اکابر پر اعتماد کی ایسی پوسٹ جسے پڑھتے ہی آپ کا ایمان بچ جائے گا۔۔۔!

دوسروں کے ایمان کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں۔۔۔!

قرآنِ مقدس کی ایک آیت ہے ’’وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا‘‘ یعنی جس شخص کو حکمت اور دانائی دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی اس لیے فرمایا جاتا ہے دعوت کا کام حکمت اور بصیرت سے تعلق رکھتا ہے کس وقت کس جگہ کیا بات کرنی ہے اور کس طرح کرنی ہے اللہ کے فضل سے اسی حکمت اور دانائی کے تحت عبقری لبرل طبقہ کو مختلف بہانوں سے اپنے رب کے کلام اور کالی کملی والے صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے جوڑ رہا ہے۔۔۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

بعض دفعہ ایک کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طریقے ثابت ہوتے ہیں اور سب کے سب سنت ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک طریقہ ایسا ہے کہ لوگ اس کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اس کو خوشی سے قبول کرتے ہیں، جب کہ اسی کام کے دوسرے طریقے کا مذاق اڑاتے ہیں اور استہزا و مذاق کر کے اپنا ایمان ضائع کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں حکمت و بصیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سنت کو اختیار کیا جائے جو لوگوں کے ایمان ضائع ہونے کا سبب نہ بنے یعنی پہلا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں حضرت حکیم الامت دامت برکاتہم العالیہ کی حکمت و بصیرت کے دو واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ تہبند باندھنے کے بارے میں ایک سنت طریقہ یہ ہے کہ تہبند ٹخنہ سے اوپر ہو اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ موٹی پنڈلی سے اوپر ہو۔۔۔

استادِ محترم ولیِ کامل حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب رحمہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور موٹی پنڈلی سے اوپر تک شلوار اور اونچی رکھتے تھے۔ حضرت حکیم العصر دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ ہم خانیوال اسٹیشن پر بیٹھے تھے میں نے حضرت مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ کا ایک ملفوظ حضرت صوفی صاحب کو سنایا مولانا فرماتے ہیں کہ بعض لوگ مستحبات پر عمل کرتے ہیں لیکن اس سے دوسرے کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ موٹی پنڈلی سے اوپر شلوار یا تہبند رکھنا مستحب ہے مگر مذاق کرنے سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ حضرت صوفی صاحب نے حدیث شریف سنائی ’’مَن تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِندَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ‘‘۔ (جس نے فسادِ امت کے زمانہ میں میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے) اور فرمایا اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟

حضرت حکیم العصر دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے ایک واقعہ سن لیں ارواحِ ثلاثہ میں لکھا ہے کہ جب مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ نے رفع یدین شروع کیا تو مولوی احمد محمد علی صاحب رحمہ اللہ نے جو شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور ان کے کاتب تھے شاہ صاحب رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ نے رفع یدین شروع کیا ہے اور اس سے مفسدہ پیدا ہوگا آپ ان کو روک دیجیے۔

جب شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا میاں عبدالقادر تم اسماعیل کو سمجھا دینا کہ وہ رفع یدین نہ کیا کریں، کیا فائدہ ہے خواہ مخواہ عوام میں شورش پیدا ہوگی۔ شاہ عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ نے مولوی محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی معرفت مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ سے کہلایا کہ تم رفع یدین چھوڑ دو اس سے خواہ مخواہ فتنہ ہوگا۔ جب مولوی محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ نے مولوی اسماعیل صاحب سے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ عوام کے فتنے کا خیال کیا جائے تو اس حدیث کے کیا معنی ہونگے۔ ’’مَن تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِندَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ‘‘۔ کیونکہ جو کوئی سنت متروکہ کو اختیار کرے گا عوام میں ضرور شورش ہوگی۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026