حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایسے وظائف جن میں تعداد اور وقت کا پابند ہونا لازم ہے

روزانہ بعد نمازِ عشاء اوّل آخر 11 بار درود شریف اور 11 تسبیح ’’يَا مُعِزُّ‘‘ پڑھ کر دعا کیا کرے۔ اس کے علاوہ یہ وظیفہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ: روزانہ بعد نمازِ عشاء اوّل آخر 7 مرتبہ درود شریف اور درمیان میں چودہ تسبیح اور چودہ دانے یعنی 1414 مرتبہ ’’يَا وَهَّابُ‘‘ پڑھ کر دعا کیا کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ برکت ملے گی۔

سورۂ مومنون کی آخری چار آیات ’’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا‘‘ سے ’’وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ‘‘ تک پڑھ کر مریض کے کان میں دم کرے اور پانی میں پڑھ کر بھی اس کو پلا دے۔ اس کے علاوہ سورۂ الطارق 7 مرتبہ پڑھ کر مریض کے کان میں دم کرنا، یا دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہنا بھی آسیب کو بھگا دیتا ہے۔

12 روز تک اس دعا کو روزانہ بارہ ہزار مرتبہ پڑھ کر دعا کیا کرے تو اگرچہ کیسا ہی مشکل کام کیوں نہ ہو، پورا ہو جائے گا! ان شاء اللہ۔ يَا بَدِيْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَيْرِ يَا بَدِيْعُ

بعد نمازِ عشاء سیاہ مرچ کے 11 دانے لے کر خاوند کے مہربان ہونے کا تصور کرتے ہوئے اوّل آخر درود شریف اور 11 تسبیح ’’يَا لَطِيْفُ يَا وَدُوْدُ‘‘ پڑھیں۔ پڑھنے کے بعد ان مرچوں پر دم کر کے انہیں تیز آگ میں جلا دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو ان شاء اللہ تعالیٰ خاوند مہربان ہو جائے گا۔ یہ عمل کم از کم 40 روز تک کریں۔

محترم قارئین! درج بالا چاروں اعمال میں وظیفہ پڑھتے ہوئے تعداد کی پابندی بھی لازم ہے اور وقت کا تعین بھی خاص ہے۔ جو حضرات اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری میں غیر مستند وظائف کی مقررہ تعداد اور متعین اوقات بھی خود ساختہ ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ حضرت حکیم الامتؒ کی تعلیمات پر غور کریں اور دیکھیں کہ موجودہ دور میں ’’عبقری‘‘ کیسے بہترین انداز سے مخلوقِ خدا کو اکابرینِ امت کے معمولات میں ڈھال رہا ہے۔ آج اس حقیقت کا پتہ چلا کہ جس طرح حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان مجرب وظائف کو غیر مستند، خود ساختہ اور من گھڑت نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح عبقری کے وظائف پر بھی یہ غلط اعتراض کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026