اُمّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچی کو دیکھا تو فرمایا: اسے فلاں سے جھاڑ پھونک کرواؤ، کیونکہ اسے جنات کی نظرِ بد لگی ہوئی ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: اس حدیث میں حضور ﷺ نے ”النظرة“ (نظرِ بد) کی بجائے ”سفعه“ لفظ ارشاد فرمایا ہے، جس کے متعلق چوٹی کے محدثین (حضرت حسین بن مسعود فراء اور امام بغوی رحمہما اللہ) کا اتفاق ہے کہ جہاں کہیں لفظ ”سفعه“ بولا جائے، وہاں انسانوں کی بجائے جنات کی نظرِ بد لگنے کا بیان ہوتا ہے۔ مشہورِ زمانہ کتاب آکام المرجان فی احکام الجان کے مصنف علامہ محمد بن عبداللہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نظرِ بد کا لگنا ہمیشہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک انسان کی نظرِ بد کا لگنا اور دوسرا جنات کی نظرِ بد کا لگنا۔ درج بالا حدیث کی شرح میں علمائے کرامؒ نے لکھا ہے کہ ’پھر اس بچی کا جھاڑ پھونک اور تعویذات کے ذریعے کرایا گیا اور دم کرنے والے نے بھی تصدیق کی کہ اس بچی کو جن کی نظرِ بد لگی ہوئی تھی۔ اگر مجھے نظرِ بد میں فرق کا علم نہ ہوتا تو میں اسے انسانوں کی نظرِ بد لگنے والا دم ہی کرتا رہتا۔
(بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 232 مصنف: خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: مکتبہ برکات المدینہ جامع مسجد بہارِ کراچی)
قارئین! امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ یہ حدیثِ مبارک اور اس کی تشریح پڑھ کے دل سے دعا نکلتی ہے کہ جنات کے پیدائشی دوست اور انسانوں کے حقیقی محسن علامہ لاہوتی پُراسرار ہی دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جو احادیث کا اتنی گہرائی سے مطالعہ کر کے انسانوں کو شریر جنات کے ظلم سے بچانے کیلئے ماہنامہ عبقری کے ذریعے ایسے انمول وظائف اور حفاظتی اعمال پھیلا رہے ہیں، جن کی برکت سے ماشاء اللہ لاکھوں لوگوں کی زندگی خوشیوں کا گہوارہ بن گئی ہے۔
