شیخ الحدیث قاری سیف اللہ عادل (سابق خطیب جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ) لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لا بأس بتعليق التعويذ من القرآن قبل نزول البلاء وبعد نزول البلاء یعنی قرآنی تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، چاہے آزمائش کے نازل ہونے سے پہلے ہو یا بعد میں (مسند احمد بروایت ابونعیم) امام حاکم نے مستدرک جلد 4 صفحہ 218 میں لکھا ہے کہ جو چیز بلا کے نازل ہونے کے بعد لٹکائی جائے وہ تمیمہ (ممنوعہ منکے) لٹکانے کے زمرے میں نہیں آتی۔ امام ذہبی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گزر ایک گائے کے قریب سے ہوا، جس کا بچہ پیٹ میں پھنس گیا تھا۔ وہ کہنے لگی: اے کلمۃ اللہ! میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس مصیبت سے نجات دے۔ آپ نے فرمایا: یا خالق النفس من النفس ويا مخلص النفس من النفس ويا مخرج النفس خلصها حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ دعا مانگنا تھا کہ بچہ اسی وقت باہر آ گیا۔ یہ واقعہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو عورت ولادت کی تنگی میں مبتلا ہو، فاكتبه لها: اس کیلئے ان کلمات کو لکھ دیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ گھبراہٹ کیلئے ان کلمات کا حکم فرماتے: اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ان کلمات کا تعویذ لکھ کر بچوں کے گلے میں لٹکاتے تھے (امام حاکم نے اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے)
امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے ”يكتب العواذة“ یعنی وہ تعویذ لکھتے تھے۔ اسی طرح امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں جنات سے نجات کیلئے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کے تعویذ کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس حدیث کی مختلف سندیں ہیں، جن میں سے بعض میں ضعف ہے، جس کی وجہ سے اسے موضوع (من گھڑت) کہا گیا ہے جبکہ باقی تمام سندوں میں کوئی ضعف نہیں۔
(بحوالہ کتاب: روحانی علاج کا طریقہ کار، مصنف: شیخ الحدیث قاری محمد سیف اللہ عادل ناشر: مسجد مبارک اہل حدیث، آبادی حاکم رائے، گوجرانوالہ)
