اللهم صل على محمد وآل محمد کی سندی حیثیت

(عبقری کا مستند وظیفہ احادیث اور تعلیماتِ اکابر کی روشنی میں)

2018ء محرم کے مہینے میں تسبیح خانہ میں اجتماع ہوا جس میں اللھم صل علی محمد وآل محمد اس درود پاک کے کمالات اور برکات بیان کی گئیں بہت سے لوگ اس درود کو ایک خاص طبقہ کے ساتھ منسوب کر کے کہنے لگے کہ یہ تو ان کے ساتھ ہی خاص ہے، ایسے تمام حضرات کی خدمت میں احادیث مبارکہ اور اکابر کی زندگی کے چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں: اللہ پاک ہمیں آل و اصحاب رضی اللہ عنہم کا سچا عشق عطا فرمائے۔ (1) حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ نے ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ہے آپ ﷺ ارشاد فرمائیے کہ کس طرح درود پڑھا کریں حضور پاک ﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ کہ وہ شخص سوال ہی نہ کرتا پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یوں کہا کرو اللھم صل علی محمد وآل محمد

(2) مفتی محمد مزمل سلاوٹ صاحب رفیق دارالتصنیف واستاذ جامعہ فاروقیہ نے اپنی کتاب البرکات المدنیہ میں ص 37 پر سنن نسائی ج 1 ص 383 رقم الحدیث 1215، خلاصۃ البدر المنیر ج 1 ص 140، عمل الیوم واللیلہ للنسائی رقم الحدیث 53 کے حوالے سے بھی اس درود پاک کو لکھا ہے۔ اسی طرح مولانا لیاقت لاہوری صاحب نے یہ درود پاک ذریعہ الوصول الی جناب الرسول کے حوالے سے لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں:

(3) مولانا عبدالرحمن مبارکپوریؒ نے اپنی کتاب میں اس درود پاک کو لکھا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں:

(4) پروفیسر خورشید احمد صاحب حفظہ اللہ نے بھی اپنی کتاب میں شیخ محمد ابو المواھب شاذلیؒ کے معمولات کے حوالے سے روزانہ ایک ہزار مرتبہ پڑھنا لکھا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں کہ عبقری لوگوں کو کتنے خوبصورت انداز سے قرآن و سنت سے جوڑ رہا ہے۔۔!

احادیث کے کچھ حوالہ جات میں نے آپ کی خدمت میں اس سے پہلی قسط میں عرض کیے تھے اب اولیاء کی زندگی سے ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں جس سے آپ کو عبقری کے پیغام اعمال سے پلنے اور بچنے کا یقین انشاء اللہ اور بھی پختہ ہو جائے۔

حافظ ابو نعیم حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا سفیان ثوریؒ۔ اس نے کہا کیا عراق والے سفیان ثوریؒ۔ میں نے کہا ہاں! کہنے لگا تجھے اللہ کی معرفت حاصل ہے میں نے کہا ہاں ہے۔ اس نے پوچھا کس طرح معرفت حاصل ہے؟ میں نے کہا وہ رات دن نکالتا ہے دن سے رات نکالتا ہے، ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت پیدا کرتا ہے۔ اس نے کہا کچھ نہیں پہچانا۔ میں نے کہا پھر تو کس طرح پہچانتا ہے؟ اس نے کہا کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں اس کو فسخ کرنا پڑتا ہے اور کسی کام کے کرنے کی ٹھان لیتا ہوں مگر نہیں کر سکتا اس سے میں نے پہچان لیا کہ کوئی دوسری ہستی ہے جو میرے کاموں کو انجام دیتی ہے۔

میں نے پوچھا یہ تیرا درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا، میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے اس سے، میں اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوئے اور انہوں نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا۔ اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی ﷺ ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کر یا اٹھایا کرے تو اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد پڑھا کر۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026