زندوں کو ایصال ثواب سے کیوں محروم رکھتے ہیں ۔۔۔؟
تسبیح خانہ لاہور کے عالمی روحانی پلیٹ فارم کا مقصد خیر خواہی اور بھلائی ہے جس میں مسلم، غیر مسلم، زندہ، مردہ، انسان، جنات حتیٰ کہ جانوروں تک کی خیر خواہی ہے اسی وجہ سے تسبیح خانہ سے ایک عمل جائز محبت کیلئے اکثر بیان کیا جاتا جس پر سینکڑوں مشاہدات شاہد ہیں وہ یہ کہ جب میاں، بیوی، یا کسی اور جائز رشتے میں ناچاقی ہو جائے تو اس شخص کو نفلی اعمال کا ہدیہ دینا شروع کر دیں اس کی برکت سے اس کا پتھر دل موم ہو جائے گا۔ اس پر کم علم رکھنے والے لوگ کہنے لگے کہ ایصالِ ثواب تو صرف مردوں کا کیا جاتا ہے زندوں کو ایصال تو ہوتا ہی نہیں تو ایسے لوگوں کیلئے ہم نہایت ہی معتمد دارالافتاؤں کے فتاویٰ جات پیش کرتے ہیں کہ ایصالِ ثواب مردوں کے ساتھ زندوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔
(1) نفلی اعمال کا ثواب جس طرح مردوں کو بخشا جا سکتا ہے، اسی طرح زندوں کو بھی نفلی اعمال کا ثواب بخشا جا سکتا ہے۔ ثواب پہنچانے کے لیے مُردوں کی تخصیص نہیں، لہٰذا قرآن مجید تلاوت کر کے اس کا ثواب زندہ اور مردوں دونوں کو پہنچانا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم
(فتویٰ نمبر: 144210200297 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، (جلد 7 / صفحہ 379) (کفایت المفتی جلد 4 / صفحہ 140 – آپ کے مسائل اور ان کا حل 4 / 425)
(2) ایصالِ ثواب مُردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ مُردوں کے ساتھ ساتھ زندہ لوگوں کو بھی نیک عمل کر کے ثواب پہنچایا جا سکتا ہے، عام طور پر مُردوں کے لیے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے۔ (شرح العقائد، ص: 172)۔
(شامی: 2/180 مطلب فی القراءۃ للمیت واھداء ثوابھا لہ)۔
(3) جو زندہ ہیں اُن کو بھی بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے اُن کو بھی پیشگی (ایڈوانس میں) ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔
(فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ، ص 12 تا 18 ماخوذاً ماہنامہ فیضانِ مدینہ بحوالہ رجب 1438۔ اپریل 2017)
(4) اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔
(دیکھئے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 24 / 366، بدائع الصنائع: 2 / 454 وغیرہ)۔
(5) فقہ شافعی کی کتابوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ اگر ان عبادات کو انجام دے کر آدمی یہ دعا کر لے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے، تو اس اعتبار سے انجام کار اس کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائے گا۔ (ماخوذ از کتاب النوازل: 6 / 264-266 ملخصاً)
(بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد 3)
یاد رکھیں تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔
