعلین سے برکت لینا: بیروت دار الکتب العلمیۃ، 1997ء
    • نزھۃ المجالس ومنتخب النفائس شیخ صفی الدین احمد بن مصطفیٰ بغدادی: جلد 2، ص 174 باب النعل الشریف: جلد 2، ص 322 حکایتِ نقشِ نعلین سے توسّل: بیروت دار الکتب العلمیۃ
    • المدائح النبویۃ، امام بوصیریؒ (قصائد): ص 212-213 نعلین کی تعظیم؛ ص 354-356 نعلین کے فضائل: المدائح النبویۃ: بیروت دار الکتب العلمیۃ
    • شرح الشفاء (القاضی عیاض کی الشفاء پر شروح): جلد 1، ص 210-212 فصل فی نعلہ ﷺ : بیروت دار الکتب العلمیۃ
    • مکتوباتِ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ (شیخ احمد سرہندیؒ): جلد 2، ص 112-115 (نقشِ نعلین سے برکت کا ذکر)
    • تاریخ ابن کثیر امام ابن کثیرؒ دمشق: جلد 1، ص 154 : جلد 2، ص 210-211 : بیروت دار الفکر، تحقیق: حسن محمد الشاطری
    • القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع امام جلال الدین السیوطیؒ: ص 78-80 وصف و تعریفِ نعل شریف؛ ص 81-84 فضائل و تبرکِ نعل شریف: بیروت دار الکتب العلمیۃ
    • The Blessed Objects and Their Legal Status (ڈاکٹر طاہر القادری): ص 50، 51
    • دلائل النبوۃ، امام بیہقیؒ: جلد 2، ص 130؛ جلد 2، ص 135
    • فتاویٰ عثمانی: 1 / 47 : مکتبہ معارف القرآن، کراچی
    • Sandals of Prophet Muhammad (ﷺ)
    • ایک آن لائن مقالہ (جیسے Barkaat-ul-Quran کی ویب سائٹ پر) جس میں حضور ﷺ کی نعلین کی برکت، صحابہ کا ان کا اہتمام، اور ان کی ذاتی خصوصیات بیان کی گئی ہیں

    پوسٹ کو شیئر کریں

    عبقری کا پتہ

    جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026