محترم قارئین! کچھ لوگ اپنی لاعلمی کی وجہ سے تسبیح خانے کے مختلف معمولات پر شک و شبہے کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ اللہ جل شانہٗ کے فضل سے تسبیح خانے کے ہر عمل کے پیچھے قرآن و سنت کی دلیل اور صحابہؓ و تابعینؒ، فقہاء و محدثین رحمہم اللہ اجمعین یعنی تمام اکابر و اسلاف سے ثبوت موجود ہے۔ اسی شک میں مبتلا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری تسبیح خانے میں جو ہر جمعرات خواتین کیلئے الگ درس کا انتظام ہوتا ہے، اس کا شریعت میں کیا ثبوت ہے؟ قارئین! دور جانے اور زیادہ دلائل پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں،،، ایسی مجالس جہاں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کا بیان ہو، ایسی محافل جہاں عشقِ مصطفیٰ ﷺ سکھایا جاتا ہو اور ایسی جگہیں جہاں آلِ رسول اور اصحابِ رسول ﷺ کی ترتیبِ زندگی کی طرف واپس لوٹنے کی دعوت دی جاتی ہو، بھلا کون کم نصیب ہوگا، جو ان پر اعتراض کرے گا؟
ابھی حال ہی میں 25 نومبر 2018ء کو جامعہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میں خواتین کیلئے ایک علمی تربیتی اور اصلاحی اجتماع کا باپرده انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کا ذوق و شوق دیدنی تھا۔ اجتماع کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی تمام نشست گاہیں پُر ہو چکی تھیں۔ اس اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، پھر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے بعد محترم مدیر جامعہ جناب مولانا محمد عتیق الرحمٰن صاحب کا اجتماع گاہ سے الگ بیٹھ کر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بیان ہوا۔ انہوں نے دیگر اہم باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ خواتین اپنے آپ کو اکیلی نہ سمجھیں، بلکہ عورت کی مثال ایک گھنے درخت جیسی ہے اور آنے والی نسلیں اسی درخت کی شاخیں ہیں۔ اگر وہ اپنے گھر اور اولاد کی تربیت شریعت کی روشنی میں کریں گی تو معاشرہ امن و ایمان کا گہوارہ بن جائے گا
(بحوالہ: ماہنامہ علم و عمل لاہور صفحہ 27 ایڈیٹر: مولانا محمد عتیق الرحمٰن صاحب، ناشر: جامعہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، گجومتا لاہور)
محترم قارئین! آپ جانتے ہوں گے کہ عبقری تسبیح خانے میں بھی اسی ترتیب پر عمل کیا جاتا ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ علیحدہ بلڈنگ میں تشریف فرما ہو کر اسپیکر کے ذریعے خواتین سے خطاب فرماتے ہیں۔ بھلا جن کی تربیت کی برکت سے لاکھوں خواتین کو ایمان اعمال والی زندگی نصیب ہو رہی ہے، ان کے متعلق دل میں شک و شبہ لانا کیا معنی رکھتا ہے؟
