(حافظ اویس محمود، جامعہ باب الاسلام، کراچی)
اللہ و نبی ﷺ کا ہے فرمان امن ہی دینِ اسلام
جو بھی لکھو پڑھو تم امن کا ہو ہر سو نام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
امن سے ہر صبح ہو امن سے ہی ہو ہر شام
امن ہو ہر دل کی چاہت امن ہر دل کا پیغام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
جسم و روح کا ہو جو درد ہر اک کو یہ دے آرام
لب پہ دعا ہے یہ ہر دم عبقری کا ہو فیض عام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
قلبِ سلیم پا لیں سب یہ ناچیز، ہر خاص و عام
اللہ والوں کا ہے سایہ رب کا ہے ایک خاص انعام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
خدمتِ خلق ان کا شیوہ، بانی ہوں یا ہوں خدام
ہر زباں، ہر دل میں یہ ”عبقری“ رب کا ہے کلام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
خیر و برکت ملے اسے کرے صلح رحمی و سلام
حسنِ خلق سے غیر ہوں اپنے دشمن بھی ہو جائیں رام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
کس کا ہم پر حق ہے کیسا کیسا رتبہ، کیا ہے مقام
رحمتِ الٰہی، سنتِ نبویؐ، اکابر و ولی و صحابہ کرامؓ
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
دارالتوبہ، تسبیح خانہ، در و محل و گوشہ درود و سلام
آؤ مل کر دعا کریں سب اللہ بخشے انھیں دوام
عبقری ہر دم تجھے سلام، امن ہی ہے تیرا پیغام
