عبقری تسبیح خانے میں سالہا سال سے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اکابر و اسلافؒ کی ترتیب کے عین مطابق مخلوقِ خدا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اعمال سے بننے، اعمال سے پلنے اور اعمال سے بچنے کا یقین اتنا پختہ ہو جائے کہ مشکل پیش آتے ہی ہماری نظر ڈائریکٹ اللہ پاک جل شانہٗ کی طرف جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وظائف کی سو فیصد تاثیر پانے کیلئے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ایک بات اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ اللہ والو! دعائیں پڑھا نہ کریں، بلکہ مانگا کریں۔ ہم دعاؤں کو صرف پڑھتے ہیں، جبکہ اللہ پاک جل شانہٗ کے ہاں قبولیت کروانے کیلئے بھکاری بن کے مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں، عصرِ حاضر کے جید عالمِ دین اور عظیم مفتی، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہٗ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟
(قسط نمبر 266)
گزشتہ دنوں مارچ 2019ء میں حضرت مفتی صاحب پر جب دہشت گردوں کی طرف سے حملہ ہوا تو اس کے بعد ندیم محمود ضیاء الرحمٰن چترالی صاحب نے ان سے انٹرویو کرتے ہوئے سوال پوچھا: دہشت گردی کے حملے میں آپ کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ کیا اس وقت آپ کوئی دعا پڑھ رہے تھے؟
مفتی صاحب: بالکل! اللہ تعالیٰ نے مجھے گولیوں کی بوچھاڑ سے اس طرح محفوظ رکھا کہ مجھے خراش تک نہیں آئی۔ البتہ اپنے دو ساتھیوں کی شہادت کا مجھے سخت صدمہ ہے۔ جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میں دعا پڑھتا نہیں، مانگتا ہوں۔ دعا پڑھنی اور چیز ہوتی ہے، مانگنی اور چیز ہے۔ سفر کے دوران بھی دعا مانگنا میرا معمول ہے۔ حملے کے وقت میں سورۃ الکہف کی تلاوت شروع کر رہا تھا اور میری اہلیہ کے ہاتھوں میں قرآنِ مجید تھا، جس پر وہ سورۃ یاسین پڑھ رہی تھیں اور اس وقت اس آیت پر تھیں: وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے آگے پیچھے دیواریں کھڑی کر دی ہیں اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ آپ کو ایک حیرت انگیز بات بتاؤں؟ میں گاڑی کے بائیں دروازے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، دہشت گردوں کی ایک گولی اسی دروازے کے آر پار ہوئی۔ گولی لگنے کا مقام وہی تھا، جہاں میری ٹانگ تھی۔ عقل تو یہی کہتی ہے کہ یہ گولی میری ٹانگ میں لگنی چاہئے تھی کیونکہ گولی دروازے کے آر پار ہو گئی تھی، لیکن ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ گولی کہاں چلی گئی؟ حملہ آور ہم پر تینوں اطراف سے فائرنگ کر رہے تھے، گاڑی کے شیشے چکنا چور ہو گئے لیکن مجھے، میری اہلیہ کو اور پوتے، پوتی کو اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔
(بحوالہ: ماہنامہ القاسم، اپریل 2019ء صفحہ 10 مدیر: مولانا محمد قاسم حقانی صاحب، ناشر: جامعہ ابوہریرہؓ، خالق آباد، نوشہرہ
حوالہ نمبر 2: ماہنامہ البلاغ، اپریل 2019ء صفحہ نمبر 6 ناشر: جامعہ دارالعلوم کراچی
حوالہ نمبر 3: روزنامہ امت کراچی، منگل 26 مارچ 2019ء)
