جامعہ بنوری ٹاؤن میں جنات کی شرارت

شیخ الحدیث حضرت مولانا جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نماز پڑھ کر نیوٹاؤن مسجد میں سو گیا۔ اس وقت مسجد بالکل خالی پڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے پاؤں ہلا رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ مدرسے کا کوئی ساتھی مجھے فٹ بال کھیلنے کیلئے اٹھا رہا ہوگا۔ لیکن کچھ دیر بعد کسی نے میری دونوں ٹانگیں پکڑ لیں اور مجھے گھسیٹتے ہوئے ایک دو صفیں پیچھے لے گیا۔ میں بیدار ہو کر دیکھنے لگا، لیکن گھسیٹنے والا کوئی بھی نظر نہ آیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ جنات ہیں۔ پس میں نے آواز لگائی کہ مجھے چھوڑ دو، میں آپ کی جگہ خالی کر دیتا ہوں۔ اس نے جونہی میری ٹانگیں چھوڑیں، تو میں ایسے بھاگا کہ مڑ کر پیچھے تک نہ دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی مسجد میں اکیلا سویا۔

اسی طرح شیخ الحدیث مولانا حبیب احمد صاحب نے بتایا کہ جب والد صاحب حج پر گئے تو پیچھے کسی جننی نے ہماری والدہ کی گود سے چھوٹی بہن کو چھینا اور بہت اوپر لے جا کر پھینک دیا۔ جس سے گرتے ہی وہ فوت ہو گئی.

محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں بھی جنات سے متعلق یہی سچے واقعات سالہا سال سے شائع ہو رہے ہیں۔ جن لوگوں کو شرح صدر حاصل ہے، وہ جانتے ہیں کہ جنات کے وجود کا انکار یا ان سے پہنچنے والے فائدے اور نقصانات کو من گھڑت کہانیاں کہہ کر ردّ کر دینا کسی بھی عقل مند مومن کی نشانی نہیں ہے۔ ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنات کی دنیا کو ہم نہیں جانتے_ ہمارا ان کے متعلق وہی عقیدہ ہے، جو ہمارے اکابر و اسلاف کا تھا۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026