شیخ الوظائف نے 14 اکتوبر 2021ء بروز جمعرات تسبیح خانہ درس میں قصیدہ شیخ جامیؒ کا تذکرہ، کمالات اور فوائد بتائے تھے، وہ قصیدہ اور اس کا حوالہ قارئین کیلئے پیشِ خدمت ہے۔ مزید کمالات جاننے کیلئے 14 اکتوبر کا درس سننا ہرگز نہ بھولیں! مزید درس میں قصیدہ شیخ جامیؒ کے حوالے سے شیخ الوظائف نے جو واقعہ بتایا اس کا شارٹ کلپ بھی عبقری سوشل میڈیا پر ضرور دیکھیں۔ بعنوان ”قصیدہ شیخ جامیؒ (نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم) کے زندگی میں حیرت انگیز کمالات“
واقعہ: حضرت مولانا جامیؒ یہ نعت لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے، ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر اس نظم کو پڑھیں گے، چنانچہ جب حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو امیرِ مکہ نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کو (یعنی جامیؒ کو) مدینہ نہ آنے دیں، امیرِ مکہ نے ممانعت کر دی، مگر ان پر جذب و شوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آ رہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آ کر میرے روضہ پر کھڑے ہو کر پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو روضہ سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس سے فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز و اکرام کیا گیا۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہو کر نعت پڑھی تو دستِ مبارک باہر نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔
(فضائل درود شریف ص 117، مصنف: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ)

