شیخ الوظائف سالہا سال سے تسبیح خانہ میں ہر مہینے بے شمار لوگوں کو مور کے پنکھوں سے اسمِ اعظم کا دم کر رہے ہیں اور اب یہی مور کے پنکھ رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں لوگوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں جس پر لا تعداد اسمِ اعظم پڑھا جاتا رہا ہے اور اللہ کے نام کی برکت ان مور کے پنکھوں میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کیا ان مور کے پنکھوں کو گھر میں رکھنے میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں یا شریعت میں اس کی کوئی ممانعت تو نہیں ہے۔ اس مسئلے کے متعلق علماء کیا فرماتے ہیں آپ بھی پڑھ لیجئے!
سوال نمبر: 67201
عنوان: کیا مور کا پنکھ خرید کر گھر میں رکھنا جائز ہے؟ سوال: کیا مور کا پنکھ خرید کر گھر میں رکھنا جائز ہے؟ کیوں کہ مور کا پنکھ حاصل کرنے کے لیے مور کو تکلیف دی جاتی ہے، اس کے جسم سے زبردستی وقت سے پہلے نوچ لیا جاتا ہے؟
جواب نمبر: 67201
بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa ID: 1015-1008/H=10/1437 بلاضرورت زبردستی نوچ لینا تو اچھا نہیں ہے تاہم کسی نے ایسا کر لیا اور اس سے کسی شخص نے خرید لیا تو خریدنا اور گھر میں رکھنا درست ہے شرعاً اس کے رکھنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند، انڈیا
لہٰذا! یہ مور کے پنکھ جن پر اسمِ اعظم لا تعداد میں پڑھا جاتا رہا ہے ان کو اپنے پاس رکھنا جائز ہی نہیں بلکہ باعثِ خیر و برکت بھی ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کی زندگی اور گھر میں امن و سکون، خیر و عافیت اور برکت ہی برکت ہوگی۔ ان شاء اللہ۔
