حضرت عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نمازِ فجر کیلئے میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد میں گیا، تو اندر سے دروازہ بند تھا اور آپ رحمۃ اللہ علیہ دعا میں مشغول تھے۔ کچھ لوگوں کے آمین کہنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ شاید آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین ہوں گے، اس لیے باہر ہی ٹھہر گیا کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا اور میں نے اندر جا کر دیکھا تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ وہاں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے صورت حال دریافت کی تو فرمایا: میرے یہاں جنات آتے ہیں اور میں ان کے سامنے وعظ کہہ کے دعا کراتا ہوں، جس پر وہ سب آمین کہتے ہیں۔
(بحوالہ کتاب: تذکرہ الاولیاء صفحہ 30 مصنف: شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ ناشر: الحمد پبلی کیشنز، پرانی انارکلی لاہور)
محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق شریعت کے اس پہلو کو بیان کر رہا ہے، جس کا وجود بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ کی زندگی میں واضح تھا، مگر فتنوں بھرے دور میں جب کامل روحانی پیشواؤں کی قلت ہوئی تو طلسماتی اور جناتی دنیا کا یہ باب بھی بند ہو گیا۔ الحمد للہ یہ سعادت بھی عبقری کے حصے میں آئی کہ مخلوقِ خدا کو جہاں تسبیح، ذکر اور اعمال کی طرف واپس لوٹانے کی خدمت انجام دی، وہاں اکابر و اسلاف جیسے درست عقائد بھی دیے کہ ہماری کائنات میں انسانوں کے علاوہ جنات بھی موجود ہیں، جو ہمارے ساتھ اسی زمین پر رہتے اور دوسری مخلوقات کی طرح ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
