حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز مولانا محمد یوسف متالا مدظلہٗ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت! آپ ہمارے یہاں انگلینڈ سے ہوتے ہوئے ہندوستان چلے جائیے گا۔ فرمایا: تمہیں تو پتہ ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں رکھتا۔ فیصلہ وہاں سے ہوتا ہے اس لیے مجھے کہنے کی بجائے حضور ﷺ سے عرض کرو۔ چنانچہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہوئی کہ حضور ﷺ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ انگلینڈ کا سفر فرما رہے ہیں۔ یہ چیزیں ان حضرات کو اللہ جل شانہٗ کی بارگاہ میں محبوبیت کے بدلے انعام کے طور پر ملتی ہیں۔
شیخ ابوالحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: اگر میرے اور سرورِ دو عالم ﷺ کے درمیان ایک لمحے کا بھی حجاب ہو جائے اور میں آپ ﷺ کی زیارت سے محروم رہوں تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں گا۔ اسی طرح حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ گفتگو فرما رہے تھے کہ میرے اوپر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ میں نے اپنا کوئی کام حضور ﷺ سے پوچھے بغیر نہیں کیا۔ اس لیے میں اپنے طلباء کو کہا کرتا ہوں کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اکابرین کے حالات کیسے گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کس قدر نوازا تھا۔ یہی کتابیں اور احادیث پڑھ کر وہ کس مقام پر پہنچ جاتے تھے اور ان کے دلوں کو کس قدر صفاء قلب نصیب ہوتا تھا۔ حضرت سائیں توکل شاہ صاحب انبالوی رحمۃ اللہ علیہ بالکل اُمّی تھے مگر جب ان کے سامنے کاغذ پر قرآنی آیت یا حدیثِ نبوی ﷺ لکھ کر رکھی جاتی تو وہ بتا دیتے کہ یہ قرآن ہے اور یہ حدیث ہے۔ لوگوں نے اس فرق کا سبب پوچھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کلام سے ایک الگ قسم کا نور نکلتا ہے جبکہ حدیثِ نبوی ﷺ سے الگ قسم کا نور نکلتا دکھائی دیتا ہے اسی نور کے فرق سے میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ قرآن ہے یہ حدیث ہے اور یہ ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں۔
(بحوالہ کتاب: کرامات و کمالاتِ اولیاء صفحہ 176 مجموعہ ارشادات: شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف متالا، مکتبہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی 1)
