اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ ملتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں نہ جاتے

قارئین! آج کچھ کم عقل اور اپنے اکابر و اسلافؒ کے طرزِ زندگی سے لاعلم لوگ عبقری میگزین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا ”خواب ناک جہان“ ہے، جس میں ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نجات ملتی ہے، اگر وظائف ہی سے کچھ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدانِ جنگ میں تشریف نہ لے جاتے۔“ حالانکہ محترم قارئین! ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضور سرورِ کونین ﷺ سے تو میدانِ جنگ میں بھی وظیفہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر وظیفہ پڑھنے سے کچھ نہ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدانِ جہاد میں ”حم لَا يُنْصَرُوْنَ“ کا وظیفہ نہ پڑھتے

مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب (جامعہ ابوہریرہؓ نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستتی رحمۃ اللہ علیہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر صحیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفایت نہیں کریں گے تو مجبور لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بدعقیدہ، گمراہ، شریر اور خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان، عزت اور مال ضائع کر بیٹھیں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں کبھی غفلت نہ برتنا۔ پھر فرمایا: یا باسط یا حفیظ کو خود بھی پڑھنا اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرنا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: یا باسط پڑھنے سے مال میں، اعمال میں، علم میں، عزت میں، اولاد میں، دنیا میں اور آخرت میں کشائش (وسعت) ملے گی اور یا حفیظ پڑھنے سے جان، مال، اولاد، عزت، قبر اور آخرت کی حفاظت ہوگی

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026