بغیر شملہ کے عمامہ ۔ ۔ ۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہے

(مفتی محمد فرقان محمود، متخصص جامعہ بنوریہ، کراچی)

میں نے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی زندگی کا ایک ایک پہلو شریعت کے سانچے اور تعلیماتِ اکابرؒ کی طرزِ زندگی میں ڈھلا ہوا ہے۔ میں نے جہاں تک دیکھا آپ کی زندگی میں کوئی ایک پہلو بھی اکابر کی زندگی سے ہٹ کر نہیں پایا۔ عمامہ کے بارے میں موجود روایات پر تفصیلی نگاہ کرنے کے بعد علمائے کرام اور فقہائے عظام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عمامہ کا شملہ سننِ زوائد میں سے ہے یعنی شملہ کا رکھنا اور نہ رکھنا دونوں طرح ٹھیک اور جائز ہے ذیل کی تفصیل سے یہ بات آپ کو باآسانی سمجھ میں آ جائے گی : علمائے کرام فرماتے ہیں کہ شملہ چھوڑنے کی کوئی پابندی نہیں ہے اور شملہ ضروری نہیں ہے ۔

دارالافتاء بنوری ٹاؤن کے مفتیانِ کرام فرماتے ہیں کہ ”شملہ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے دونوں کے بارے میں کوئی پابندی نہیں، دونوں ہی طرز درست ہیں“، عمامہ کے کپڑے کے بارے میں کسی قسم کی تعیین احادیث میں وارد نہیں، جو کپڑا میسر ہو، عمامہ باندھا جا سکتا ہے۔ (فتویٰ نمبر: 143610200037)

شارحِ صحیح مسلم امام ابو زکریا محی الدین نووی رحمۃ اللہ اپنی کتاب ”المجموع شرح المہذب“ میں عمامہ کے شملے کے متعلق لکھتے ہیں کہ عمامہ شریف کا شملہ لٹکانا اور نہ لٹکانا دونوں برابر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے (یعنی نہ عمامہ کا شملہ لٹکانے میں کوئی کراہت ہے اور نہ ہی ترک کرنے میں کوئی کراہت ہے) (المجموع شرح المہذب، 4 / 457)

آپ ﷺ سے عمامہ کے دو شملے چھوڑنا، ایک شملہ چھوڑنا اور بغیر شملہ چھوڑے عمامہ باندھنا ہر طرح ثابت ہے، پس تینوں طریقوں پر عمامہ باندھنا مسنون ہوگا : وقد ثبت في السير بروايات صحيحة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرخي علامته أحيانا بين كتفيه وأحيانا يلبس العمامة من غير علامة فعلم أن الإتيان بكل واحد من تلك الأمور سنة (مرقاة :8 / 250 بحوالہ فتویٰ نمبر 9848)

حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شملہ لٹکانا مستحب اور سننِ زوائد (یعنی سنتِ غیر مؤکدہ) میں سے ہے۔ اسے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (کشف الالتباس في استحباب اللباس، ذکر شملہ، ص 39 ملخصاً)

حضرت مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: عمامہ کا شملہ رکھنا سنتِ عمامہ کی فرع اور سنتِ غیر مؤکدہ ہے۔ (یعنی ضروری نہیں ہے اگر کوئی شملہ نہ رکھے تو گناہ گار نہیں ہوتا) یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا : قَدْ ثَبَتَ فِي السِّيَرِ بِرِوَايَاتٍ صَحِيحَةٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرْخِي عَلَامَتَهُ أَحْيَانًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَحْيَانًا يَلْبَسُ الْعِمَامَةَ مِنْ غَيْرِ عَلَامَةٍ فَعُلِمَ أَنَّ الْإِتْيَانَ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْ تِلْكَ الْأُمُورِ سُنَّةٌ (یعنی) کتبِ سیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے بھی بغیر شملہ کے باندھتے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنت ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب اللباس، الفصل الثاني 8 / 146، تحت الحدیث : 4339)

عمامہ کی لمبائی ضرورت کے مطابق رکھ سکتے ہیں کوئی شرعی قید نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے عمامہ باندھنے کا کوئی طریقہ مختص نہیں فرمایا، لہذا جو مناسب ہو وہ طریقہ اپنا سکتے۔ (فتویٰ نمبر 4120)

محترم قارئین! ان گزارشات کے بعد یہ بات آپ بخوبی جان چکے ہوں گے شیخ الوظائف لباس تک کے معاملے میں اپنے اکابر کی تعلیمات پر سو فیصد کاربند ہیں تو دوسری چیزوں میں کیسے ان کی تعلیمات کو فراموش کر سکتے ہیں۔ شملے کے ساتھ یا بغیر شملے کے عمامہ پہننا دونوں طرح سے جائز ہے اور تعلیماتِ شریعت اور تعلیماتِ اکابر کے عین مطابق ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026