تسبیح خانہ نے بچوں سے دعا کرانے کا پیکیج کیوں دیا پردہ اٹھا دینے والی تحریر

جس شخص کی دعا قبول ہونے کے امکان ہوں تو اس سے دعا کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ظاہر ہے بچے کیوں کہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی دعائیں زیادہ قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں، بڑوں کا چھوٹوں سے دعا کرانا کئی جگہ ثابت ہے چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: (میرے بھائی! ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں مت بھولنا) جسے ابوداؤد (1498) اور ترمذی (3557) نے روایت کیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وصیت کی تھی کہ وہ اویس قرنی رحمۃ اللہ سے دعا کروائیں۔ جب کہ ظاہر ہے اویس قرنی رحمۃ اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہر لحاظ سے چھوٹے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت کا معاملہ فرماتے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، گود میں بٹھا لیتے، ان کا بوسہ لیتے، کندھے پر اٹھا لیتے اور اگر کوئی بچہ جسمِ مبارک پر پیشاب کر دیتا تو آپ ناگواری کا اظہار نہ فرماتے، مجلس میں بیٹھے ہوئے بچوں کو دگنی میٹھی چیز عطا فرماتے اور بچوں پر رحم و شفقت نہ کرنے والوں کو پسند نہ فرماتے ان کی اچھی تربیت کرنے کا حکم فرماتے۔

بچوں کی اچھی تربیت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انھیں شروع سے ہی دعا مانگنے کا عادی بنایا جائے تاکہ جب وہ بڑے ہو جائیں تو ہر حالت، پریشانی اور دکھ میں ان کی پہلی نگاہ اللہ رب العزت ہی پر جائے اسی وجہ سے تسبیح خانہ میں بچوں سے دعاؤں کی تلقین کی جاتی ہے جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی گلی میں ایک بچے کو دیکھا تو نیچے جھک کر بچے سے کہا بیٹے اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا امیر المومنین آپ ایک بچے کو دعا کا کہہ رہے ہیں جبکہ آپ خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں اس لیے اسے دعا کی درخواست کر رہا ہوں کیونکہ یہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا اور ابھی اس نے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمہ اللہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ، کتاب فضائلِ دعا صفحہ 112 پر اپنے لیے دوسروں سے دعا کروانے کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دُعا کراتے کہ دُعا کرو عمر (رضی اللہ عنہ) بخشا جائے۔

ایک مرتبہ حضرت خواجہ باقی باللہ دہلوی رحمۃ اللہ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب مجھ میں صبر و تحمل اور توکل کا اس قدر مادہ پیدا ہو گیا ہے کہ میں اب بڑی سے بڑی مصیبت پر بھی صبر کر سکتا ہوں۔ ان کا یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا عتاباً اور تنبیہاً آپ کا فوراً پیشاب بند ہو گیا اور آپ مچھلی کی طرح تڑپنے لگے قلب پر القاء ہوا کہ مکتب کے بچوں سے جا کر دعا کراؤ۔ آپ نے بچوں سے دعا کروائی اور بچوں کی دعا کی بدولت آپ کو اس تڑپا دینے والی بیماری سے شفاء ملی۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ بچوں کو پیار کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔

خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ کی والدہ روزانہ اپنے بچے کو اللہ سے مانگنا سکھاتیں اور ان سے کہتیں کہ بیٹا کھانا روزانہ اللہ سے مانگا کرو اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ ولیِ کامل بنے۔

تسبیح خانہ کے پیشِ نظر بچوں کی تربیت بھی ہے اور ان کی مقبول دعاؤں کا حصول بھی۔

ہے ناں ڈبل پیکیج۔۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026