محترم قارئین! درج بالا کتابچہ جس کا ترجمہ مفتیِ اعظم پاکستان جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے کیا، اس میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے واضح طور پر مولانا محمد طاہر قاسمی صاحب کے الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ ہر مشکل میں ان آیات کا پڑھنا اکسیر ہے اور مجھے یہ عمل 120 سالہ بزرگ عامل سے ملا تھا۔ میں نے خود بھی تجربہ کیا تو اس عمل سے بڑی راہیں کھلتی ہیں۔ اب انصاف کریں کہ جب ایسے ہی وظائف جو نیک بزرگوں یا روحانی عاملوں کے تجربہ شدہ ہوں، اور وہ عبقری میں شائع ہو جائیں تو انہی وظائف پر خود ساختہ اور من گھڑت ہونے کے فیصلے صادر کر دیے جاتے ہیں، جبکہ تمام اکابر و اسلاف نے ساری عمر انہی وظائف پر عمل کرتے ہوئے اعمال سے بننے، اعمال سے بننے اور اعمال سے بننے کا پیغام دیا تھا۔ انہیں کیا خبر تھی کہ کل کو آنے والی نسلیں ہمارے مسنون و ماثور وظائف و عملیات پر بدعت کے فتوے لگانے لگ جائیں گے۔ افسوس۔۔۔ صدافسوس۔۔۔ ہم اپنے اکابر کی ترتیبِ زندگی سے کتنے ناواقف ہو گئے۔
