(شہیر احمد، متعلم جامعہ اشرفیہ، لاہور)
علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات میں بارہا حالتِ بیداری میں زیارتِ النبی ﷺ کا تذکرہ ملتا ہے ہمارے اکابر کی زندگی میں بھی بہت سے اس قسم کے واقعات ملتے ہیں چند ’اکابر پر اعتماد‘ کے دوستوں کی خدمت میں پیشِ خدمت ہیں:
(1) حضرت مولانا عبیداللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ بانیٔ تبلیغ حضرت مولانا الیاسؒ کو نسبتِ حضوری حاصل تھی ایک مرتبہ خصوصی خدام کی مجلس میں فرمایا جب دل کو طلب ہوتی ہے سرکارِ دو جہاں ﷺ کی آنکھیں بند کرتے ہی زیارت ہو جاتی ہے۔
(بحوالہ کرامات و کمالاتِ اولیاء ج 1 ص 78، مجموعہ ارشادات شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا صاحب، ناشر: ازہر اکیڈمی لندن)
(2) حضرت مولانا فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادیؒ کے خاص خدام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپؒ فرمانے لگے یہ جنت ہے یہ جنت ہے چاروں سمت ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے اور فرمانے لگے حضرت رسولِ مقبول ﷺ تشریف لے کر آئے ہیں۔
(بحوالہ تذکرہ حضرت مولانا فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادیؒ، ص 89، مصنف: مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، ناشر: مجلسِ صحافت و نشریات لکھنؤ)
(3) قطبِ ربانی امام شعرانیؒ اپنی کتاب ’میزان‘ میں لکھتے ہیں کہ شیخ سید محمد بن زینؓ کو اکثر حالتِ بیداری میں آپ ﷺ کی زیارت ہو جایا کرتی تھی (بحوالہ براہینِ قاطعہ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، 222، ناشر: دارالاشاعت کراچی)
شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ محض دلیل و برہان سے نہیں بلکہ دیکھتی آنکھوں سے بیداری میں حضرت رسالت مآب ﷺ کی زیارتِ بابرکت سے مشرف ہوں اور یہ مقام تو میرے بہت سے بھائیوں کو بھی حاصل ہے جیسے شیخ سید احمد الرفاعیؒ اس دولتِ کبریٰ سے حالتِ بیداری میں مالامال ہوئے اور حضور ﷺ نے انہیں جنت کے تخت پر بٹھایا (سعادت دارین ج 2 ص 98)
محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے عبقری کا پیغام سارے عالم میں پھیل گیا اس کی وجہ مخلصین کا اخلاص اور اہل اللہ کی سرپرستی ہے جو لوگ اب تک اس ماحول سے دور ہیں ان سے گزارش ہے ضرور تسبیح خانہ لاہور میں ایک مرتبہ آ کر ماحول کو دیکھیں اللہ کریم کی عطا سے زندگی ایمان و سنت کے نور سے مزین اور اکابر کی محبت سے لبریز ہو جائے گی۔ انشاء اللہ
