حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کائنات کے راز کھول دیے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری میں دیے جانے والے وظائف کے ساتھ جو شرط ہوتی ہے کہ اگر یہ وظیفہ فلاں وقت میں پڑھا جائے تو اس کا نفع سو فیصد ہو گا۔ اگر اس ورد کو فلاں تعداد میں کیا جائے تو اس کی تاثیر حاصل ہو جائے گی۔ ایسی شرائط کا شریعت سے کیا ثبوت ہے؟ حالانکہ ان لوگوں کو قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان معلوم ہونا چاہئے: وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ (سورۃ الرعد آیت 8) اور وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ (سورۃ الحجر آیت 21) یعنی اللہ جل شانہٗ نے ہر چیز کی ایک خاص تعداد مقرر کی ہوئی ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں، لیکن وہ ایک خاص مقدار کے بقدر ہی نازل فرماتا ہے۔ دوسری طرف جب ہم احادیث میں دیکھتے ہیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ملتی ہے کہ حضور سرورِ کونین ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن زمین کو پیدا کیا۔ اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا۔ پیر کے دن درختوں کو پیدا کیا۔ منگل کے دن کام کاج کی چیزوں کو پیدا کیا۔ بدھ کے دن نُور کو پیدا کیا۔ جمعرات کے دن زمین میں جانور پھیلائے اور سب مخلوقات کے آخر میں جمعے کے دن کی آخری ساعت میں آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا (صحیح مسلم 7054)

جب ہم شریعت کے احکام میں غور کرتے ہیں، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر چیز کیلئے ایک خاص وقت اور خاص تعداد مقرر ہے۔ 9 ذی الحجہ کے علاوہ انسان سخت گرمی میں جا کر میدانِ عرفات میں بیٹھا رہے، لیکن اسے وقوفِ عرفہ کا ثواب نہیں مل سکتا۔ سارا سال انسان بکرے ذبح کرتا رہے، اسے مسنون قربانی کا ثواب نہیں ہو سکتا۔ فرض نمازوں میں سب سے زیادہ ثواب سجدے میں ملتا ہے۔ انسان ہر رکعت میں دو کی بجائے تین سجدے کرنا شروع کر دے، یہ شریعت کی نماز نہیں ہو گی، بلکہ طبیعت کی نماز سمجھی جائے گی۔ مکہ میں حج کے دوران جگہ جگہ حد بندی کی گئی ہوتی ہے کہ یہاں سے مزدلفہ کی حد شروع ہو چکی ہے، یہاں منیٰ کی حد ہے۔ حالانکہ شہر تو ایک ہی ہے۔ ہمارے یہاں عام مساجد میں بھی اسی طرح حد بندی ہوتی ہے کہ یہ حصہ مسجد میں شامل نہیں، صرف بیت الخلاء کیلئے یا مولانا صاحب کی رہائش کیلئے مختص ہے، حالانکہ مسجد کے باہر مین گیٹ تو ایک ہی ہوتا ہے۔ سورج کے نکلنے کا ایک خاص وقت مقرر ہے۔ پھر اس کی ساعات جاننے کیلئے مساجد میں باقاعدہ شیڈول لگا ہوتا ہے کہ اب ظہر کا وقت داخل ہو گیا ہے، اب عصر کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ حالانکہ دن تو ایک ہی ہے۔ نماز تو اللہ جل شانہٗ کیلئے ہی پڑھنی ہے، اس کے باوجود ہمیں خاص وقت اور خاص تعداد کا پابند کیا گیا ہے۔ تو کیا جو وظیفہ اللہ جل شانہٗ کی رضا حاصل کرنے، اس سے اپنے مسائل حل کروانے، مشکلات ٹلوانے اور بیماریوں کو شفاء میں تبدیل کروانے کیلئے پڑھا جائے گا، کیا اس کے لیے کوئی تعداد اور کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے! مولانا سید محمد ابو بکر غزنوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح دوائی کی ایک خاص مقدار ہی کے ذریعے علاج ہوتا ہے۔ اسی طرح وظائف کی بھی خاص تعداد مقرر ہے۔ اگر دوائی کم کھائیں گے تو مرض ختم نہیں ہو گا، اگر مقررہ مقدار سے زیادہ کھا لیں گے تو بھی نقصان ہو گا

لہٰذا اپنی مرضی سے وظائف پڑھنے کا ثواب تو ملتا رہے گا، لیکن جس مقصد کیلئے پڑھا جا رہا ہو، اس کا سو فیصد رزلٹ حاصل کرنے کیلئے اپنے اکابر و اسلاف کی تجربہ شدہ خاص تعداد اور خاص وقت کا پابند ہونا لازم ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026