جو لوگ علامہ لاہوتی صاحب کے کالم ’’جنات کا پیدائشی دوست‘‘ میں کشف القبور کے ذریعے روحوں سے ملاقات کو دیومالائی اور ماورائی کہانی کہہ کر رَد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شاید ان کو پتہ نہیں کہ وہ اکابر کی کتنی روشن اور واضح زندگی سے پہلو تہی برت رہے ہیں، حتیٰ کہ ایسی بے جا تنقید اور اعتراض کے ذریعے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی ترتیبِ زندگی کو داغدار بنا رہے ہیں۔ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے کشف القبور کے واقعات کی تائید میں ایک روشن واقعہ پیشِ خدمت ہے۔
حضرت مولانا عبدالمالک صاحب صدیقی احمد پوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ قدوۃ السالکین، شیخ المشائخ حضرت خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان کے سفر میں دارالعلوم کے قبرستان تشریف لے گئے اور مولانا محمد قاسم، مفتی عزیز الرحمن اور شیخ الہند رحمہم اللہ کے مزارات کے قریب اپنی جماعت کے ہمراہ مراقبہ کیا۔ مراقبے میں خلافِ عادت کافی دیر تاخیر ہوئی۔ فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا: کچھ احوال عرض کروں؟ میں نے عرض کیا: جی حضرت! یہ جماعت علماء کی ہے، بینا جماعت ہے، یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے آج مراقبے میں دیکھا کہ ایک سرسبز میدان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز دہلوی، شاہ رفیع الدین دہلوی، مفتی عزیز الرحمن، شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب، حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری و غیرہم محدثین رحمہم اللہ نے حضور ﷺ سے مصافحہ کیا اور مجھے (مولانا فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کو) بھی مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمام حضرات محی السنّت ہیں۔ جب شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کو یہ بات پتا چلی تو بہت مسرور ہوئے کہ ہمیں شیخ وقت رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی دنیا کے عالم میں پتا چل گیا کہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف بارگاہِ رسالت ﷺ میں مقبول تھے۔
(بحوالہ کتاب: مقاماتِ فضلیہ ص 70، مصنف: حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی)
