قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اہل حدیث بزرگ قدوۃ السالکین مولانا غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ سیالکوٹ کے گاؤں ستراہ سندھواں میں تشریف لے گئے تو پتہ چلا کہ وہاں کے نمبردار کا اکلوتا بیٹا فالج میں مبتلا ہے۔ وہ خوبصورت جوان اور خوش آواز تھا۔ نمبردار نے اس کا علاج بہت جگہوں سے کرایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ سب طبیبوں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا۔ نمبردار اپنے بیٹے کو لے کر مولانا غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے مریض سے فرمایا: السلام علیکم! تمہارا نام کیا ہے؟ جواب میں اس نے جو نام بتایا، اسے سن کر نمبردار کہنے لگا کہ یہ میرے بیٹے کا نام تو نہیں ہے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے کہ اسے جنّ کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا انہوں نے جنّ سے بات چیت شروع کر دی اور پوچھا کہ اس جوان کو کیوں پکڑا ہوا ہے؟ وہ جنّ بولا کہ ایک رات سحری کے وقت ہمارا گزر ان کے کھیتوں سے ہوا تو ہم وہاں ٹھہر گئے۔ یہ نوجوان اس وقت بیلوں کی مدد سے کنویں کا پانی نکال رہا تھا۔ اسی دوران اس نے نہایت خوش الحانی سے چند اشعار گنگنائے تو ہمارے بادشاہ کی بیٹی اس پر عاشق ہو گئی۔ شاہِ جنّات کو غیرت آئی اور اس نے مجھے حکم دے دیا کہ اس جوان پر مسلّط ہو جاؤ اور اس کا جسم سکھا سکھا کر اسے موت کے منہ میں دھکیل دو۔ اس لیے میں اپنے بادشاہ کی طرف سے مامور ہوں۔
مولانا غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا: اس وقت تمہارا بادشاہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: کشمیر میں۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے فوراً کچھ پڑھا تو شاہِ جنّات بھی حاضر ہو گیا اور مولانا غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ سے باتیں کرنے لگا۔ بالآخر اس جوان کو چھوڑنے پر راضی ہوا اور اپنے جنّ کو لے کر واپس چلا گیا۔
(بحوالہ کتاب: تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 286 مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹیؒ ناشر: مکتبہ سلفیہ، شیش محل روڈ لاہور)
محترم قارئین! جب تک کسی چیز کے نقصانات کا پتہ نہ ہو، تب تک احتیاط اور بچاؤ کی تدبیر نہیں کی جاتی۔ ماں اپنے بچے کو کہتی ہے: خبردار! زمین پر گری ہوئی ٹافی مت کھانا، کیونکہ اب اس پر جراثیم لگ چکے ہیں۔ اسی طرح جب تک ہمیں جنّات کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوں گی، تب تک ہم اپنا بچاؤ نہیں کر سکیں گے اور انجانے میں جنّات کے ان دیکھے جراثیم ہمارے ساتھ لگ کر ہمیں بیماریوں اور گناہوں میں مبتلا کرتے رہیں گے جیسا کہ درج بالا واقعے میں بتایا گیا ہے کہ اس خوبصورت نوجوان کے فالج کی اصل وجہ جنّات کا حملہ تھا۔
