شیخ الوظائف کی عراق میں اہلِ تشیع علمائے کرام سے ملاقات تاریخ کے آئینہ میں

ابھی حال ہی میں شیخ الوظائف کے دورۂ عراق 2021 میں پانچ رکنی آئے وفد سے شیخ الوظائف نے ملاقات کی جس کا مقصد دین کے پیغامِ امن اور محبت کا فروغ پیغامِ رواداری کو عام کرنا تھا اور یہ پیغامِ رواداری ہمارے تمام بڑوں کی زندگی میں موجود تھا تاریخ کے چند جھلکوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اللہ کریم ہمیں اہل سنت والجماعت کے اکابر کی پیروی نصیب فرمائے۔ آمین۔

مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، پیر جماعت علی شاہ صاحب، پیر مانکی شریف، پیر کوٹڑی شریف کے ساتھ اکثر شیعہ علمائے کرام بھی ساتھ تھے۔ (نوائے وقت 13 اپریل 1955)

علامہ سید سلیمان ندوی، مفتی محمد حسن، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا اطہر علی، مولانا عبد الحامد بدایونی (بریلوی) مولانا داؤد غزنوی مفتی (اہل حدیث) جعفر حسین مجتہد (اہل تشیع)، مفتی کفایت حسین مجتہد (اہل تشیع) ایک ساتھ رہے۔

2 جون 1952ء کو مولانا لال حسین اختر صاحب کے رابطے اور کوششوں سے کراچی کے تھیوسوفیکل ہال میں آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جو دعوت نامہ مسلم پارٹیز کو بھیجا گیا اس پر درج ذیل علمائے کرام کے دستخط تھے۔ 1۔ مولانا لال حسین اختر 2۔ مولانا احتشام الحق تھانوی (دیوبندی) 3۔ مولانا عبدالحامد بدایونی (بریلوی) 4۔ مولانا مفتی جعفر حسین مجتہد (شیعہ) 5۔ مولانا محمد یوسف (اہل حدیث)

1952ء میں تحریک ختمِ نبوت کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمائندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔

1974ء میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں کل جماعتی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قادیانیت کو پارلیمنٹ کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع موجود تھے۔

1977ء میں ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمود کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی شیعہ رہنما موجود تھے۔

1998ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلسِ عمل کا احیاء عمل میں لایا گیا تو اہل تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک شیعہ رہنما فائز تھے۔

اب جبکہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی رہ نمائی میں تحریک تحفظِ ناموسِ رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں شیعہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ مجلسِ عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتبِ فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آ رہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتبِ فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذِ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔

1974ء کی تحریک ختمِ نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریک کی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ شیعہ رہنماؤں نے بھی خطاب کیا تھا بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی (اہل تشیع) کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا تو آغا شورش کاشمیری نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کا لوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کر لیا اور کراروی صاحب کو رہا کر کے وہاں سے واپس ہوئے۔

تحریکِ ناموسِ رسالت، تحریکِ حرمتِ رسول اور دیگر جماعتوں کی جانب سے تحفظِ ناموسِ رسالت کے حق میں ناصر باغ سے اسمبلی ہال تک عظیم الشان ریلی نکالی۔ اس موقع پر مقررین نے تحفظِ ناموسِ رسالت ایکٹ کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم کٹ مریں گے مگر کسی صورت توہینِ رسالت برداشت نہیں کی جائینگی، ریلی سےناموسِ رسالت تحریک کے رہنماؤں سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن، پروفیسر ساجد میر، چودھری پرویز الٰہی، پروفیسر حافظ سعید، مولانا عبدالغفور حیدری، ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، ساجد نقوی، جے یو آئی کے رہنما مولانا ڈاکٹر اجمل قادری ایک ساتھ رہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ”آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ“ کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے جس کے پہلے سربراہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ، دوسرے سربراہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، تیسرے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے جبکہ اب اس کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ ہیں اور اہل تشیع اس بورڈ کا نہ صرف مسلسل حصہ ہیں بلکہ ممتاز شیعہ علماء اس کے مرکزی عہدہ دار بھی چلے آ رہے ہیں۔

افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جہاد میں اہل سنت کی نصف درجن کے لگ بھگ جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی ”حزبِ وحدت“ بھی جہادِ افغانستان کا حصہ رہی ہے اور ان تنظیموں کے درمیان اس دور میں اشتراک و تعاون بھی رہا ہے۔

جناب بھٹو صاحب کے دور میں پاکستان قومی اتحاد کے جھنڈے کے نیچے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ اور اسلامی انقلاب کیلئے مولانا مفتی محمود صاحب، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، مولانا شاہ احمد نورانی، جناب علی غضنفر (اہل تشیع) اور دیگر علمائے کرام ایک ساتھ تھے۔

اسلام نے مسلمانوں کی پھوٹ کو کبھی برداشت نہیں کی مگر بہت افسوسناک بات یہ ہے کہ اہِ پاکستان آج دیوبندی، بریلوی، مقلد، غیر مقلد، شیعہ اور سنی کے جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔

مجلس احرار کے مرکزی صدر امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، صوبائی صدر پنجاب مولانا داؤد غزنوی (اہل حدیث) صوبائی جنرل سیکرٹری صاحبزادہ فیض الحسن آلومہاروی (بریلوی)، مجلس احرار کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا مظہر علی اظہر (اہل تشیع)، اور امیر شریعت کے سفر و حضر کے ساتھی علامہ مظہر شمس (اہل تشیع) تھے۔ علامہ عین غین کراروی بھی ساتھ تھے جب علامہ مظہر شمس صاحب تحریک کے سلسلے میں جیل گئے تو مولانا احمد علی لاہوری صاحب کے گھر میں راشن پہنچایا کرتے تھے۔ (راوی: حافظ محمود اشرف رہنما جمعیت لاہور)

پاکستان میں دینی مدارس کے نمائندہ پانچ مدارس بورڈ پہلے سے موجود ہیں جن میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان اور رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان شامل ہیں ان تمام مدارس کے بورڈ نے متفق ہو کر ایک بورڈ تشکیل دیا جس کا نام اتحادِ تنظیماتِ مدارس رکھا گیا اس میں شریک تمام علمائے کرام کا ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا تھا۔

وزارتِ تعلیم نے 5 اضافی بورڈز کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔ ایچ ای سی سے منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ جس میں اتحاد مدارس العربیہ پاکستان (دیوبند)، اتحاد مدارس الاسلامیہ پاکستان (اہل حدیث)، نظام المدارس پاکستان (بریلوی منہاج القرآن)، مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمت (اہل تشیع) اور وفاق المدارس الاسلامیہ الرضويه پاکستان (بریلوی) کو بورڈ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

9/11 کے بعد ایوانِ صدر میں ہونے والی تاریخی میٹنگ میں دہشت گردی کے خلاف دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع تمام علمائے کرام ایک ساتھ ایک زبان کھڑے تھے۔ (ماہنامہ البلاغ ذیقعد ۱۴۳۲ھ مطابق اکتوبر ۲۰۱۱ء)

پاکستان علمائے کونسل وطنِ عزیز پاکستان اور بیرونِ پاکستان اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی کو عام کرنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے ۔ پاکستان علمائے کونسل نے ہمیشہ اعتدال کا راستہ اپناتے ہوئے بین المسالک و بین المذاہب مکالمہ اور رواداری کیلئے جدوجہد کی ہے۔ خودکش حملوں سے لے کر انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کے بیانیہ کو پاکستان علمائے کونسل کی قیادت نے علمائے امت سے مل کر ہمیشہ چیلنج کیا ہے اور اسلام کا پیغامِ اعتدال امن و سلامتی عام کیا ہے۔ پاکستان علمائے کونسل نے 90 کی دہائی میں شیعہ وسنی قتل و غارت گری کے دوران بھی لاہور فلیٹیز ہوٹل میں شیعہ وسنی قیادت کو جمع کیا اور آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تشدد و انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متفقہ بیانیہ عوام الناس، مذہبی طبقات اور حکومت کو پیش کیا اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت مولانا سمیع الحق شہید، علامہ ساجد علی نقوی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید، مولانا ضیاء القاسمی، قاضی حسین احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، پروفیسر ساجد میر اور پاکستان علمائے کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ملی یکجہتی کونسل کی تشکیل میں کامیاب ہوئے اور ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق مذہبی قیادت نے قوم کے سامنے پیش کیا۔

کانفرنس میں علامہ غلام اکبر ساقی، علامہ افضل حیدری، صاحبزادہ حامد رضا، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا عبد الکریم ندیم، قاری زاہد فاروقی، پیر صاحب مانکی شریف، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد خان لغاری، علامہ عارف واحدی، حافظ کاظم رضا، علامہ زاہد حسین، شفقت حسین بھٹہ، مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا محمد ایوب صفدر، مولانا زبیر عابد، علامہ طاہر الحسن، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا اسعد زکریا قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا اسلم صدیقی، مولانا عمار نذیر بلوچ، مولانا عصمت اللہ معاویہ، قاری طیب شاد قادری، پیر اسعد حبیب شاہ جمالی، مولانا عبید الرحمن گورمانی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا عبد القیوم فاروقی، مولانا احسان احمد حسینی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد شہباز نعمانی، مولانا ابوبکر صابری، مولانا الیاس مسلم، مولانا انوار الحق مجاہد، مفتی عمر فاروق، مولانا شکیل الرحمن قاسمی، مولانا عبد الحکیم اطہر، قاری مبشر رحیمی، مولانا راشد منیر، مولانا زبیر کھٹانہ، مولانا عثمان بٹ، مولانا تنویر چوہان، مولانا عقیل زبیری، مولانا قاسم قاسمی، مولانا اصغر حسینی، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا مطلوب مہار، مولانا عبد الرؤف اور دو سو سے زائد علماء و مشائخ شریک تھے۔

جامعہ عروۃ الوثقیٰ اور جامع مسجد بیت العتیق میں علامہ جواد نقوی صاحب کی زیرِ صدارت ہونے والے پروگرام ختمِ نبوت وحدتِ امت کانفرنس 2019 میں علامہ زاہد الراشدی صاحب تشریف لے گئے جہاں پر تمام شیعہ علمائے کرام نے ان سے مصافحہ اور معانقہ فرمایا اور ان کی خوشی کی آمد پر مٹھائی تقسیم کی گئی جسے آپ نے خود بھی نوش فرمایا، وہاں کی گئی تقریر میں آپ نے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت پر علامہ سید جواد نقوی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور وہاں موجود تمام شیعہ اور سنی علماء کو مغرب کی نماز باجماعت پڑھوائی۔ دیگر علمائے کرام کے ساتھ یہاں پر مولانا عمران بشیر صاحب، اور مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب کے پوتے اور دیگر جید علمائے کرام بھی موجود تھے۔

مولانا طارق جمیل صاحب ایک عالمی معروف اسکالر ہیں آپ ہر مسلک کے عالم دین کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارتے ہیں ابھی حال ہی میں علامہ شہنشاہ نقوی آپ کے پاس آئے تو آپ نے چار مرتبہ ان کے ساتھ معانقہ فرمایا پر کیف لمحات گزارے اور ان سے دعا کی درخواست کی اور انھیں رخصت کرنے گاڑی تک آئے۔ اسی طرح علامہ جواد نقوی صاحب کے ساتھ بھی آپ کی نہایت ہی خوشگوار ملاقات موجود ہے۔

Reference Links:

https://www.youtube.com/watch?v=HhgxMibeSDg

https://www.youtube.com/watch?v=GsaCmKm4CSE

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ایک معتدل مزاج اور فرقہ واریت کے خلاف جید عالم دین ہیں ہر مکتبہ فکر میں آپ کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آپ ایک سفر میں ایران تشریف لے گئے تو وہاں آپ کے میزبان اہلِ تشیع علمائے کرام تھے آپ نے ان سے مصافحہ کیا اور خوشگوار لمحات ان کے ساتھ گزارے۔ اور ایک جمِ غفیر نے ان کا استقبال کیا۔

(البلاغ رمضان المبارک ۱۴۲۶ھ مطابق ۲۰۰۵ء)

تسبیح خانہ کا پیغام محبتوں کو عام کرنا اور رواداری کو فروغ دینا ہے جو کہ ہمارے تمام بڑوں کی زندگی میں موجود تھا۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026