تفسیر جلالین کے مصنف امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: شیخ عبداللہ بن حسین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ہم طرطوس میں گئے تو پتہ چلا کہ یہاں ایک عورت ہے، جس نے ان جنّات کو دیکھا ہوا ہے، جو حضور ﷺ کی خدمت میں وفد کی شکل میں گئے تھے۔ چنانچہ میں اس بوڑھی عورت کے پاس گیا تو وہ سر کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ کہنے لگی: مئوس! میں نے پوچھا: کیا تو نے جنّات کو دیکھا ہے؟ کہنے لگی: ہاں میں نے ان میں سے سمحج جنّ کو دیکھا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ حضور سرورِ کونین ﷺ نے میرا نام بدل کر عبداللہ رکھا تھا۔
پھر سمحج یعنی صحابی جنّ عبداللہؓ نے میرے سامنے ایک حدیث بیان کی کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیمار شخص کے پاس سورۂ یٰسین پڑھی جائے تو وہ موت کے وقت سیراب ہو کر مرتا ہے اور اپنی قبر میں بھی سیراب ہوگا اور یومِ قیامت بھی سیراب ہوگا (یعنی ان تینوں مقامات پر اسے پیاس نہیں لگے گی)
(بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، اردو ترجمہ: جنوں کے حالات، صفحہ 160 مصنف: امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: مکتبہ حنفیہ، گنج بخش روڈ لاہور)
قارئین! علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی فقہاء و محدثین کی لسٹ میں نہایت معتبر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں عام انسانوں کے ساتھ جنات کی ملاقات کے واقعات اتنے زیادہ بیان کیے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد ہر شخص پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے جنوں کے واقعات فی الحقیقت درست ہیں۔ اگر ہم ان واقعات کا انکار یا ان پر کوئی اعتراض کرتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اکابر کی زندگی میں سے ایک روشن پہلو کے منکر ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اکابر کی ترتیب کے مطابق قرآن و سنت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہو۔ آمین
