از: حضرت شیخ محمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وقت اور تعداد مقرر کر کے وظیفہ پڑھنا بدعت ہے، انہیں غالباً یہ خبر نہیں ہے کہ ہمارے جن اکابر علمائے عظام نے ہمیں سنت اور بدعت کا فرق سمجھایا، حلال و حرام سکھایا، اور جائز و ناجائز کا حکم ہم تک پہنچایا، وہ تمام حضرات شریعت کی تمام احتیاطوں کو ہم سے زیادہ جانتے تھے۔ انہی معتبر ہستیوں میں سے ایک عظیم محدث حضرت شیخ محمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو درج ذیل اعمال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہر عمل اسی خاص وقت اور اسی خاص تعداد کے مطابق کیا جائے۔
عمل برائے استخارہ:
پندرہ مرتبہ درود شریف ابراہیمی پڑھ کر اس کا ثواب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی رُوحِ مبارک کو ہدیہ کرے، پھر گیارہ سو مرتبہ ”اَخْبِرْنِیْ بِحَالِیْ“ پڑھ کر سو جائے۔ لیکن یہ عمل صرف جمعرات کے دن کرے، اس سے پہلے غسل کرے اور خوشبو لگائے اور اس دن کا روزہ بھی رکھے۔
تمام مشکلات کے حل کیلئے:
ہر مشکل مہم کیلئے فجر کی سنت اور فرض کے درمیان چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنا بے حد مجرب ہے۔ جب آمین پر پہنچے تو تین مرتبہ آمین کہے۔
سات نسلوں تک رزق منتقل ہوگا:
جناب رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے کہ جس شخص کی روزی کا دروازہ تنگ ہو گیا ہو، اسے چاہئے کہ صبح و شام تین تین مرتبہ اس دعا کو پڑھے۔ اس عمل کا اثر یہ ہوگا کہ اس کی سات نسلیں مخلوق کی محتاج نہ ہوں گی۔ فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (سورہ جاثیہ 36)
(بحوالہ کتاب: عملیاتِ اکابر، صفحہ 22 مصنف: حاجی راؤ عبدالسلام رائے پوری، ناشر: مکتبہ سلطان عالمگیر 5 لوئر مال، شاہ نفیس میڈیکوز، لاہور)
